ہمارے اس ملک کو آزادی حاصل ہوئے 73/سال ہو گئے، بریں بنا آج ملک کا ہر شہری بلا تفریق مذہب و ملت 74/ویں جشن آزادی کی خوشیاں منانے میں مگن ہے، اور مگن کیوں نہ ہو؟ آخر کار بےشمار جانیں اور بےحساب مال کا نذرانہ پیش کیا تھا ہمارے بڑوں نے حصول آزادی کی خاطر۔ اس لئے آزادی کے اس سنہری موقع پر ہر محب وطن اور جمہوریت پسند عوام کا جشن منانا یا باہمی طور پر خوشی و مسرت کے اس مبارک دن میں اس طرح کھل کر آزادی کے نغمے گانا یا اپنی آزادی کا اظہار کرنا تمام باشعور شہریوں کا جہاں جمہوری حق بنتا ہے وہیں ان پر یہ اخلاقی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس دن کی خاطر جان دینے والوں اور ملک دشمن عناصر جو تجارت کے بہانے ہمارے اس ملک میں داخل ہو کر سیاہ سفید کے بلا شرکت غیر مالک و قابض بن بیٹھے تھے، جو فطری عیاری و مکاری کو بروئے کار لاتے ہوئے پہلے اپنی دھاندلی میں مکمل کامیاب ہوئے اور بعد میں فخر و غرور میں ڈوب کر اپنی اس ناپاک حرکت و سازش کو دنیا والوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بیان کر رہے تھے اور پوری ہمت و جسارت کے ساتھ کہتے تھے کہ:
"روئے زمین پر ہم ہی ایسے حکمراں ہیں جن کی حکومت کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا”۔
چنانچہ اس وقت ہمارے اکابر و بزرگوں نے ان کے اس غرور و تکبر کو چکنا چور کرنے اور ان کے ناپاک عزائم کو ملیا میٹ کرنے کےلئے کم و بیش دو صدیوں تک مسلسل ان سے لوہا لیا اور وقت نے اس وقت ان سے جس چیز کا مطالبہ کیا ہمارے اکابرین نے اسے پیش کرنے سے گریز نہیں کیا۔ یہی سب بتانے اور بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ اور آج ملک و ملت کے سامنے جو چیلینج سر ابھار رہے ہیں ان تمام سے باخبر کرنے کےلئے بڑے پیمانے پر عوامی پروگرام منعقد کئے جائیں اور دوران خطاب عوام کو یہ بتایا جائے کہ جو لوگ طاقت و اقتدار کے نشہ میں چور ہیں اور وقفے وقفے سے وہ ملکی آئین و دستور کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں وہ اس بات کو فراموش کر بیٹھے ہیں کہ ہمارے اکابرین و مجاہدین نے اس وقت کس طرح فولادی قوت سے لیس قوم کو ملک بدر کرنے اور ان کے ناپاک جسم و ارادوں سے وطن عزیز کے سینے کو پاک صاف کرانے میں اہم کردار نبھایا تھا، بےنظیر و بےمثال قربانیاں پیش کرنے والوں کی کیا کیا اور کیسی کیسی عظیم خدمات ہیں جن کو آج کے متعصب ذہن اور تشدد پسندوں نے تاریخ کے اوراق سے خارج کر رکھا ہے؟ ایسے میں ہمارا یہ فریضہ بنتا ہے کہ ہم ان تمام مجاہدین آزادی اور جاں نثاران وطن کو سلامی پیش کریں اور اسی دوران عزم و استقلال اور جاں فروشی کے پیکر ان مجاہدین آزادی کی مختصر سوانح حیات پر بھی روشنی ڈالیں جس سے کہ ان کے پختہ عزم و حوصلہ اور ان کے بلند تخیلات کی نمائندگی ہوتی ہو اور "تن کے گورے من کے کالوں” سے جس اعلیٰ پیمانے اور منظم انداز سے وہ روبرو ہوتے تھے؛ وہ تمام حقائق و ذرائع جہاں ایک طرف ان سے پردہ اٹھے اور وہ کھل کر قوم کے سامنے آئیں وہیں دوسری طرف ان کو دہرا کر نسل نو کو واقف ہونے کا بھی موقع میسر آئے، نیز اس بات سے بھی شناسائی ہو سکے کہ ہمارے اس ملک کا آئین و دستور کس طرح سے ایک عام آدمی کو اس کی زندگی کے مختلف مواقع پر مذہبی و سماجی رسوم کی ادائیگی میں اجازت فراہم کرتا ہے؛ ان سب سے عوام و خواص کو روشناس و متعارف کرانا آج کے مقررین و مبلغین کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اس لئے کہ ہر نکلتے دن کے ساتھ ملک کے آئین و دستور میں ترمیم کی جا رہی ہے، اکثریتی طبقے کی خوشنودی کو بروئے کار لاتے ہوئے اقلیتوں کو ان کے واجب حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے اور ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جس سے کہ ایک بار پھر سے اس ملک کے عوام کو آزاد فضا میں سانس لینے پر پابندی عائد کر دی جائے اور ان کے تمام تر شہری حقوق سلب کرنے کے بعد منواسمرتی کی
تجدید اور ایک بالغ جمہوریت کو ختم کر اس کی جگہ ہندوراشٹر لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اسی دوران عوام کے دل و دماغ میں دین سے ثابت شدہ اس روح اور حقیقت کو پیوست کیا جائے کہ:
"آزادی غلامی کی ضد ہے، اس کی قدر و قیمت کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جنہوں نے دور غلامی کو قریب سے دیکھا ہو یا پھر غلامی کے ایام میں زندگی گزر بسر کی ہو، عوام کو ذہن نشیں کرایا جائے کہ آزادی انسان ہی نہیں بلکہ ہر جاندار کا فطری اور پیدائشی حق ہوتا ہے، لہذا جو بھی ان کی آزادی کو ان سے سلب کرنا چاہےگا وہ در اصل ان کو ان کے اس پیدائشی حق سے محروم کرنا چاہےگا، اور یہ طے ہے کہ کسی کو بھی اس کے پیدائشی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور اگر کوئی ریاست و مملکت طاقت کے بل بوتے ایسا کریں گی وہ دراصل اپنے شہریوں کے فطری تقاضوں اور پیدائشی حق چھین کر اس پر ظلم و ستم کا بازار گرم کرنا چاہتی ہیں، جس کی نہ تو تائید و توثیق کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی صورت برداشت کیا جاسکتا ہے”۔
واعظین و خطباء کے ساتھ وہ افراد بھی جشن آزادی کے اس موقع پر بڑے پیمانے پر عوام کے سامنے میدان میں آئیں جو موجودہ حالات میں تحقیقی ایجینسیوں اور حکومتی اداروں کے کام کاز پر عقابی نظر اور مضبوط پکڑ رکھتے ہیں، ایسے افراد بھی آج کے ناگفتہ حالات، حکمرانوں کی بددیانتی اور سیاسی جماعتوں کی ملی بھگت کو عوام کے سامنے لائیں اور انہیں کی روشنی میں "آزادی و غلامی” کے ان دو لفظوں کی حقیقت و مفہوم سے عوام کو واقف و باخبر کریں، اور مسلم عوام کے اندر اس بات کا احساس و شعور پیدا کریں کہ اس ملک کو آزادی دلانے میں ہمارے بزرگوں کی قربانیاں کسے سے کم نہیں ہیں، بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ دیگر مذہب و ملت سے تعلق رکھنے والوں کا جس درجے میں پسینہ بھی نہ بہا ہوگا اس سے کہیں زیادہ مقدار اور بڑے درجے میں صرف ہمارے علماء کرام نے اپنا خون جگر بہا کر اس ملک کی دھرتی کو لال کیا ہے، دلائل و شواہد کی روشنی میں علی الاعلان  قوم کو بتایا جائے کہ انگریز حکمرانوں کو ملک بدر کرنے اور ان کے ساتھ جہاد کا فتوی دے کر ہمارے ہی علماء کرام نے علم جہاد بلند کیا تھا، قوم کو بتایا جائے کہ جنگ آزادی کے اس طویل عرصے میں کم و بیش پچاس لاکھ علماء کرام کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا تھا اور قتل کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود اس ملک کی  دوسری سب سے بڑی اکثریت کو آج جس مقام پر کھڑا کر دیا گیا ہے اس مقام پر افسوس اور حسرت و ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا، اسی وجہ سے آج کے تجزیہ کار اور تبصرہ نگار یہ کہنے کو مجبور ہیں کہ آزاد ہندوستان کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اگر مسلمانوں کی بابت یہ کہا جائے کہ: ان 74/سالوں میں "مسلمانوں نے کھویا تو بہت کچھ ہے مگر پایا بہت کم ہے” تو ان کا ایسا کہنا غلط اور بےجا نہیں ہے، اس لئے کبھی تو فرقہ وارانہ فسادات منظم طریقے پر کرا کر ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو نیست و نابود کیا گیا، کبھی ملک سے غداری کے نام پر فرضی مقدمات قائم کر سیکڑوں نوجوانوں کو قید سلاسل کیا گیا، جن کا بعد میں یا تو پتہ ہی نہ دیا یا پتہ دیا بھی تو اتنی تاخیر سے کہ عمر عزیز کا قیمتی حصہ اسی قید و بند کی نذر ہو گیا اور کبھی مسلمانوں کے آئینی حقوق پر شب خون مار کر انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانے کی تگ و دو کی گئی تو کبھی عدل و انصاف کی ترازو میں ڈنڈی ماری گئی تاکہ کوئی حق و صداقت کی لڑائی لڑنے کےلئے انصاف کے منادر میں دستک ہی نہ دے؛ تو کیا غلط کیا تھا ہمارے اکابرین اور علماء کرام و مجاہدین اسلام نے انگریزوں سے اس ملک کو اس معنی کر آزاد کرایا تھا کہ اپنے پیچھے آنے والوں کےلئے اپنے ہی برادران وطن سے ملک کی آزادی کےلئے ایک اور جنگ کرنا اور تقسیم شدہ ملک کو ایک اور تقسیم کے مرحلے سے گزارنا؟ نہیں ان کا یہ مقصد ہرگز ہرگز نہیں تھا بلکہ انہیں جتنی اس ملک کی آزادی پیاری تھی ویسے ہی اس ملک کے عوام پیارے تھے، جو ہر ایک کو اس کے مذہب و ملت سے مربوط رکھنا پسند کرتے تھے اور ہندو مسلم کو اس ملک کی دو خوبصورت آنکھوں سے تعبیر کرتے تھے۔ اور حقیقت میں یہ خوبصورتی ان کی اسی تعبیر میں پوشیدہ ہے ورنہ جس دن یہ دو خوبصورت آنکھیں اپنا وجود کھو بیٹھیں گی اس دن اس ملک کی خوبصورتی، ایکتا، سلامتی اور خوشحالی و ترقی پاش پاش ہو کر رہ جائےگی جس کی تمام تر ذمہ داری ہم پر نہیں بلکہ "منواسمرتی” کی تجدید کرنے والوں کی ہوگی۔