۷۲ویں یوم جمہوریہ کے پر مسرت موقع پرایس بیگم گرلس ھائی اسکول ناون خورد میں ثقافتی و دعائیہ پروگرام کا شاندار انعقاد

19
ایک خاتون کے تعلیم حاصل کرنے سے پورا کنبہ و سماج تعلیم یافتہ ہوتا ہے : مولانا عبد الحفیظ قاسمی گردھرپوری
(رپورٹ عقیل احمد خان) دھن گھٹا سنت کبیر نگر تحصیل دھن گھٹا حلقہ
واقع  ایس بیگم گرلس ہائی اسکول موضع ناون خرد سنت کبیر نگر کے بانی  حافظ محمد عالم سمیت درجنوں اساتذہ نے  یوم جمہوریہ کے جشن کے موقع پر  پرچم کشائی کی  اس  موقع پر اصلاح معاشرہ و تعیلم کی اہمیت کے عنوان سے منعقد پروگرام کے مہمان خصوصی مدرسہ عائشہ صدیقہ للبنات گردھر پور کے صدر مولانا عبد الحفیظ قاسمی گردھرپوری نے  اپنے خصوصی خطاب کے دروان اصلاح معاشرہ و  اعمال کے عنوان پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ معاشرہ کی اصلاح کا دار و مدار خواتین کے تعلیم یافتہ ہونے پر منحصر ہے ایک مرد کے تعلیم حاصل کرنے سے ایک فرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے لیکن ایک خاتون کے تعلیم حاصل کرنے سے پورا کنبہ و سماج تعلیم یافتہ ہوتا ہے لہذا ہمیں تعلیم نسواں کے تئیں بیداری کی ضرورت پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے،اور ہمیں تعلیم پر خصوصی توجہ دینے
اور اس کو پختگی کے ساتھ حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے،اسلام میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اسی سے ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی پہلی آیت میں تعلیم وتعلم کا ہی ذکر آیا ہے،کسی بھی قوم کی ترقی کا راز تعلیم ہی میں مضمر ہے،علم کے ذریعے سے انسان سرخرو ہوکر دوسرے لوگوں کو بھی اس سے بہرہ ور کرسکتا ہے،  مولانا قاسمی نے کہا کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے، ہر عمل کا حساب وکتاب ہوگا،اور ہر کام سے پہلے نیت نیک اور خالص کریں کہ جو بھی کام یا جو بھی تعلیم حاصل کررہے ہیں اس سے خدا کی مخلوق کو فائدہ پہنچائیں گے،اور نیک نیتی سے دین کے کام اور اس کی نشر واشاعت کریں گے ، اس لئے کہ انسان کی ایک ایک حرکات کو مامور فرشتے درج کر رہے ہیں،کہ ہمارا کون سا کام خلوص کے ساتھ بے اور کون سا ریا ونمود کا، مولانا نے صلہ رحمی پر بھی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ  مسلمانوں کے دلوں سے انسانی حقوق پامال ہوتے جارہے ہیں انھوں نے کہا کہ آج ہمارے معاشرے میں شدید اخلاقی انحطاط پایا جارہا ہے، لوگ جوق در جوق بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں۔لوگوں نے نیکی اور بدی، حلال اور حرام کی سمجھ بوجھ ر کھنا چھوڑ دیا ہے۔ آخر اس معاشرتی بگاڑ کی وجہ ہمیں غور کرنا ہوگا کہ کیا ہم بحیثیت مسلمان اپنا فرض اچھے طریقے سے ادا کررہے ہیں، کیا ہم اپنے نفس کا محاسبہ کررہے ہیں، کیا ہم سیدھے راستے پر ہیں، کیا ہم اپنے ماتحت اور اہل و عیال کی اصلاح کا ذریعہ بن رہے ہیں، کیا ہم اپنے حقوق اور فرائض اچھے طریقے سے ادا کررہے ہیں ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا،اور سماج کی اصلاح کی اپنے تئیں کوشش کرنی ہوگی،تبھی ہم ذمہ داری سے سبکدوش ہوسکتے ہیں،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح تعلیم ہے کہ برائی کو دیکھ کر اس کو مٹانے اور روکنے کی کوشش کرنی چاہئے خواہ وہ ہاتھ زبان یا دل کے ذریعے سے ہو،

منعقدہ پرگرام میں شریک ایس بیگم گرلس ھائی   اسکول کے بانی حافظ محمد عالم کی جانب سے گاؤں پنچائت ناون خرد کی سیکڑوں  بیوہ  خواتین  کی خدمت میں  بلا تفریق مذہب شال  اور  مصلی پیش کر حوصلہ افزائی کی گئی   حافظ محمد عالم کی اس قومی جذبے کے تحت علاقے میں سراہنا کی جارہی ہے عوام نے حافظ محمد عالم سمیت اسکول کے اساتذہ کو  دعاؤں سے نوازا  عوام نے کہا کہ منعقدہ پرگرام کے تحت اس  قومی جذبے کے ساتھ انسانی خدمت کرنے کی اسکول کے بانی نے اک نئی راہ دکھائی ہے جو قابل ستائش قدم  ہے  اسکول کے طلبہ و طالبات نے رنگا رنگ تقریب میں  ثقافتی پرگرام بھی  پیش کیا جو موجود سامعین کی توجہ کا مرکز بنا رہا  اس موقع پر شفیق احمد، پرینسپل پریتی یادو ،واجدہ خاتون ،فاطمہ خاتون، عشرت بانو، وجئے یادو محمد پردھان، محفوظ احمد صدیقی، محمد عمر، سمیت کثیر تعداد میں طلباء وطالبات و علاقے کی سرکردہ لوگ شریک رہے _