تحریک شیخ الہند ؒ تاریخ کے آئینے میں

38
1857کے جہاد آزادی میں شکست خوردگی نے مسلم عوام و خواص کی ہمت و شجاعت کو پست کر دیا تھا اور سفید فام انگریز کی ہیبت طاری تھی۔ لوگوں کے لیے ” آزادی” کا تلفظ کرنا خودکشی کے مرادف تھا، قوی وہیکل اور کمزور ہر ایک نے ظلم سے سلامتی کے لیے کاسہ لیسی کاطریقہ اپنا لیا تھا ؛لیکن یہ پرسوزحالات اور وحشت ناک مناظر بوریہ نشیں درویشوں کے قدم متزلزل نہیں کرپائے۔ انگریز ان کے شعلہ ہائے حریت اور جذبہ ہائے  آزادی کو دل سے نکالنے سے قاصر اور درماندہ  رہے جو1857میں قائدانہ رول ادا کیے تھے اور ظالم انگریز کو بھارت سے نکال باہر کرنے کاعزم مصمم کرچکے تھے۔ وہ چٹانی صلابت اور فولادی قوت کا مجسمہ ، اسلامی نیا کے کھیون ہار ، توکل علی اللہ اور صبر علی المصائب کے پیکرتھے۔ رات کی تاریکی میں بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہوکر دعاگو ہوتے اور دن کے اجالے میں زبان حال سے جرأت و بہادری کا بایں طور مظاہرہ کرتے کہ
باطل سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو  بار  کر  چکا  ہے  تو  امتحاں  ہمارا    (علامہ اقبال)
تحریک کی ابتدا:
        چنان چہ ١٨٥٧ء کی تلافی کے لیے؛ جس میں اسلامی تشخص ،تہذیب و ثقافت اور اسلامی درس گاہیں نیست و نابود کردی گئی تھیں ؛ ان بوریہ نشینوں نے ایک اچھوتے طریقہ سے فوجی تربیت گاہ کی بنیاد ڈالی ، جس پر علم کا لبادہ اوڑھا کر در پردہ ” آزادی ہند ” کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی جد و جہد شروع کر دی گئی۔ یہ ١٨٦٧ء کا زمانہ ہے، عیسائی مشنریوں کا ایک طوفان امڈتا چلا آرہا ہے ، انگریز چاک و چوبند ہر انقلابی تحریک اور سازش کو کچلنے کے لیے ہمہ تن مستعد ہے، انگریزی جاسوس ہرجگہ کان لگائے بیٹھا ہے ؛ لیکن مذکورہ کاروان مجاہدین پر اثراندازنہ ہوسکے۔
ثمرۃ التربیت:
ابھی قیام ” تحریک دارالعلوم ” کی دہائی مکمل ہی ہوئی تھی کہ ١٨٧٨ء میں اس عظیم مرکز کے اولین شاگرد مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ نے اپنے رفقا و احبا کے تعاون اور استاذ مکرم مجاہد آزادی کے اشارے پر ” ثمرۃ التربیت ” نامی ایک انجمن قائم کی، جس میں ان کے علاوہ اٹھارہ اور مرکزی ارکان تھے۔ اس انجمن کے مقصد اصلی کے سلسلے میں تحریک آزادی کے مؤرخ مولانا محمد میاں صاحب رحمہ اللہ چند واقعات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”بہرحال اس پس منظر کی بنا پر یہ کہنا بے جا نہیں کہ ‘ثمرۃ التربیت’ سے صرف فضلا و متبعین دارالعلوم کی تنظیم مقصود نہیں تھی بلکہ در اصل مقصد ایسے باحوصلہ افراد کی تنظیم تھی جو قیام دارالعلوم کے مقصد ” ١٨٥٧ء کی تلافی ”  کے سلسلے میں کام کرسکیں۔ لیکن اس عظیم انجمن کے قیام کے چند ہی دنوں بعد حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اورثمرۃ التربیت کی تمام تر ذمہ داریاں شیخ الہند مولانامحمودحسن دیوبندی رحمہ اللہ کے کاندھوں پر آن پڑی۔
      چنان چہ آپ اس مشن کی تکمیل کے لیے پیہم کوشاں رہے اور مسلسل تیس برس تک یہ انجمن نہایت رازداری کے ساتھ اپنے مقصد و منزل کی جانب رواں دواں رہی اور جذبات حریت بھڑکاتی رہی۔ اس انجمن کی سرگرمیاں اگرچہ دھیمی نظر آتی تھیں مگر معاملہ برعکس تھا۔ آپ کے جتنے شاگرد فارغ ہوکر نکلتے ، ہر ایک میں جذبہ جہاد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ، ہر فرد ایک جماعت تھا، جو اپنے علاقے میں جاکر لوگوں کے دلوں میں آزادی کی چنگاری کو اپنے شعلہ نوا خطاب سے بھڑکاتا رہتا ۔ اور یہ تحریک آزاد قبائل میں زوروں پر تھی ؛لیکن نہایت رازداری کے ساتھ ؛ اس لیے کہ شیخ الہند رحمہ اللہ اپنے جاں نثار شاگردوں کو کثرت سے اس علاقے میں روانہ کر رہے تھے ۔ چنانچہ انھوں نے مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کو ۔۔۔۔۔۔ جو ١٣٠٨ھ میں فارغ ہوکر اپنے وطن لوٹ گئے تھے اور وہاں کی سرگرم تحریک ”تحریک حریت” کے ساتھ شامل ہوگئے تھے ، جس کی قیادت سندھ کے عظیم المرتبت بزرگ خلیفہ غلام محمد دین پوری کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ طلب فرمایا اور علمی کام کے ساتھ حالات کے پیش نظر سیاسی کام کی تلقین کی اور اپنی تحریک کا ایک رکن بنا لیا۔ اس کے بعد مولانا سندھیؒ جب ١٣١٠ھ میں وطن پہنچے تو اپنے سیاسی کام کا آغاز ”دارالارشاد” نامی ایک مدرسہ کے قیام سے کیا ، پھر انھوں نے تحریک حریت کو ” تحریک شیخ الہند ” کے ساتھ مربوط کرکے شیخ الہند رحمہ اللہ کو زبردست سیاسی قوت سے ہمکنار کیا ۔
جمعیۃ الانصار:
      اب تک سارے امور خفیہ طور پر جاری تھے ؛ لیکن ایک ہمہ گیر نظام کاخاکہ تیار کرکے اسے منظر عام پر لانے کا تہیہ کیا گیا اور رمضان ١٣٣٧ھ مطابق ١٩٠٩ء میں اسی انجمن ”ثمرۃ التربیت” کو نیا لیبل دے کر ”جمعیۃ الانصار ” کے نام سے سامنے لایا گیا ، جس کی مقبولیت بھی اسی طرح ہمہ گیر ہوئی ۔ اس اہم ترین جماعت کی قیادت کی ذمہ داری حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ نے مولانا عبید اللہ سندھی ؒ کو سندھ سے بلاکر سونپی۔ خود مولانا عبید اللہ سندھی ؒ اپنی ذاتی ڈائری ص: ٢٠ پر رقم طراز ہیں: ” ١٩٠٩ء میں حضرت شیخ الہند ؒ نے مجھے دیوبند طلب فرمایا اور مفصل حالات سن کر دیوبند رہ کر کام کرنے کاحکم دیا اور فرمایا کہ اس کے ساتھ سندھ کا تعلق بھی قائم رہے گا، چار سال تک جمعیۃ الانصار میں کام کرتا رہا ۔”
       یہ تحریک یا تنظیم چوں کہ عام لوگوں کے لیے جدید تھی ، اس لیے اس کو لوگوں میں متعارف کرانے کے لیے دارالعلوم کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ دستاربندی کے انعقاد کافیصلہ کیا گیا۔ یہ عظیم اجتماع ١٩١٠ء میں منعقد ہوا ، جس میں ہر طبقہ کے تقریبا 30 ہزار افراد نے شرکت کی ، البتہ ثمرۃ التربیت سے منسلک افراد معتدبہ تعداد میں تھے اور سندھی تحریک آزادی کے قائدین میں خواجہ غلام محمد دین پوری بھی موجود تھے ۔ اس کے بعد ١٩١١ء میں مرادآباد شہر میں مولانا احمد حسن ؒ کی صدارت میں باقاعدہ جلسے کا انعقاد ہوا اور پھر ملک کے مختلف حصوں میں تقریبا نصف درجن جلسے ہوئے۔ ان پروگراموں کے ذریعہ عوامی رابطہ گہرا ہوا اور تعلق کافی حد تک بڑھ گیا اور مسلم سیاست میں حرکت پیدا ہوگئی جو ایک عرصہ سے ماند پڑ گئی تھی ۔ تقریبا چار برس تک یہ انجمن باقاعدگی کے ساتھ اپنے کاموں کو انجام دیتی رہی ؛ لیکن انگریزی حکومت کے کان اس نئی تحریک سے کھڑے ہونے لگے کہ اس تنظیم کا قائد شیخ الہند ؒ اسی مرد مجاہد کا تربیت یافتہ ہے جس نے انگریزی افواج کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کر دیا تھا ۔ اور حکومت کو علم ہوچکا تھا کہ یہ تحریک چلتی رہی تو مستقبل میں انگریز کو بھارت سے در بدر ہونا پڑے گا۔ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کو ان باتوں سے آگاہی ہوتی رہتی تھی ؛اس لیے ان کو حکومت کی جانب سے خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس وجہ سے بغاوت اور سازش کے الزام میں دارالعلوم انگریز کا ہدف نہ بن جائے۔
نظارۃ المعارف:
آپ نے اس کام کو ہند سیاسی مرکز دہلی منتقل کر دیا ۔مولانا عبید اللہ سندھی ؒ نے وہاں پہنچ کر ” نظارۃ المعارف ” نام سے ایک مدرسے کی بنیاد رکھی جہاں جدید تعلیم یافتہ افراد کی تربیت ہوتی تھی۔ تحریک آزادی کے مورخ مولانا محمد میاں لکھتے ہیں: ”یہ مدرسہ درد مندان حریت کے لیے جائے اطمینان اور آزادی کے مجاہدوں کے لیے خفیہ مشورہ گاہ تھا۔” انجمن کی منتقلی سے حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کا دوسرا مقصد دہلی کے بارسوخ اوراہم لیڈران سے مولانا سندھیؒ کا تعارف کرانا تھا۔ چنان چہ حضرت شیخ الہندؒ دہلی تشریف لاکر ڈاکٹر انصاری اور مولاناابوالکلام آزاد وغیرہ سے ان کا تعارف کروائے۔
تحریک کا دائرہ کار اور اہم مراکز:
      آزادی کا منصوبہ ستم گر انگریز کے مقابل تھا جو اسلحہ سے لیس اور ذہین و شاطر تھا ؛ اس لیے حریت کے منصوبے میں کامیابی کے لیے ضروری تھا کہ بیرون ملک کے ماحول اور اس کی فضا  کو اپنا ہم خیال بنایا جائے اور اندرون ملک بغاوت کی آگ بھڑکائی جائے اورخارجی طاقت سے انگریزی فوج کو پسپا کر دیا جائے ۔ جنگی وسائل کی فراہمی کا مسئلہ بھی اہم ترین تھا ، اس کے لیے آپ نے خفیہ اسلحہ کارخانے بھی قائم کر دیئے تھے اور اس کے لیے حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ نے کراچی ، سندھ اور آزاد قبائل کے اہم مراکز کا انتخاب کیا تھا جہاں ان چیزوں کی تیاری تیزی سے جاری تھی ۔ آپ نے اندرون ملک بغاوت کے لیے ایک ہیڈکوارٹر اور نو ذیلی مراکز قائم کیے , جن پر اپنے اولو العزم شاگردوں کو مامور کیا جب کہ  بیرون ملک میں اپنا حامی بنانے کے لیے پانچ اہم مراکز قائم کیے جن کاہیڈکوارٹر کابل (افغانستان ) تھا , جہاں مولاناسندھی ؒ اور راجہ پرتاب مامور تھے ۔ تقریبا دنیا کی پوری اسلامی حکومت اور مسلم عوام میں اس تحریک کی سرگرمی جاری تھی ۔اہم مراکز میں یاغستان، چکواں(جہلم), کھڈا کراچی، امروٹ شریف ، دین پور ، دہلی اور دیوبند قابل ذکر ہیں ۔ ہر ایک مقام کی الگ الگ تفصیل بیان کرنے کی یہاں گنجائش نہیں صرف ان چند مقامات سے اندازہ لگ گیا ہوگا کہ اس تحریک کا دائرہ کتنا وسیع تر تھا, جہاں حضرت شیخ الہندؒ کے انقلابی شاگرد اپنے کاموں اور اپنی ڈیوٹی پر مسلسل لگے ہوئے تھے۔
منصوبے میں تبدیلی:
ادھر حضر ت شیخ الہند رحمہ اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ حالات سازگار ہونے تک تحریک کاعمل زوروں پر نہ ہو بلکہ کارکنان اپنی اپنی جگہ تربیتی کیمپ قائم کریں ، جس میں علم کے در پردہ شرکاء کو جذبہ حریت سے سرشار کریں ، فضا سازگار ہوجائے اور چہارجانب سے امید حمایت بھی قطعی ہو جائے ، تو اچانک پورے بھارت میں بغاوت کی لہر دوڑا دی جائے اور دیگر ملکوں کی مدد سے یاغستان علاقے کی طرف سے شب خوں مارا جائے ۔ اس منصوبہ کے لیے ایک عرصہ درکار تھا ؛ لیکن حالات کی کربناک رفتار اور حوادث کے ہجوم نے پیمانہ صبر لبریز کردیا ، ادھر پہلی جنگ عظیم کے شروع ہوجانے اور مسلمانوں کے ناگفتہ بہ حالات کی وجہ سے پہلے منصوبہ کو ختم کرکے اچانک سر بکف میدان میں نکلنا پڑا کہ انگریز کو کسی بھی نوعیت سے ایذا پہنچانا ضروری ہے ، چنانچہ آپ نے تحریک جہاد آزادی کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت شیخ الہند ؒ نے اس فیصلے پر چشم زدن عمل کرتے ہوئے ١٩١٤ء میں مولانا سیف الرحمن کابلی کو پشاور روانہ کیا اور حاجی مرنگ زئی سے مل کر ان کو ساتھ لیتے ہوئے یاغستان کی ہجرت کاحکم دیا اور فرمایا: ” اب سکون سے کام کرنے کاوقت نہیں ؛ بلکہ میدان میں آجانا اور سر بکف ہو کر کام شروع کر دینا از بس ضروری ہے ۔” لہذا ان دونوں حضرات کی قیادت میں انگریز کے خلاف جہاد کا آغاز ہوا ۔ مجاہدین نے مقابلے میں جان کی بازیاں لگادیں اور ہر موڑ پر فتح یاب ہوئے اور دشمن کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ اس طرح مخالف طاقتوں کی دھجیاں اڑا دی گئیں مگر بعد میں چل کر اس محاذ آرائی کو ملتوی کر دینا پڑا اور جہاد کی برق رفتاری میں قدرے تخفیف کر دینی پڑی ۔ اگر رسد و اسلحہ وغیرہ کی فراوانی ہوتی تو اس دن کا منہ نہ دیکھنا پڑتا کہ یوں ہی ہنگامہ آرائی کے بعد اپنے جوش مارتے ہوئے خونوں کو سرد پڑنے دیں ۔
مولانا سندھیؒ کا سفرِ کابل:
    حضرت شیخ الہند ؒ نے بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لیے مولانا سندھی ؒ کو کابل روانہ کیا تاکہ آزاد قبائل کو سفید فام انگریز سے نبرد آزما ہونے پر آمادی کریں ۔ اس کے لیے مولانا سندھی ؒ کو بغیر کوئی تفصیل بتائے روانہ کردیا۔ مولاناسندھی ؒ خود ذاتی ڈائری میں لکھتے ہیں : ” ١٩١٥ء میں شیخ الہند ؒ کے حکم سے کابل گیا، مجھے کوئی تفصیلی پروگرام نہیں بتایا گیا تھا ، اس لیے میری طبیعت اس ہجرت کو پسند نہیں کرتی تھی ؛ لیکن تعمیل حکم کے لیے جانا ضروری تھا ، خدا نے اپنے فضل و کرم سے نکلنے کاراستہ صاف کردیا اور میں افغانستان پہنچ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کابل جاکر مجھے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ الہند ؒ جس جماعت کے نمائندہ تھے ، اس کی پچاس سال کی محنتوں کا حاصل میرے سامنے غیر منظم شکل میں موجود ہے ، ان کو میرے جیسے ایک خادم شیخ الہندؒ کی اشد ضرورت ہے ۔ اب مجھے اس ہجرت اور شیخ الہند ؒ کے انتخاب پر فخر ہونے لگا ۔” مولانا سندھی ؒ کابل پہنچ کر سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ، اگرچہ مصائب قدم قدم پر سد راہ بنے مگر آپ نے صبر و شکیب کے دامن کو اپنے ہاتھوں سے چھوٹنے نہیں دیا ، یہاں آپ کی بے شمار اہم خدمات ہیں انہی میں سے یہ ہے کہ آپ نے ” ترکی جرمن مشن ” کو ہندوستان کی آزادی کے لیے ہموار کیا ، "حکومت موقتہ” کی صحیح رہنمائی کی ، "جنود اللہ” نامی ایک فوجی دستے کی تشکیل کی اور اس فوجی دستے کے کمانڈر اور سپہ سالار حضرت شیخ الہندؒ منتخب ہوئے اور ہیڈکوارٹر مدینہ منورہ کو قرار دیا ۔ اور متعدد تحریک کے ممبروں کو اس کے مناسب عہدے دیئے ۔
حضرت شیخ الہندؒ حجاز میں:
ادھر بھارت میں حضرت شیخ الہندؒ کی سرگرمیوں سے ایوان حکومت لرز اٹھا تھا ، کارکنان کے دل دہل رہے تھے ۔ اور گرفتار یاں شروع ہوگئی تھیں ۔ آپ نے مناسب سمجھا کہ حکومت برطانیہ کی زد میں آنے سے دور ہوجائیں ، حسن اتفاق حج کا زمانہ تھا ، اسی بہانے آپ اپنے چند رفقاء کے ساتھ حجاز کے لیے روانہ ہوگئے ۔ ٩/ اکتوبر ١٩١٠ء میں مکہ معظمہ پہنچ گئے اور گورنرحجاز غالب پاشا سے ملاقاتیں کی اور ہندوستان کی اندرونی صورت حال سے آگاہ کر کے ان سے تین تحریریں حاصل کیں ۔
٭ پہلی تحریر مسلمانان ہندکے نام تھی، جس میں مسلمانان ہند کو ظلم پیشہ انگریز کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کی گئی تھی۔
٭ دوسری تحریر مدینہ منورہ کے گورنر بصری پاشا کے نام تھی ، جس میں حضرت والا کو استنبول پہنچا دیئے جانے کا حکم مرقوم تھا ۔
٭ تیسری تحریر وزیر جنگ انور پاشا کے نام تھی ، جس میں ان کے مطالبات پورے کیے جانے کا حکم تھا ۔
      اس کے علاوہ گورنر حجاز نے ہر ممکن حمایت کی تلقین کی اور خود اپنے کو اس تحریک میں شامل گردانا ۔ ان تینوں تحریروں میں پہلی تحریر ہندوستان کی تاریخ سیاست میں ”غالب نامہ ” سے مشہور ہوئی۔
انور پاشا اور جمال پاشا سے ملاقات:
       حضرت شیخ الہند ؒ مدینہ منورہ پہنچ کر استنبول جانے کی تیاری ہی میں تھے کہ وزیر جنگ ترک انور پاشا اور شامی محاذ کے سربراہ جمال پاشا کے مدینہ منورہ تشریف لانے کا تار آ گیا ۔ پھر آپ کی ان سے تخلیہ میں ملاقات اور باتیں ہوئیں ۔ جمال پاشا نے وہی باتیں دہرائی جو غالب پاشا کہہ چکے تھے ، نیز وعدہ کیا کہ شام سے ترکی عربی فارسی میں ایسی تحریرات روانہ کر دے گا جنھیں شائع کیا جائے ۔ حضرت شیخ الہندؒ بذات خود یاغستان پہنچنا چاہتے تھے مگر عراق میں جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے راستہ بند تھا ، اس لیے جمال پاشا نے معذرت کی , پھر آپ مکہ چلے آئے اور یاغستان جانے کے ارادے سے طائف روانہ ہوئے تاکہ غالب پاشا کی کچھ مدد حاصل ہو جائے ؛ لیکن اچانک والی مکہ شریف حسین نے انگریز سے ساز باز کر کے آپ کو طائف کے جیل خانے میں محصور کردیا جہاں سے کافی مشقتوں کے بعد چھٹ کر مکہ آئے ۔
غالب نامہ آزاد قبائل میں:
     ادھر مدینہ منورہ تشریف لے جانے سے قبل ہی احتیاط سے غالب پاشا کا پیغام ”غالب نامہ” ہندوستان کے راستے سرحد اور آزاد قبائل روانہ کرنے کا انتظام کیا اور اس کام کی ذمہ داری مولانا محمد میاں منصور انصاری ؒ کو سونپی اور ”غالب نامہ”ممبئی ، دہلی ہوتے ہوئے سرحد اور آزاد قبائل پہنچا جس سے مجاہدین آزادی کے جذبہ حریت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور انگریز کے طوق غلامی کو گردن سے اتار پھینکنے کا شعلہ بھڑکنے لگا ۔خان غازی کابلی کی تحقیق کے مطابق ایک تحریر شیخ الہندؒ کی ” حکومت موقتہ اور جنود ربانیہ” کے نام تھی ، جس میں حکم دیا گیا تھا کہ ١٩/ فروری ١٩١٧ء میں ذیل کے پروگرام پر عمل کریں ۔ یہ حکم ایک زعفرانی رنگ کے ریشمی رومال میں تھا:
(١) قلات ومکران کے قبائل ترکی فوج کی قیادت میں کراچی پرحملہ آور ہو !
(٢) غزنی اور قندھارکے قبائل ترک فوج کی مدد سے کوئٹہ پر یلغارکر دیں !
(٣) پشاور کے محاذ پر درخیبر کے مہمند اور آفریدی شینوازی قبائل حملہ آور ہوں !
(٤) اوگی کے محاذ پر کوہستانی قبائل کی امداد سے حملہ کیا جائے ۔
(٥) اس تاریخ کو ہندوستان میں آزادی کا پرچم لہرایا جائے !
افشاء راز:
        اس خط کے افغانستان موصول ہونے پر جب امیر حبیب اللہ خان نے مقررہ تاریخ ١٩/ فروری ١٩١٧ء کو دھاوا بولنے کی اجازت دے دی ، تو مولانا عبیداللہ سندھی ؒ نے مناسب سمجھا کہ اس کی اطلاع امیر تحریک شیخ الہند کو دے دی جائے ، تاکہ آئندہ مفید مشورے سے لائحہ عمل طے کیا جاسکے ۔ اس کے لیے مولانا سندھیؒ اور نصر اللہ خان نے مل کر ماہر اور تجربہ کار کاریگر سے ایک ریشمی رومال اس طرح بنوایا ، جس کی بناوٹ میں ”حکومت موقتہ اور جنودربانیہ ” کے تفصیلی حالات آگئے اورحملہ کرنے کی تاریخ بھی عربی زبان میں آگئی ۔ یاد رہے کہ اس رومال کی لمبائی اور چوڑائی ایک گز تھی ۔ پھر ١٠/ جولائی ١٩١٦ء میں یہ رومال عبد الحق نومسلم کے حوالے کیا گیا تاکہ وہ مولانا عبدالرحیم ؒ کے پاس پہنچا دیں ، پھر ان کے ذریعہ شیخ الہند ؒ تک پہنچ جائے ؛ لیکن کیا اسباب پیش آئے کہ انھوں نے وہ خط اپنے سابق اقارب نواز کے حوالے کر دیا جو انگریز کا کاسہ لیس تھا ، اور اس نے وہ خط برطانوی حکمراں ملتان ڈویزن کے کمشنر کے سپرد کردیا ۔ مطلع ہونے پر اس عجیب وغریب انکشافات سے قصر بکھگم تک ہل گیا ، پورے حکومت برطانیہ کے قلمرو میں زلزلہ آگیا ، حکام ششدر رہ گئے ۔ ان کے سی آئی ڈی بھی اپنی ناکامی پر حیران تھے ۔ اور تقدیر الہی دیکھئے کہ چند قدم کے فاصلے پر ہی منزل تھی کہ
قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند
دو  چار  ہاتھ   جب  کہ   لب  بام  رہ  گیا   (اقبال حسن خان)
گرفتاری کی آندھی چل پڑی:
        پھرکیاتھا ، گرفتاری کی تیز و تند ہوا چل پڑی ۔ حضرت شیخ الہندؒ اور ان کے ساتھ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ اور مولانا عزیر گل ؒ کو ترکی کے خلاف فتوی نہ دینے کو بہانہ بنا کر شریف حسین نے گرفتار کرایا ۔ ایک ماہ جدہ میں قید رہے , پھر ١٢/ جنوری ١٩١٧ء کو مصرکے جیل خانے میں منتقل کر دیئے گئے اور وہاں سے ١٦/ فروری ١٩١٧ء کو مالٹا میں جنگی قیدی کی حیثیت سے آہنی سلاخوں میں مقید کر دیئے گئے ۔ اسیران مالٹا نے قوم و وطن کے لیے جو رونگٹے کھڑے کر دینے والے مصائب جھیلے وہ تاریخ ہند کا ایک زریں باب ہے ۔ ادھر کابل میں مولانا سندھی ؒ اورتحریک کے کارکنان کو برطانوی احتجاج کی بناپر ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں بند کر دیا گیا ۔ جب امیر امان اللہ خان کی حکومت آئی تو رہائی ملی ۔ اور حضرت شیخ الہندؒ تین سال سات مہینے کی اسیری کے بعد ٨/ جون ١٩٢٠ء کو مالٹا جیل سے رہا ہوکر آئے ، پھر جمعیۃ علماء ہند اور انڈین نیشنل کانگریس کی رہنمائی کی ۔ اور رہائی کے صرف چھ ماہ بعد ٣/ نومبرکو سرخیل حریت , عظیم انقلابی لیڈر دار فانی سے یہ کہتے ہوئے رخصت ہوگئے کہ ”مرنے کا کچھ افسوس نہیں ،افسوس تو یہ ہے کہ بستر پر مر رہا ہوں ، تمنا تو یہ تھی کہ میدان جہاد ہوتا اور اعلائے کلمۃ اللہ کے جرم میں میرے ٹکڑے کیے جاتے۔”
تحریک شیخ الہند کا نتیجہ:
تحریک شیخ الہند اپنے مقصد کے حصول میں منزل کے قریب پہنچ کر بظاہر  شکست کھا گئی ۔ لیکن یہ تحریک اپنے نتائج کے اعتبار سے اگلی تحریکوں کے لیے مبادی تیار کرگئی ۔ کیوں کہ انقلابی تحریکوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ اعلی پیمانے کے انقلاب کے لیے کئی بار شکست کا سامنا کرنا کوئی بعید بات نہیں اس لیے کہ یہ چیز در اصل انقلابی تحریکوں کے لوازمات میں سے ہے ۔ چنانچہ مولانا عبیداللہ سندھی ؒ لکھتے ہیں: ” یہاں ایک خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم یہ شکست کیسے کھاگئے ؟ ہم اپنی پرانی ذہنیت سے اس شبہ سے ہمیشہ متاثر رہے ۔ اور رو کر ،کسی کو دو چار جلی کٹی سنا کر اپنا جی ٹھنڈا کر لیتے تھے ، مگر دوران سیاحت جب ہمیں یورپ کی انقلابی تحریکوں کے مطالعہ کا موقع ملا تو یہ اصول سمجھ میں آیا کہ ایک اعلی انقلاب کے لیے متعدد بار شکست کھانا چنداں بعید نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ چیز اصل میں انقلابی تحریک کے لوازم میں سے ہے ۔ اس کے بعد ہم مطمئن ہوگئے کہ اگر شاہ صاحب کی تحریک ایک بارشکست کھا گئی تو یہ حقیقت میں تحریک کی شکست نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم نے اپنے دیوبندی اساتذہ کے کام کو شاہ صاحب کی تحریک کا دوسرا دور قرار دیا۔ اس دوسرے دور کو ہم مولانا شیخ الہندؒ کی وفات پر ختم کرتے ہیں۔ اس دور میں بھی تحریک شکست کھا چکی ہے مگر وہ اپنے نتیجہ میں تیسرے دور کے لیے مبادی تیار کر گئی ہے ۔ اور میں اسی امید پر زندہ ہوں اور مجھے اس تحریک کی آخری کامیابی میں کسی قسم کا شبہ و تردد دامن گیر نہیں۔” چنانچہ مولاناسندھی ؒ کایہ خواب ١٩٤٧ء میں شرمندہ تعبیر ہوا اور بھارت انگریز کے طوق غلامی سے آزاد ہوا ؛ جس کو ایشیاء کا عظیم انقلابی لیڈڑ مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ نے اپنی دوربیں نگاہ و دل سے دیکھاتھا ۔خدارحمت کندایں عاشقان پاک طینت را
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔