مظفرپور کے مصراولیاء میں فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کی کوشش

29

مظفرپور،١٣/اگست(عبدالخالق قاسمی)جہاں ہندومسلم دونوں مذہب کے لوگ آپسی اتحاد و اتفاق اور بھائی چارہ کے ساتھ رہتے ہیں,یہاں کے ہندو مسلم سماج کے لوگوں نے یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو ہمیشہ برقرار رکھا ہے,ایک دوسرے کے خوشی اور غم میں شریک رہکر ایک مثال قائم کی ہے,اور دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہیکہ آپسی اتحاد و اتفاق میں ہی فلاح و بہبود کا راز پوشیدہ ہے,مگر دور حاضر میں آپسی اتحاد و اتفاق کا فقدان ہو گیا ہے,جب سے فرقہ پرست حکومت نے فرقہ واریت کا زہر ہر ہندوستانی برادران وطن کے ذہن میں گھولا ہے تب سے ملک کے حالات ناگفتہ بہ ہیں,عام طور پر تہوار کے موقع پر یہ چیز دیکھنے کو ملتی ہے,مظفرپور ضلع کے اورائی اسمبلی حلقہ کا زرخیز علاقہ مصراولیاء جہاں بزرگوں سادھو سنتوں نے پناہ لی اور یہاں کی فضاء کو اپنے کمالات سے منور کیا,

یہاں بدھ کو جنم اسٹمی کا تہوار لوگوں نے بڑے دھوم دھام سے منایا جہاں گانا بجانا اور ڈی جے کے ساتھ مورتی سرجن کو لیکر ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی اور حالات کو دھماکہ خیز بنایا گیا پولس پوری طرح جانبدار ہوکر حالات پر امن کے بجائے پر خطر بنانے کی کوشش کی جو انتہائی شرمناک ہے,رات کے 12 بجے جگولیا,مصراولیاء گاؤں میں پولس نے یکطرفہ مسلمانوں کی گرفتاری کی اور لاٹھی ڈنڈے بھی چلائے,حد تو یہ ہیکہ بے رحم خاکی وردی والوں نے بچے بوڑھے اور عورتوں کو بھی نہیں چھوڑا اور ان پر ظلم و بربریت کی انتہاء کردی ان کے گھر میں گھس کر رکھے سامان کو بھی توڑ پھوڑ دیا کوٹھی میں رکھے اناج کو تباہ و برباد کردیا,تالے پڑے مکانات کا تالہ توڑ کر اندر گھس گئے,اور رکھے سامان کو نقصان پہونچایا,اصل میں جلوس سابقہ روایت کے مطابق پرانے راستہ ہوکر لے جانا تھا مگر فرقہ پرست عناصر نے نیا راستہ اختیار کیا جس میں مسلمانوں کا قبرستان پڑتا ہے,اقلیت طبقہ کے منع کرنے پر نہیں مانے اور جے شری رام اور جذبات کو بھڑکانے والے نعرہ کے ساتھ اقلیت فرقہ کو للکارتے اور اور نامناسب الفاظ سے نوازتے ہوئے نکلنے کی کوشش کی,مگر مسلم سماج کے کچھ نوجوان مشتعل ہو گئے اور روکنے کی کوشش کی آنا فانا اورائی تھانہ کو اس واقعہ کی جانکاری دی گئی,جائے وقوع پر تھانہ صدر پولس دستہ کے ساتھ پہونچ گئے اور موقع پر تھانہ صدر راجیش کمار نے پولس دل کے ساتھ مورتی سرجن کی ذمہ داری لیتے ہوئے ماحول کو پر امن بنانے کی مسلم طبقہ کو یقین دہانی کرائی,مگر پولس اور فرقہ پرست عناصر کی ملی بھگت سے حالات مزید بے قابو گئے,اور پولس نے اسی رات ایک سو سے زیادہ کی تعداد میں آکر مسلم محلہ میں ظلم و بربریت کی اور بغیر سوچے سمجھے یکطرفہ مسلمانوں کی گرفتاری کی,جو تشویشناک ہے,ابھی بھی مصر اولیاء جگہ اولیاء سمیت قرب و جوار کے مسلم علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول قائم ہے,مسلمانوں کی طرف سے کوئی ردعمل نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ بگڑ نہیں سکا,لوگوں کا الزام ہیکہ پولس اکثریت فرقہ کا ساتھ دے رہی ہے,اور انہیں تحفظ فراہم کر رہی ہے,کل ملاکر پورے گاؤں میں تو امن و امان ہے لیکن پورا گاؤں بے سکون ہے,وہیں ہندی اخبار والے کا بھی دو رخا چہرہ سامنے آیا ہے,انہوں نے محلہ سے دونوں طبقہ کی گرفتاری کی بات لکھی ہے,وہیں مقامی لوگوں نے معاملہ کو رفع دفع کرنے کے اور بے قصور گرفتار افراد کی رہائی کو لیکر ایک مٹینگ بلائی تھی جس میں اورائی تھانہ کو بھی شریک ہونا تھا مگر اورائی تھانہ انتظامیہ یہاں بھی جانبدار بن کر فرقہ وارانہ رول ادا کر رہی ہے جس سے مسلم طبقہ میں اور خوف و دہشت کا ماحول قائم ہوگیا ہےوہیں جب اس واقعہ کی خبر سماجی کارکن اور مشہور و معروف صحافی شہنواز بدر قاسمی کو پہونچی تو انہوں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار سے شکایت کی کہ پولس اب بہار میں کھلم کھلا مسلمانوں کے خلاف زیادتی کر رہی ہے جو ناقابل برداشت ہے,ایسے متعصب پولس کے خلاف فوری کاروائی کی جائے,انہوں نے اس واقعہ کی تحقیق کے بعد مظلومین کو انصاف دلانے اور قصورواروں کے خلاف قانونی کاروائی کی حکومت سے مانگ کی ہے,شہنواز بدر کی بات چیت کے بعد بہار حکومت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ عامر سبحانی نے مظفرپور ایس ایس پی سے بات کرکے ہدایت جاری کی ہیکہ حالات کو قابو کیا جائے اور اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے انہوں نے مزید بتایا کہ ایس ایس پی نے مجھے معقول کاروائی کا یقین دلایا ہے_