لاک ڈاؤن میں میرے شب و روز

45

مارچ میں ہولی کی چھٹی تھی،ہولی کی چھٹی کے کچھ ہی دن بعد بہار دیوس کی چھٹی تھی،سوچا ایک ہی جگہ رہتے رہتے بور ہوگیا ہوں،کہیں چل کر موڈ فریش کرتا ہوں تو صیف سمستی پوری جو میرے مشفق ساتھی ہیں ان سے بات کیا،بولے: دیوبند چلتے ہیں،وہاں چل کر تجارت کے لئے کپڑا بھی لے لینگے اور مادر علمی کی زیارت بھی ہوجائے گی،ٹکٹ لیا نہیں تھا بس اللہ بھروسے گھر سے نکل گیا،توصیف بھائی کے ایک جاننے والے نے سونتترا سینانی کے جنریٹر روم میں ایک سیٹ دلوادی اور اسی پر ہم دونوں کا سفر مکمل ہوا،این آر سی اور سی اے اے کا احتجاج زور پر تھا،ڈرکالگنایقینی تھا،لیکن خدا کی ذات پر بھروسہ تھا،کیوں کہ جاتے وقت والدہ سے پھونکوالیاتھا

بدھ کے دن سوار ہوکر جمعرات کو دیوبند پہنچا تقریباً آٹھ سال کے بعد جانا ہوا تھا،مادرعلمی میں بہت ساری تبدیلیاں دیکھیں،خصوصاکتب خانہ بالکل نیا بنا تھا،قاری شاہد سمستی پوری کے دونوں فرزند اسامہ اور معاذ نے ہم لوگوں کی مہمان نوازی کی،ہفتہ کے روز لوٹنے کا ارادہ لے کر سہارنپور کپڑا خریدنے کی غرض سے جارہے تھے تو تو موبائل پر ایک آڈیو آیا کہنے والا کہ رہا تھا کہ انڈیا میں بھی کرونا وائرس آگیا ہے جس کی وجہ سے انڈیا میں کئی مہینے تک لاک ڈاؤن رہنے کی امید ہے،اس لئے ضرورت کی جتنی چیزیں ہوں ذخیرہ کر لیں، میں نے وہیں سے والدہ کو فون کرکے صورتحال کی جانکاری دیتے ہوئے ضروری اشیاء کو ذخیرہ کرنے کے بارے میں کہا،
جمعہ کے دن سہارنپور کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کا موقع ملا،لوگوں کا جم غفیر تھا، چاروں طرف سے پولیس کھڑی ہوئی تھی، کیمرے والے کیمرے سے نمازیوں کی حرکت کا مشاہدہ کررہے تھے جمعہ کی نماز کے بعد کپڑے کی خریداری کرکے کورئیر کرنے کے لئے دکان دار کے حوالے کر دیا واپسی میں شام تک دیوبند پہنچا مغرب کی نماز مسجد قدیم میں ادا کرکے کھانا کھایا کچھ احباب سے ملاقات کرتے کرتے عشاء کا وقت ہوگیا، عشاء کی نماز کے بعد بستر پر دراز ہوگیا تھکان کی وجہ سے نیند نے جلد ہی اپنے آغوش میں لے لیا،گہری نیند نے فجر کی نماز کو کھا لیا،قضاء پڑھ کر پھر سے سوگیا

سنیچر ہی کو نکلنے کا ارادہ تھا،کیوں کہ مودی جی نے ٢٢/مارچ اتوار کو پبلک لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا تھا،دیوبند سے جالندھر ایکسپریس چلتی ہے،جو نئی دہلی جاتی ہے واپسی کا اسی سے ارادہ تھا،اس وجہ سے تیاری بھی اسی اعتبار سے کررہے تھے،پتہ نہیں،توصیف بھائی کے دل میں کیا آیا کہ اچانک انہوں نے رنگ اسٹیٹس دیکھا،دیکھتے ہی چونک گۓ کیونکہ جالندھر اس دن کینسل تھی ،شالیمار جالندھر سے پہلے جاتی ہے وہ بھی جا چکی تھی،اب تو ہم لوگ کی حالت خراب،آنا فانا تیار ہوکر آٹو ریزرو کرکے دیوبند اسٹیشن پہنچا،حسن اتفاق ایک ویکلی ٹرین اسٹیشن سے سسر رہی تھی،اللہ اللہ کرکے سوار ہوا اور نئی دہلی پہنچ گیا،واپسی میں بھی ٹکٹ ندارد تھا،سوچا راجدھانی سے کسی دلال کے ذریعہ ٹکٹ لے لوں گا دلال سے معلوم کیا تو میرا جیب ٹکٹ کی قیمت کے علاوہ دلالی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھا،ویشالی ایکسپریس کا ارادہ کیا تو ایک ٹکٹ چار ہزار کا تھا،والد صاحب بھی دبئی کے سفر سے واپس آگئے تھے میں نے فون کرکے پوچھا آپ چلئے گا تو آپ کا بھی ٹکٹ لے لیتا ہوں والد صاحب نے کہا کہ میرا ٹکٹ جہاز سے کل کا ہے میں اسی سے چلا جاؤں گا لیکن خدا کو اور ہی منظور تھا والد صاحب کو چودہ دنوں کے لئےکورنٹائن کرلیا گیااس طرح ان کے جہاز کا ٹکٹ بھی رائیگاں چلا گیا،گھرسے والدہ کا فون آیا کہ ثمرالہدی اور ناصیہ کو بھی لیتے آنا ثمرالہدی بیکانیر راجستھان میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہے ہیں بھانجہ کو بلڈ کینسر ہوگیا تھا، اسی کو خون دینے کی غرض سے وہ دہلی آیا تھا میرے بہنوئی نے کہا کہ ثمرالہدی کی ابھی ضرورت ہے اس کو رہنے دیجئے،البتہ ناصیہ آپ کے ساتھ چلی جائے گی، ناصیہ کو فون کیا تو وہ بولی کے ابھی ابھی جامعہ میں ہوسٹل خالی کرنے کا نوٹس آگیا ہے،اسی وجہ سے خالی کرنا پڑے گا،ناصیہ جامعہ اسکول میں دسویں کی طالبہ ہے، دسویں کا امتحان ختم ہوگیا تھا صرف ایک پیپر باقی تھا میں دہلی اسٹیشن سے جامعہ جاکر ناصیہ کو لے آیا، اس کا بھی ٹکٹ لیا دو آدمی کا ٹکٹ آٹھ ہزار روپے کا ہوا،خیر ڈوبتے کو کیا چاہیے صرف تنکے کا سہارا،اتوار کے دن تین بجے مظفرپور پہنچا دیکھا تو دور دور تک نہ آدمی کا پتا اور نہ ہی سواری کا،تلاش بسیار کے بعد ایک رکشہ والا ملا،وہ بھی عام دنوں کی قیمت سے چار گنا میں گھر آکر غسل وغیرہ سے فراغت پا کر کھانا کھایا، کچھ روز مظفرپور رہ کر آبائی گاؤں حسن پور گنگھٹی چلا گیا کیونکہ والد صاحب کی لائبریری جو کئی ہزار کتابوں پر مشتمل ہے اس کی ترتیب کا کام کرنا تھا جو لایبریری میں ٹائلس لگنے کی وجہ سے بے ترتیب ہوگئی تھی،ایک ہفتہ کتابوں کو ترتیب دے کر مظفرپور لوٹا کچھ ہی دنوں بعد ماہ مقدس کا آغاز ہونے والا تھا تراویح کے سلسلے میں دہلی سے والد صاحب کا فون بار بار آرہا تھا میں آٹھ سالوں سے آبائی گاؤں گنگھٹی میں تراویح سنا رہا تھا،لیکن مودی جی نے ایک دن کا لاک ڈاؤن کرنے کے بعد تین مہینے کا لاک ڈاؤن لگا دیا ساتھ ساتھ تمام عبادت گاہوں کے کھلنے پر بھی پابندی لگا دی، سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس سال تراویح کا کیا ہوگا،دفعۃ خیال آیا کہ چلو اس سال آرام کر لیتے ہیں لیکن والدہ کے جھڑپ نے ایسا نہیں ہونے دیا،نظرالہدی بھائی جان کا ارادہ تھا تراویح پڑھانے کا،لیکن پتہ نہیں بعد میں کیسے ڈاما ڈول ہوگیا میں مصر رہا کہ تراویح تو آپ کو پڑھانی ہے؛لیکن وہ نہ کہ رہے تھے میں نے بھی دل میں ٹھان لیا کہ تراویح تو پڑھوا کر ہی رہوں گا خواہ کچھ بھی ہوجائے
خدا کا شکر ہے کہ خدا نے مجھے سات چچا دیا جس میں چھ کی زمین مظفرپور کے شہر زکریا کالونی میں ہے پانچ کا مکان بنا ہوا ہے اور ایک کا باقی ہے میری بڑی بہن رضیہ عشرت ہر سال گھر میں تراویح سناتی ہے سال گذشتہ کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں سنا سکی تھی تو میری شریک حیات نصرت جہاں نے تراویح سنائی تھی کالونی کی اکثر عورتیں ہماری ہی گھر تراویح پڑھنے آتی ہیں اس بار بھی سب کا فون آنے لگا والدہ نے سب کو منع کردیا کیونکہ کہ بھیڑ اکٹھا کرنے سے حکومت نے منع کیا تھا

غرض بھائی جان کے تراویح پڑھانے نا پڑھانے پر اسی طرح ڈرامہ ہوتا رہا کہ ایک دن زکاءالہدی چچا کا فون آیا کہ ظفر الہدیٰ ایسا کرو کہ تم دو بھائی حافظ ہو تو ایک میرے یہاں پڑھا لو اور ایک اپنے گھر پر میں بولا کہ ٹھیک ہے،میں آپ کے یہاں پڑھالوں گا اور بھائی جان گھر پر اس طریقے سے ہم دونوں نے تراویح پڑھائی ہمارے پیچھے کل چار لوگ تھے چچا رضاءالہدی زکاءالہدی اور بھائی معاذ الہدی سعدالہدی بھائی جان کی پیچھے والدین دو بھائی دو ہمشیرہ دو بھتیجی ایک بھانجی بھائی جان کی اہلیہ میری اہلیہ کل گیارہ لوگ تھے

ہم دونوں بھائیوں نے پورے مہینے کی تراویح سنائی ٢٠٠٣سےتراویح سنا رہا ہوں شروع کے کچھ سالوں میں چھ روز دس روز کی تراویح سناتا تھا بعد میں میں نے توبہ کر لیا کیونکہ میرے خیال میں کم دنوں کی تراویح تراویح نہیں صرف بوجھ ہلکا کرنا ہوتی ہےوالد صاحب بھی کچھ دنوں کے بعد دہلی سے گھر آگۓ تھے زندگی کا پہلا موقع تھا جب چاروں بھائ اور والد صاحب کو اتنے دنوں تک زندگی کے شب و روز گذارنےکا موقع ملا لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھر ہی میں ڈائنگ روم میں جماعت کے ساتھ نماز ہوا کرتی تھی جس میں گھر کے تمام افراد شامل ہوتے امامت کی ذمہ داری بھائی جان کی تھی،اس لاک ڈاؤن میں بہت ساری چیزیں سیکھنے کو ملی انسان کے مجبور ہونے کا بھی،اس مہاماری میں لوگ ایک دوسرے سے ایسے بھاگ رہے تھے جیسے قیامت کے دن بیٹا باپ سے اور بھائی بھائی سے بھاگے گا کرونا سے مرنے کی وجہ سے بیٹا باپ کی نعش لینے کو تیار نا تھا لوگوں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے جیسے انہوں نے کوئ جرم کیا ہو

یہ لاک ڈاؤن میرے لئے بہت ہی اچھا رہا جہاں کچھ پڑھنے اور کرنے کا موقع ملا اس لاک ڈاؤن میں کئی کتابوں کلیات کلیم عاجز ،گیارہ سال سلاخوں کے پیچھے،وہ جو بیچتے تھے دوائے دل،زنداں کے شب وروز،گجرات فائلس پس پردہ حقائق کا انکشاف،ذرا قرن اول کو آواز دو ،سیرت المصطفی،پردہ ،ماسٹر ضیاء الہدی ضیاء اچھے معلم بہترین انسان کا مطالعہ کیا
آن لائن تدریسی خدمات بھی انجام دیا روز پانچ بچوں کا قرآن سنتا ہوں جس میں ایک دور اور باقی سبق والے ہیں الحمدللہ اکثر بچوں نے اس لاک ڈاؤن میں آٹھ پارہ سے زیادہ سبق سنایا روز ایک پارہ آموختہ اور سبقا پارہ کا بھی معمول رہا اللہ سے دعا گو ہوں کہ اللہ جلد سے جلد ان کو حافظ قرآن بنا دے
اس لاک ڈاؤن ہی میں ایک بیٹے کا باپ بنا،جس کا نام قاسم الہدی ہے اللہ اسے اپنے حفظ وامان میں رکھے اور نیک بخت بناے آمین ثم آمین (باقی پھر کبھی)