5 ستمبر یوم اساتذہ،نویدانصاری شاگرد ہیں ہم میر سے استاد کے راسخ استادوں کے استاد ہیں استاد ہمارے

103

5 ستمبر یوم اساتذہ،نویدانصاری
شاگرد ہیں ہم میر سے استاد کے راسخ
استادوں کے استاد ہیں استاد ہمارے

انسانی زندگی میں ہردن کی اہمیت ہے۔ لیکن معاشرہ میں سال کے جن ایام کو خصوصی درجہ دیا گیا ہے ان میں ایک یوم اساتذہ (teachers day) ہے۔جو 5 ستمبر کو ہرسال ہمارے ملک ہندوستان میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر اسکولوں اور کالجوں میں مختلف پروگرام ترتیب دۓجاتےہیں۔ ان پروگراموں کے ذریعہ اساتذہ کی اہمیت اور عزت کو پروان چڑھانے کی باتیں ہوتی ہے اور معلم کے احترام کا درس دیا جاتا ہے۔
اساتذہ کو یاد کرنے کا یہ دن ہمارے ملک ہندوستان کے دوسرے صدر جمہوریہ ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی یومِ پیدائش پر منایا جاتا ہے جوکہ بنیادی طور پر ایک معلم تھے اور اساتذہ کے معیاری زندگی کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں تھے رادھا کرشنن صدر جمہوریہ ہند ہونے کے باوجود خود کو استاد کہلانا پسند کرتے تھے
رادھا کرشنن کے علاوہ ملک میں کئی اشخاص تھے جو معلم کے ساتھ ساتھ ملک کے عظیم عہدہ صدر جمہوریہ کے عہدے پر فائز تھے جن میں ماہر تعلیم ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر شنکر دیال شرما، ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام کے نام اہم ہیں۔
لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے جو بلا شبہ کافی روشن ہے جبکہ دوسرا رخ اتنا ہی دھندلا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب استاد کو معیار قوم تصور کیا جاتا تھا جو اپنے قول کے ساتھ ساتھ فعل میں بھی بہتر ہوا کرتے تھے۔ آج بھی ایسے معلم موجود ہیں لیکن تعداد میں زیادہ نہیں استاد اور شاگرد کا رشتہ بھی آج کے معاشرے میں کچھ باقی نہیں رہا۔
استاد کے احترام تکریم و تعظیم میں تمام مذاہب نے زور دیا اور اسلام نے بھی اپنی تعلیمات پیش کی ہے۔ معاشرے میں تعلیم والے کی قدر دانی جو اسلام نے پیش کی ہے وہ کہیں اور نہیں ملتی۔ اسلام نے اللہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ کے حقوق و احترام ادا کرنے کی بھی تلقین کی ہے۔ اور ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ ایک جگہ حضرت علی کاقول ملتا ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا وہ میرا استاد اور میں اس کا غلام ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معلم کا درجہ کتنا اہم ہے
لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ تصویر کا دوسرا پہلو اس سے بر عکس اور سیاہ ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ معلم جوکہ ایک قابل احترام اور معمار قوم ہوتا ہے وہی آج انسانی قوم کی دھجیاں اڑانے میں لگا ہے استادوں نے جہاں دنیا میں انمول رتن تراشے ہیں وہیں آج کے استاد جو کثیر تعداد میں مادہ پرست و مفاد پرست ہو چکی ہے ۔ آۓ دن اخبارات و نیوز چینلز پر استاد کی انسانیت سوز خبریں شایع ہوتی ہیں۔ جس کے بنا پر لوگ اساتذہ کو نیچی نگاہ سے دیکھتے ہیں
ایسا ہر گز نہیں کہ چند افراد کے گھٹیا کارناموں سے تمام افراد کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے بلکہ بہت سارے معلم آج بھی ایسے پاۓ جاتے ہیں جو سماج میں بہترین مقام رکھتے ہیں۔ جو سماج کی تشکیل اور نو جوانوں کی زندگیوں کو سنوارنے میں نمایا کردار ادا کرتے ہیں۔
یومِ اساتذہ کا یہ موقع ہم تمام کیلۓ لمحہ فکر ہے اور ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اس جانب اپنے توجہ کریں اور ایسے افراد کے خلاف سخت ایکشن لیں تاکہ معلم جیسے عظیم رتبہ کو نقصان نہ پہنچے اور ان اساتذہ کی خدمات کو سراہنا کریں جو اپنے پیشہ کا صحیح استعمال کر کے معاشرہ میں علم کو عام کرنے اور نوجوانوں کو صحیح راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں
شکریہ
معلم نام ہے جس کا مقدس شخص ہوتا ہے۔
معلم علم دیتا ہے معلم طرز دیتا ہے۔
معلم ہی تو ہے جو بے ادب کو پارسا کر دے۔
معلم بے زبانوں کو سخن کا نا خدا کردے۔

معلم وہ نہیں جو نصابوں کو کرے پورا۔ ۔۔
معلم وہ ہے جو بچوں کو جینے کا ہنر دے دے۔
از قلم
محمد نوید انصاری
متعلم : شعبہ اردو
پورنیہ یونیورسٹی پورنیہ ( بہار )