یوم جمہوریہ تحفظ جمہوریت کا پیغام دیتا ہے!

31

یوم جمہوریہ ملک ہندوستان کی ایک قومی تعطیل ہے ، جسے ملک بھر میں بڑے دھوم دھام ، شان و شوکت اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے ، کیونکہ آج کا دن وہ دن ہے ، جب کہ ہمارا ملک ایک جمہوری ملک بنا ، جمہوریت کا معنی ہوتا ہے ، ایسی حکومت جو عوام کے لیے ہو ، عوام کے ذریعے ہو ، اور عوام کے لیے ہو ، اور سب سے اہم بات یہ کہ ہمارے ملک کا قانون ہمارے ملک کا آئین بھی آج ہی کے دن نافذ ہوا تھا ۔
کیونکہ ہمارے ملک کو آزاد کرانے کے لیے خصوصاً علماء کرام اور عموماً تمام مذاہب کے لوگوں نے ملک کی آزادی کی لڑائی لڑیں ، اور پندرہ اگست 1947 عیسوی کو ہمارا ملک آزاد ہوا ۔
لہذا ! ملک کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے ایک دستور ، ایک آئین ضروری تھا ، کیونکہ یہاں پر مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف قبیلے و خاندان سے تعلق رکھنے والے ، اور مختلف ذات کے چاہنے والے اور
ماننے والے لوگ رہتے ہیں ۔
اس لیے ہمارے علماء کرام کی رہنمائی و قیادت اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی صدارت میں دو سال گیارہ مہینے اٹھارہ دن میں ہمارے ملک کا آئین تیار کروایا گیا ، اور 26 جنوری 1950 عیسوی کو اسے نافذ کر دیا گیا ۔
ہمارے آئین میں انسانی حقوق کے تحفظ کی مختلف دفعات کے باوجود بڑے پیمانے پر وطن عزیز میں انسان کے بنیادی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے ، کہیں بولنے پر پابندی ہے تو کہیں کھانے اور لباس پر پابندی ہے ، کبھی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا ہوا کھڑا کیا جا رہا ہے ، تو کبھی مسلمانوں سے ان کی مذہبی آزادی سلب کرنے کی ناپاک کوشش ہو رہی ہے ، غرض وطن عزیز میں اقلیتوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے ۔
کسی بھی جمہوری نظام کی کامیابی اور خوبصورتی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ اس کے سائے میں سانس لینے والے شہریوں کے ساتھ عدل و انصاف اور برابری و مساوات کا معاملہ کیا جائے ، امن و سکون کا ماحول ہو ، اصول و قوانین کی بنیاد پر حکمرانی ہو ، اور تمام ادیان و مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے دینی شعائر اور اصول و عقائد کی روشنی میں زندگی گزارنے کی آزادی ہو ، مذہبی آزادی میں حکومتیں دخل انداز نہ ہوں ، اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ ہر حکومت کے پیشِ نظر ہو ۔
ہمارا ملک ہندوستان جو دنیا کا سب سے عظیم جمہوری ملک ہے ، اس کا دستور اپنے ہر شہری کو مذہبی آزادی اور تمام طبقات کو یکساں حقوق و مواقع کی ضمانت فراہم کرتا ہے ، دستورِ ہند میں مذہبی اقلیات کے لیے خاص رعایتیں بھی دی گئی ہیں ، جن کی حفاظت اور یقین دہانی حکومت وقت کی ذمّہ داری اور فرض منصبی ہے ۔
مگر افسوس یہاں وقتاً فوقتاً امن و شانتی کو برباد کرنے اور فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے کی سازشیں بھی ہوتی رہتی ہیں ، اس وقت ہندوستان میں تشدد پسند طاقتوں کا بول بالا ہے ، گزشتہ چار پانچ برسوں میں ملک نے جو سیاہ دن دیکھے ہیں ، وہ ہندوستانی عوام کبھی نہیں بھلا پائے گی ۔
چونکہ لگاتار نفرت کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے ، مذہب کے نام پر سیاست کی جا رہی ہے ، بلکہ مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ حکمران جماعت نے اپنے دور اقتدار میں سیاست کی اخلاقی قدریں اور اس کا معنی و مفہوم ہی بدل ڈالا ہے ۔
سماجی تجزیہ نگاروں ، سیاسی دانشوروں اور قومی و بین الاقوامی ادارہ کا ماننا ہے کہ اس وقت ہندوستان میں شہریت قانون ، این آر سی ، اور این پی آر کے خلاف ملک متحد ہو چکا ہے ، بلا تفریق مذہب و ملت سبھی مذاہب کی جانب سے سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت کی جا رہی ہے ،
سی اے اے مسلم قوم کے خلاف اس لیے ہے کیونکہ یہ قوم مذہبی تفریق کے لیے صرف مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے ، یہ قوم دوسروں کو مذہبی تفریق کا ذمہ دار نہیں سمجھتی ہے ، جب کہ مودی حکومت کے سائے میں مسلمانوں کو اپنی مذہبی شناخت کی وجہ سے آئے دن نفرت کا شکار بنایا جاتا ہے ۔
آزاد ہندوستان کا شہری ہونے کی حیثیت سے سیکولر انڈیا کو بچانے کے لیے آئین کو زندہ و جاوید رکھنے کے لیے ہم سب کو سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مہم میں شامل ہونا پڑے گا ۔
چونکہ یہ قانون ملک کی امن وسلامتی اور قومی یکجہتی کو توڑنے کی سازش ہے ، ہم اس کالے قانون کو واپس کرانے کے لیے انتھک کوشش کریں گے ، جب تک یہ قانون واپس نہیں ہوگا ، اس وقت تک ہم احتجاجی مظاہرے کرتے رہیں گے ۔
ملک کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ مہنگائی آسمان چھو رہی ہے ، جی ایس ٹی ، نوٹ بندی پھر لاک ڈاؤن نے تاجروں کی کمر توڑ ڈالی ہے ، کسان احتجاج و خودکشی کرنے پر مجبور ہیں ، نوجوان بےروزگاری کے عالم میں زندگی بسر کر رہے ہیں ، اس کے باوجود زور وشور کے ساتھ یہ کہا جا رہا ہے کہ ملک ترقی کی طرف رواں دواں ہے ، اگر اسی کا نام ترقی ہے تو پھر اس ترقی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ۔
آخیر میں مجھے دستور ساز کمیٹی کے سربراہ ، معروف و مشہور لیڈر ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی وہ بات یاد آ رہی ہے ، جو انہوں نے آئین ساز اسمبلی میں آئین کا مسودہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” دنیا کا کوئی بھی قانون کامل نہیں ہو سکتا ، اس کو مؤثر اور قابل استعداد بنانا ، روبہ عمل لانے والے افراد اور اداروں کی نیت پر منحصر ہے ، اسی تقریر میں انہوں نے مزید کہا تھا کہ ایک اچھے سے اچھا آئین بھی اگر نا اہل اور بے ایمان کے ہاتھ لگ جائے تو بد سے بدتر ثابت ہو سکتا ہے ، لیکن اس کو چلانے والے اداروں کے ذمّہ دار اگر ذہین فراخ دل اور بامروت ہوں تو خراب سے خراب تر آئیں بھی اچھا ثابت ہو سکتا ہے ” ۔
اس وقت کچھ یہی صورت حال ہے ، حکومت چلانے والے بے مروت ، بد باطن اور آئین دشمن ہیں ، ان کی چالوں سے واقف ہونا ، ان کی خراب ذہنیت کو سمجھنا اور جمہوریت کے اصولوں کی حفاظت اور دستور کے تحفظ کے لیے کمر بستہ ہونا ضروری ہے ، اور یہ ہر شہری کی اہم ترین ذمہ داری ہے ، اس کا تعلق کسی ایک مذہب سے نہیں ہے ، بلکہ ملک اور اس کے تمام باشندگان سے ہے ، ملک اور اس کا دستور زباں حال سے ہر شہری کو اس کی حفاظت کے لیے آواز دے رہا ہے ۔
موجودہ حالات میں ہر ایک کی ذمہ داری ہے کہ وہ متحد ہو کر ایک آواز ، اور ایک طاقت بن کر دستور بچانے کے لیے آگے آئیں ، حکمراں ظالم ہیں اور ہم مظلوم ہیں ، اگر ان کے پاس اقتدار ہے تو ہمارے پاس اتحاد ہے ، ان کے پاس طاقت ہے تو ہمارے پاس ہمت ہے ، اور اگر ان کے پاس لاٹھی ہے تو ہمارے پاس وطن کی محبت میں دھڑکتا دل ہے ۔
یوم جمہوریہ ہر سال آتا ہے اور تحفظ جمہوریت کا پیغام دیتا ہے ، اور جمہوریت کے تحفظ کے عہد کی تجدید کراتا ہے ، اور کہتا ہے کہ اگر جمہوریت محفوظ ہے تو پھر جشن یوم جمہوریہ یہ میرا اور تمہارا حق ہے ، اگر جمہوریت خطرہ میں ہے تو پھر جشن یوم جمہوریہ منانا کسی مذاق سے کم نہیں ہے ، اس لیے یوم جمہوریہ کے موقع پر ہر شہری کو دستور کی حفاظت اور جمہوریت کی بقا کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کا عہد کرنا چاہیے ، اور یاد رکھنا چاہیے کہ پہلے ہم نے آزادی کے لیے لڑائی لڑی تھی ، اور اب دستور بچانے کے لیے جد و جہد کرنا ہے ۔
اللہ رب العزت ملک ہندوستان میں امن و سکون اور مسلمانوں کی حفاظت فرما ۔
آمین ثم آمین یارب العالمین