سیاست کا ایک دائری سوال !

16

تحریر :خورشید انور ندوی

20 جنوری 2021

سیاست کا ایک دائری سوال !

آج کل خوب چرچے ہیں.. ایک الیکشن گزرا،، اور پیچ در پیچ گزرا.. بہار کا.. ہار جیت اہم ہوتی ہے، اور بڑے سارے مباحثے سمیٹتی ہے.. لیکن یہ بھی کم اہم نہیں کہ ہار اور جیت کیسی ہوئی اور کیسے ہوئی؟ اب جو مرحلہ درپیش ہے وہ بہار سے کئی گنا زیادہ اہم ہے اور اپنے نتیجہ سے پہلے کے مرحلے میں ہی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے.. دراصل اس الیکشن میں کچھ بڑی صورت گری کا امکان ڈھونڈھا جارہا ہے.. مرکز کی حکمراں جماعت اس کو پلاسی کی جنگ سمجھ رہی ہے اور ممتا اس کو دھرم یدھ.. بنگال کے سقوط کو، بی جے پی سقوط ڈھاکہ سے بھی اہم سمجھتی ہے، اور اس کا خواب ہے کہ، آسام اور بنگال جیت کر، مسلم آبادی کے سب سے بڑے ارتکازی مرکز کو تتر بتر کردیا جائے، آگے صدی تک مسلم آبادی دباؤ میں آجائے گی.. اس کے لئے وہ انتھک محنت کررہی ہے اور ہر ہتھکنڈا استعمال کررہی ہے.. سب سے بڑا ہتھیار، مخالف پارٹی کی اندرونی ناراضگی کا استعمال، کرپشن کے کیسیز کی دھونس، اور طالع آزما ناصبرے صف ثانی کے مواقع کے منتظر لیڈروں کو نئے سیٹ اپ میں اپ گریڈنگ کا لالچ ہے.. کئی دہائیوں سے سیاست اب پیشہ ہے، اور بڑا منفعت بخش کاروبار ہے.. اس میں بھاری انوسمنٹ ہوتا ہے اور بڑے کاروباری اور صنعتی ادارے بڑی بڑی بڈنگ کرتے ہیں.. پالیسیوں اور نفع بخش پالیسی سازی پر پس پردہ تفصیلات طے ہوتی ہیں،، شرائط کی نرمی اور جانبداری ہدف ہوتا ہے.. اب یہ باتیں ہندوستان کی سیاست میں ڈھکی چھپی نہیں رہیں.. زرعی قانون اب آیا.. اور میگا ویر ہاؤسز، اور لق و وق گودام سونی پت کے میدانوں میں، پانی پت کی رزم گاہ سے بھی بڑے بڑے، ڈھائی سال سے بن رہے ہیں. ان کے مالک ادانی اور امبانی جیسے سیاسی انوسٹرز ہیں.. اسے آپ کیا کہیں گے؟ اتفاق، اتفاق ہر جگہ ہوسکتا ہے تجارت میں نہیں..تجارت ایک منصوبہ، اور کسا ہوا لائحۂ عمل چاہتی ہے..

بنگال کی سیاسی گہماگہمی میں ایک دائری سوال روز گردش میں ہے، کہ حیدرآباد کی قدیم مسلم سیاسی جماعت ایم آئی ایم کا کردار کیا ہوگا؟ کیا اس کی آمد سے اس اہم انتخابی معرکہ میں، بی جے پی کو فائدہ پہنچے گا؟ کیا مسلم ووٹ کی تقسیم سے ترنمول کانگریس کو زک پہونچے گی؟ کیا ایم آئی ایم بی جے پی کی درپردہ مدد کررہی ہے؟ سوال ہر کونے سے کیا جارہا ہے.. بی جے پی مخالفین کی طرف سے بھی، اور مسلم ووٹ کی تقسیم سے اندیشہ مند مسلمان حلقوں کی طرف سے بھی.. یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کچھ سوال بظاہر بڑے لگتے ہیں لیکن ہوتے نہیں.. وہ پیدا ہی ہوتے ہیں کچھ نتائج کی یک رخی تشریح سے.. آج تک جہاد افغان کی ہزار تفسیر ہوتی ہے.. کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی مدد نے بہت نقصان پہنچایا.. لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جیوپولیٹیکل صورتحال ریاضی کے اصولوں پر مبنی نہیں ہوا کرتی.. امریکہ کو ضرور فائدہ پہونچا ہوگا لیکن سات مسلمان ریاستیں براہ راست روس کے تسلط سے آزاد ہوگئیں، بیلارس، یوکرین، آرمینیا، جارجیا وفاق سے نکل گئے.. مشرقی یورپ آزاد ہوگیا.. یوگوسلوواکیہ ٹوٹ گیا.. اور شمالی افریقہ کے کئی مسلمان ملک اشتراکی کابوس کے پنجہ سے بچ نکلے.. اگر اس جنگ میں امریکہ کا کچھ سیاسی فائدہ پہونچا تو ایک استبدادی قطبیت بھی تباہ ہوئی.. بعینہ یہی صورت حال اس علاقائی سوال کا جواب بھی ہے… ایم آئی ایم کا داخلہ مسائل پیدا کرسکتا ہے.. لیکن کانگریس کے کتابی سیکولرازم پر انجماد کی کیا ضرورت ہے.. ترنمول ایم آئی ایم کو اسپیس دے.. لفٹ اور کانگریس سے اتحاد کرلے.. اور بی جے پی کا ستیاناس کرڈالے.. منفی ردعمل اور اجارہ دارانہ سوچ کی، سیاست میں کیا گنجائش ہے؟ بہار میں انتخابی نتائج کی ذمہ داری پوری طرح کانگریس کی تھی جس نے 54 سے بڑھ کر 70 سیٹیں دباؤ ڈال کر الاٹ کروالیں، اور جیت 29 کے بجائے 19 تک لے آئی.. تیجسوی تو ایم آئی ایم کو قبول کرنے تیار تھے کانگریس کا ظلی سیکولرازم آڑے آیا، اور صوت حال تباہ کرگیا… بنگال اور شمالی ہند کی ایک برائی یہ ہے کہ وہاں سیاسی میدان میں مقامی مسلم قیادت سرے سے ہے ہی نہیں .. یہ علاقائی مسلمان سیاستدانوں کی ناکامی ہے.. اسد الدین اویسی صاحب کے علاوہ کوئی دوسرا چہرہ ہی نہیں ہے، اس لئے وہ خلا کو پر کرنے کی پہل کرتے ہیں اور اس میں ان کو کامیابی بھی ملتی ہے .. اور زمینی سطح پر کچھ نقصان بھی ہوتا ہے. حالانکہ خود ان کی پارٹی میں سوائے ان کے کوئی قیادت نہیں، یہ ایک المیہ ہے.. خود تلنگانہ کا ریاستی الیکشن 7 سیٹوں پر لڑتے ہیں، اور دوسری ریاستوں میں 30 – 40 سیٹوں پر لڑتے ہیں.. یہ ایک مخمصہ ہے.. لیکن یہ خوش آیند ہے کہ دوسری ریاستوں میں مسلمان سیاسی قیادت اورکیڈر وجود میں آرہے ہیں،، سیاست میں یہ بھی ایک اچیومنٹ ہے..مسلمان سیاسی جماعت دوسری سیاسی قوتوں سے ایجنڈہ پر مبنی مفاہمت یا تائید کرے گی.. مختلف سیاسی پارٹیوں کے درمیان موجود سیاسی افراد الگ ایجنڈہ سیٹ نہیں کرسکتے.. یہی وجہ ہے کہ 1992 میں کانگریس سے دوری اپنانے کے بعد مسلمانوں نے یوپی بہار میں کئی متبادل اپنایا، لیکن کچھ دور چل کر مایوسی ہاتھ لگی.. اور ان کی سیاسی پوزیشن دن بدن کمزور سے کمزور تر ہوتی گئی.. ایسی صورت حال میں مستقل سیاسی پارٹی کا آپشن آزمانے میں کیا حرج ہے؟ ہاں اس بات کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے کہ عمومی سیاسی تقاضا کیا ہے..؟ اس میں شک نہیں رہا کہ انتخابی فتح سے زیادہ اہم بی جے پی کی پیش قدمی کو روکنا ہے.. خاص طور سے ان علاقوں میں جو بڑی حساس اہمیت رکھتے ہیں جیسے بنگال.. آسام کی خاص اہمیت اور وہاں کی ڈیموگرافک پوزیشن بنگال کو بہت حساس اور مسلمانوں کے لئے نازک تر بنادیتی ہے.. ایسی سیاسی صورت حال میں محض نظری سیاسی سرگرمی اور قانونی جواز یافتہ سیاسی توسیع کوئی معنی نہیں رکھتی… اس حساسیت اور سیاسی تقاضے کے ادراک کے ساتھ بنگال میں ایم آئی ایم کی توسیع کو خوش آمدید کہنا چاہئے… زیادہ آئیڈیل صوت حال تو یہ ہوگی کہ ترنمول، ایم آئی ایم کی صورت میں ایک نیا پرجوش سیاسی پارٹنر حاصل کرلے.. بصورت دیگر میں ایم آئی ایم کو بی جے پی کا رضاکارانہ معاون نہیں لیکن جبری مددگار گردانتا ہوں جس میں اس کا کوئی حصہ نہیں……