سانحئہ ارتحال جناب اختر عالم سلفی رحمہ اللہ نصیرشیر شاہ آبادی دوحہ قطر

21

میرےمشفق میرے محسن اختر سرشار تھے
جیسے تپتی دھوپ میں اک سایہء دیوار تھے

پڑھ لیا کرتے تھے چہرے سے کسی کا حال دل
ایسا لگتا تھا کہ جیسے واقف اسرار تھے

ان کے سینے میں دھڑکتا تھا سدا قلب رقیق
اپنے بیگانوں کے یارا وہ بڑے غمخوار تھے

فیصل ایجو کیشنل سوساسٹی کے تاجدار
اخترعالم یقینا صاحب کردار تھے

آہ!شنکر پور کی دھرتی بن ہے سوگوار
جامعہ نسواں کے بیشک مطلع انوار تھے

ان کے چہرے پر نمایاں تھے سعادت کے نقوش
خوبصورت خوب سیرت صاحب کردار تھے

کرلیا دنیا میں سودا جنت الفردوس کا
اعتبار آخرت میں کس قدر ہشیار تھے

زیب دیتا تھا انہیں پر بس تعلم کا لباس
آبروئے پیشہء تدریس تھے شہکار تھے

عزم راسخ جہد پیہم اور ملت کا خیال
متصف ان خوبیوں سے ،قافلہ سالار تھے

مغفرت در مغفرت فر مائے رب العالمیں
جنت الفردوس کے یہ وارث وحقدار تھے

ہر گھڑی رہ رہ کے ان کی یاد آتی ہے نصیر
واقعی مرحوم پیارے اور نیک اطوار تھے