ارنب گوسوامی کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ ایس ڈی پی آئی

70

نئی دہلی۔(روزنامہ نوائے ملت)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ مودی کے حامی ری پبلک چینل کے سربراہ ارناب گوسوامی کے حال ہی میں منظر عام پر آنے والے واٹس اپ چیٹ سے سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ مرکزی حکومت قومی سلامتی سے متعلق امور کو کس طرح سنبھال رہی ہے۔اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ سرکاری نظام سے باہر کا کوئی شخص حکومت کے بڑے لوگوں سے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے قومی سلامتی سے متعلق خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کررہا ہے۔

 

ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت اس معاملے میں بہری اور گونگی ہونے کا بہانہ کررہی ہے، کیونکہ حکومت نے ابھی تک اس سنجیدہ مسئلے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ سنگھ پریوارکا حب الوطنی کا رونا پردے کے پیچھے ملک کے جمہوری اور سیکولر نظام کو نقصان پہنچانے کیلئے صرف ایک نقاب ہے۔ ارناب گوسوامی اور پرتھو داس (BARC) کے سابق چیف کے مابین ہونے والی چیٹ نے انکشاف کیا ہے کہ گوسوامی آپریشن کے تین دن پہلے بالاکوٹ سرجکل اسٹرائک سے آگاہ تھے۔ اس حملے کے بارے میں ان کو جانکاری ہونے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وزیر اعظم اور حکومت میں شامل اعلی عہدیداران کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات کے بارے میں ان کا دعوی صرف شیخی بازی نہیں تھا۔

 

جہاں تک قومی سلامتی کا تعلق ہے یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا اس معاملے پر انتہائی فکرمند اور حیران ہے۔ ٹی آر پی ریٹنگ پوائنٹس اکٹھا کرنے کے نام پر نجی افراد کے مفاد کیلئے قومی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

 

ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ ہے کہ ارنب اور ان تمام لوگوں کے خلاف سنجیدہ اقدامات شروع کئے جائیں جنہوں نے حکومت سے خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں اس کی مدد کی ہے۔