صحافت کی ذمہ داری اور ملت ٹائمز

25

صحافت کی ذمہ داری اور ملت ٹائمز

تحریر مفتی سلیم صدیقی شوق پورنوی صاحب

ایسے ماحول میں جب کہ زبان بولنے کے بجائے تلوے چاٹنے اور قلم لکھنے کے بہ جائے پائجامے میں نارے ڈالنے کا کام آرہے ہوں ،ملک کا چوتھا ستون اتنا بے دم ہوجائے کہ لوگوں کو اس کا نہ ہونا ہونے سے بہتر لگنے لگ جائے اور صف اول کے صحافی کہلوانے والے لوگ سرکار کے آگے پیچھے دم ہلانا ہی اپنی صحافتی ذمہ داری سمجھتے ہوں۔
جب اردو صحافی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے اپنی عظمت رفتہ کے ترانے گاتے پھر رہے ہوں، ، صحافت کے جنگل میں صحافیوں کی شکلوں میں بڑے بڑے ناگ اپنے چھوٹوں کو نگل جانے کے درپے ہوں تو ایسے پرآشوب حالات میں کسی غیر صحافتی پس منظر رکھنے والے نوجوان کا اپنے قلم کو ہتھیار بناکر پورٹل کو سچی خبروں کا پلیٹ فارم بناکر میدان عمل میں کود جانا بہت آسان نہیں ہوتا اور اس میں اپنا مقام پیدا کرلینا تو اور بھی آسان نہیں ہوتا ، مگر ملت ٹائمز کے بانی و مدیر مفتی شمس تبریز قاسمی نے اسے آسان کر دکھایا ہے۔

ملت ٹائمز کی اس پانچ سالہ تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں، تو ذہن کے سکرین پر ایٹو میٹک اس کے ایڈیٹر ان چیف مفتی شمس تبریز قاسمی کے نام کام ، مسائل و چیلنج سے نبرد آزمائی کے دل چسپ و دل دوز مناظر رقص کرنے لگتے ہیں۔

مجھے یاد ہے ملت ٹائمز کے آغاز میں ان کے مخالفین کس طرح کے بھونڈے جملے اس پر کستے تھے، ایڈیٹر کے بارے میں کیسی کیسی جھوٹی خبریں بناکر ان کی کردار کشی کرتے تھے، اور وہ لوگ بھی میری نظروں کے سامنے ہیں،جنہوں نے ان کو زیر کرنے کے لیے پوری طاقت جھونک دی تھی،بعض تو اتنے گرگئے کہ لوگوں نے سروں سے اتار کر انہیں قدموں تلے ڈالنا ہی مناسب سمجھا ، جنہیں غرہ تھا صحافت ہمارے گھر کی لونڈی ہے وہ بیچارے صحافت کے طفل مکتب ثابت ہوتے رہے ہیں،وہ اور ان کے کام جوں کے توں ہیں،ایک قدم بھی نہ وہ بڑھے اور نا ہی ان کے کام، حربے چاہے تو جتنے آزما لیے ہوں۔

مجھے آج بزعم خویش خطیب ،امیر ، قائد ، دیش بھکتی کے ٹھیکیدار وغیرہ اور ان کے پالتو مداح بھی یاد آتے ہیں، کہ کیسے ایک بیچارہ جگنو کے پیچھے اپنی پوری تاریکی لگادی تھی ، تاریک پسند لوگ اندھیرے میں منہ مارتے رہے اور جگنو شمس تک پہنچ گیا،۔
ملت ٹائمز نے اتنی قلیل مدت میں جو نام و مقام پیدا کیا ہے، اور فیس بک پیج سے نکل کر یوٹیوب چینل تک کا سفر اس نے جس خوش اسلوبی اور جتنی جلدی کے ساتھ کیا وہ ہم ایسوں کے لیے حیرت انگیز ہے، آج ملت ٹائمز کے فالوورس کی تعداد کئی لاکھ میں ہے، ۔
ملت ٹائمز کے اس پانچ سالہ کامیاب سفر میں ملت کے ارکان اور اس کے مدیر اعلی مفتی شمس تبریز قاسمی کی جدوجہد، سعی مسلسل اور عمل پیہم کے ساتھ مخلصانہ طرز عمل کار فرما ہے،

شمس تبریز قاسمی اور ملت ٹائمز دونوں بیک وقت میری سماعت میں آئے، اور دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہوگئے، بہ ایں طور کہ مفتی شمس تبریز قاسمی کی اصلی پہچان ملت ٹائمز سے ہے اور ملت ٹائمز کا وجود شمس تبریز قاسمی سے ہے ۔

ملت ٹائمز آج اپنی پانچویں سالگرہ منارہا ہے، اس موقع پر سب سے پہلے میں ملت ٹائمز اور اس کے بانی و منتظم اعلٰی شمس تبریز قاسمی سمیت تمام اراکین کو صمیم قلب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ کرے ایک دن ملت ٹائمز اسی شان و شوکت سے اپنی کامیابی کی پچاسویں اور پانچ سویں سے سالگرہ کی بھی تقریب منائے۔ میری نیک خواہشات ہمیشہ ملت ٹائمز کے ساتھ ہے۔