خاندانی تنازعہ کا شکار جامعہ مدنیہ کا وجود خطرے میں

36

کسی بھی تعلیمی ادارے کی بنیاد اس لیے ڈالی جاتی ہے کہ وہاں علمی تشنگی بجھائ جائے ایسے محدث پیدا ہوں جو قوم و ملت کی اصلاح کر سکیں لیکن جب آپسی خاندانی کی وجہ سے برتری کی جنگ چھڑ جائے تو افسوس ہوتا ہے کہ جو لوگ آپسی اتحاد و اتفاق کا درس دیتے ہیں وہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ بات ہو رہی ہے راجدھانی پٹنہ کے مشہور و معروف دینی تعلیمی ادارے جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ کی، 1989 میں اس کا قیام عمل میں آیاتھا،اور 1990میں حضرت مولانامحمدقاسم صاحبؒ نے تعلیم کا آغازوافتتاح کیا ،بانی جامعہ،اساتذہ ،ومنتظمین جامعہ کی محنت وکوشش سے جامعہ آج ایک تحریک کی شکل میں ملک وقوم کے لئے اپنی خدمات بدستور انجام دے رہاہے،قیام کے اولِ دن سے طلبہ اپنی علمی تشنگی بھجا رہے ہیں سینکڑوں افراد ایسے ہیں جنہیں یہاں سے تعلیم کا شرف حاصل ہوا ہے اور وہ آج پورے ملک ہی نہیں بلکہ پورے عالم میں لوگوں کی علمی تشنگی بھجا رہے ہیں،
se
جامعہ مدنیہ سبل ہور پٹنہ ان دنوں بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔اس ادارے کی بدنصیبی یہ ہے کہ اس ادارہ میں کبھی بھی کسی بھی وقت پولس داخل ہو سکتی ہے ۔ ایسا اس لیے ہو سکتا ہے کیونکہ اس ادارہ کے نۓ مہتمم حافظ حارث بناۓ گۓ ہیں جو بانی جامعہ حضرت مولانا قاسم مرحوم کے فرزند ارجمند ہیں اور ان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کے پاس نہ تو علم ہے اور نہ ہی عمل، اور شاید یہ الزام ان کے ناتجربہ کار ہونے کی وجہ سے لگ رہا ہے ۔ادارہ کے کچھ لوگوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حافظ حارث نہ تو مہتمم کے لائق ہیں اور نہ ہی ناظم کے عہدے کے لائق، بلکہ وہ تو استاذ کے لائق بھی نہیں ہیں ۔ جامعہ کے ٹرسٹ کو حافظ حارث اپنے والد کی وراثت کی دلیل بناتے ہوئے ناظم کے عہدے پر فائز ہونے کی کوشش کی اور اپنے چچا مولانا ناظم پر بدعنوانی کے الزامات کی جھری لگادی پھر یہ ساری باتیں اور سارا جھگڑا عوام الناس سے ہوتے ہوئے پولس تک پہنچ گیا اور پھر معروف دینی و تعلیمی درس گاہ جامعہ مدنیہ سبل پور کے پرنسپل مولانا محمد ناظم کو ندی پولیس نے گرفتار کر لیا ۔ جامعہ مدنیہ کے پرنسپل محمد ناظم پر تقریباً 41 لاکھ روپے کے غبن کا الزام ہے۔ گرفتار محمد ناظم جامعہ کے بانی مرحوم مولانا قاسم کے حقیقی بھائی ہیں، اس مدرسے کو چلانے کے لیے مدنی ایجوکیشنل ٹرسٹ تشکیل دیا گیا تھا
ندی تھانہ کے پولیس انچارج نے بتایا تھا کہ ‘محمد ناظم کی گرفتاری ہو گئی ہے، اس معاملے میں تین دیگر نامزد ملزم فرار ہیں جن کی گرفتاری ہونی تھی، تھانہ صدر کے مطابق اب تک اس معاملے میں 24 لاکھ کے غبن کا انکشاف ہوا ہے۔
ٹرسٹ کے سکریٹری و خزانچی بلال الدین نے رواں برس 22 جون کو مولانا ناظم کے علاوہ ان کے ایک اور بھائی محمد سالم کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا، سبھی ملزمین بھاگلپور کے گوراڈیہ تھانے کے کوروڈیہ گاؤں کے رہنے والے ہیں۔
محمد بلال الدین کے مطابق ‘ان تمام ملزمین نے مدنی ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جگہ الگ سے جعلی جامعہ مدنی ایجوکیشنل ٹرسٹ تشکیل دیا ہے، اس ٹرسٹ کے نام پر ایک رسید بھی چھاپ دی گئی ہے۔ اس کے بعد فنڈ اکٹھا کرنا شروع کردیا گیا ۔ بلال کا الزام ہے کہ ‘ان افراد نے دھوکہ دہی اور جعلسازی کا ارتکاب کیا ہے
مہتمم بنانے کے لیئے اور مولانا ناظم کو ناظم کے عہدے سے ہٹانے کے لئے نہ جانے کتنا جوکھم اٹھانا پڑا اس کا ذکر اس وقت بیجا ہوگا۔مولانا ناظم کے جاننے والوں نے یہ الزام عائد کیا کہ ٹرسٹ کے ذمہ داروں نے جس میں بلال چائے پتی والے پیش پیش ہیں، حافظ حارث کو آلہ کار بناکر ان کے ذریعہ ان کے دو چچا مولانا محمد ناظم، مولانا محمد سالم اور ان کے بہنوئی مولانا مرغوب عالم کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ دائر کروایا۔ مقدمہ عدالت میں زیر غور ہے۔ اس لیئے بدعنوانی کے سلسلے میں قبل از وقت کچھ بھی کہنا اچھی بات نہیں ہوگی۔ مولانا ناظم مولانا سالم اور مولانا مرغوب کو اس بات کی اطلاع تھی کہ ان پر مقدمہ ہوچکا ہے باوجود اس کے وہ لوگ مدرسہ کے کاموں میں لگے رہے۔ مگر اچانک کسی طرح مولانا ناظم کی گرفتاری عمل آئ ۔ اس کے بعد مولانا سالم اور مولانا مرغوب کو دربدری کا شکار ہونا پڑا۔ 41 دن جیل میں گذارنے کے بعد اب مولانا ناظم ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اب تک جامعہ میں قدم بھی نہیں رکھا ہے اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اس کا خلاصہ ممکن نہیں ہے
اس پورے معاملے میں مولاناظم اور ان کے رفقاء ایماندار ہیں یا حارث گروپ؟ یہ فیصلہ عدالت کرے گی۔ لیکن مذکورہ تینوں افراد کی قربانیاں جامعہ مدنیہ سبل پور کے عروج و ارتقاء میں رہی ہیں
مولانا قاسم صاحب نے اپنی حیات میں ہی مولانا ناظم کو فراغت کے بعد انہیں جامعہ کا ناظم بنایا اور ان پر بھر پور اعتماد کیا اور ان کو اپنا مشیرکار بنایا۔ اسی طرح مولانا مرغوب کو صدر المدرسین بنایا ۔
مولانا ناظم اس وقت ضمانت پر رہا ہیں اور جامعہ مدنیہ سبل پور سے انہوں نے دوری بنا لی ہے اس بیچ نۓ ناظم حافظ حارث نے کرونا وائرس کی وبا کے بعد تعلیمی نظام کے آغاز کے لیے داخلہ کی کارروائی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے، آپسی تنازعہ کی وجہ سے جامعہ کے وجود پر خطرہ لاحق ہوگیا ہے، اسلاف نے اپنے خون پسینے سے اس ادارہ کو سینچا تھا خدشہ اس بات کا ہے کہ کہیں بد نظر اپنے منصوبے میں کامیاب نہ ہو جائیں اور جامعہ پر قانونی تالا نہ لگ جائے، میری ذاتی رائے ہے کہ اس حساس مسئلے پر راجدھانی کے باشعور، قوم ملت کے غم خوار کو بھی آگے آنا چاہیے اور خاندانی جھگڑے کا حل تلاش کرنے پیش قدمی کرنی چاہئے، اکابر کے خوابوں تعبیر کے تحفظ کیلئے لوگوں کے آگے آنا چاہیے