مفکراسلام حضرت مولانا علی میاںؒ اور مسلمانوں کے درمیان بپا فکری اور نظری مسئلہ

27

آٹھویں قسط

محمدانتخاب ندوی

مفکراسلام حضرت مولانا علی میاںؒ اور مسلمانوں کے درمیان بپا فکری اور نظری مسئلہ

اس وقت اختلاف بین المذاہب کی زبردست آپسی کشمش بپا ہے، مسلم فرقوں کے مابین نظریاتی وفکریاتی جنگ سے مسلمانان ہند کو جتنا نقصان پہونچاہے شاید کہ کسی اور مسئلہ سے اتنا نقصان پہونچا ہے، ہر ایک مدمقابل کے خلاف شمشیر کفر لئے کھڑا ہے ،ہرایک اپنی زبان سے لاالہ الااللہ کی صدا تو ببانگ دہل ڈنکے کی بلند کرتے ہیں مگر کوئ اپنے مخالف فکر کی مسجد میں نماز ادا کرنے کو تیار نہیں،کوئ کسی کے جلسہ اور شادی بیاہ میں شرکت کرنے کو تیار نہیں ،جن میں پیش پیش سلفیوں کی جماعت ہے،جس نے مذاھب اربعہ کے خلاف ایک مہم چھیڑ دی ہے،حتی کہ مقلدین کو بدعتی،ضال یہاں تک کہ مشرک کہا جانے لگا،غرض یہ کہ کوئ افراط کا شکار ہے تو کوئ تفریط کا،کوئ شخصیت پرست ہے تو کوئ قاتل شخصیت،اور جسکا پورا پورا فائدہ دشمنان اسلام اٹھارہے ہیں،گودی میڈیا نے تو بھارت کی مسلم قوم کو لقمہ تر سمجھنا شروع کردیا ہے ، جب چاہتا نگلتا ہے اور ہر میدان میں پسپائ کا سامنا کررہے ہیں تو ایسے موقع ہمارا شیرازہ امت کو متحد کرنے کے تئیں کیا موقف ہونا چاہیے؟

*مفکر اسلام اور راہ اعتدال*

داعی اسلام مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی اپنی کتاب سوانح مفکر اسلام میں لکھتے ہیں کہ:

"ابتدائ دور کی بات ہے کہ جب حضرت فقہ حنفی کے ایک بڑے ادارے میں تشریف لے گئے تو معلوم ہوا کہ دوسرے مسلک کے طالب علم کو جس نے رفع یدین کیا تھا یا آمین باالجہر کہی تھی مدرسہ سے نکال دیا گیا تو حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے حنفی ہونے کے باوجود کئی روز تک رفع یدین بھی کیا اور آمین بالجہر بھی کہی، تاکہ ان لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ بھی حق ہے، اسی طرح دو تین سالوں سے خاص طور پر جب سلفیت کی تحریک شروع ہوئی،اور اس نے دوسرے مسائل پر تیشے چلانے شروع کئے،ان کو ضال اور مفضل قرار دیا،تو پھر حضرتؒ اسکے خلاف آواز بلند کی،اور خود جماعت اہل حدیث کے مقتدر علماء کو اس کی طرف متوجہ کیا،اور اس فتنے کے سدباب کی کوشش فرمائ،

واقعہ یہ ہے کہ اس میدان میں بھی حضرت ؒکی خدمات سے امت کو بڑا نفع ہوا اور باہمی انتشار و افتراق کے جو بادل منڈلا رہے تھے اس میں کمی واقع ہوئی

*بحوالہ* *سوانح مفکر اسلام ص٥٠٩۔٥١٠*

ایک اور جگہ مولانا بلالحسنی ندوی مفکر اسلام کی اتحاد ملت کی فکر کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ

جب چند سالوں سے سلفیوں کی طرف سے مذاھب اربعہ کے خلاف ایک مہم چھیڑی گئ تھی،اور ماحول دگرگوں ہورہا تھا تو حضرت نے اسکی ضرورت محسوس فرمائ کہ اس اشتعال پر جوابی کاروائ یا مناظرہ کے بجاۓ سلجھے ہوۓ اہل حدیث علماء وقائدین کو اسکی طرف توجہ دلائ جاۓ اور اسکے نتائج وخطرات سے آگاہ کیا جاۓ،حضرت نے اسکے لئے ایک مفصل مکتوب تحریر فرماکر روانہ فرمایا۔سعودی عرب کے مفتی اعظم علامہ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز نے خصوصیت کے ساتھ اسکا جواب دیا اور اپنے معتدل نظریہ کی وضاحت کی،اس سلسلہ میں "رابطہ عالم اسلامی”کی مناسب تجاویز بھی ارسال فرمائیں جسمیں "ائمہ اربعہ”کی عظمت کے پورے اعتراف کے ساتھ عوام کےلئے تقلید کے جواز بلکہ ضرورت کا اظہار کیا گیا ہے۔

**بحوالہ سوانح مفکر اسلام ص ٤٥١ََ۔٤٥٢*