مرکزی حکومت کو ضد چھوڑ کر نئے کسان قوانین کو واپس لینا چاہئے۔ ایس ڈی پی آئی

28

نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ کسانوں کے احتجاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کا تبصرہ کہ ‘ہمیں نہیں لگتا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے معاملے کو صحیح طریقے سے سنبھال رہی ہے، یہ مرکزی حکومت کے ضد اور گھمنڈ کو سخت دھچکاہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ناکارہ زرعی قوانین کو روکنے کا مشورہ دیاہے اور دارلحکومت میں ایک ماہ سے زیادہ طویل کسانوں کے احتجاج کو ختم کرنے کیلئے بات چیت کاراستہ اپنانے کی صلاح دی ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے جو حال ہی میں پارلیمنٹ میں بغیر کسی مناسب بحث و مباحثے کے کسانوں سے متعلق تین زرعی قوانین کو منظور کیا ہے وہ کسانوں کیلئے نقصاندہ ہیں اور ان کا مقصد کارپوریٹس کو زرعی پیداوار کے مارکیٹ میں داخل ہونے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس کی وجہ سے کارپوریٹس کی طرف سے طے شدہ قیمتوں پر کسانوں کو اپنی پیداوار فروخت کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت نقصاندہ قوانین کو منسوخ کرنے کے کسانوں کے جائز مطالبہ پر سنگدلی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ کسانوں کے احتجاج کو 47گزر چکے ہیں اور مرکزی حکومت کسانوں کے انصاف کے مطالبے پر توجہ دینے کے بجائے ان کا مذاق اڑا رہی ہے۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کا مطالبہ ہے کہ مرکز ی حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی انا اور ضد کو چھوڑ کر نقصاندہ زرعی قوانین کو فوری طور پر واپس لے۔