ہونے دو بے لباس انھیں رختِ خواب پر تحریر:حافظ میر ابراھیم سلفی مدرس بارہمولہ کشمیر

36

ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پہ طنز نہ کر

ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں

 

تاریخ کے ماہرین اس بات سے باخبر ہیں کہ سرزمین کشمیر اولیاء کامیلین، صالحین اور عظیم بزرگوں کی جاۓ پناہ کی حیثیت رکھتی تھی۔سیدنا بلبل شاہ رحمہ اللہ، شیخ نورالدین نورانی رحمہ اللہ، سیدنا میر سید علی ہمدانی رحمہ اللہ سے لیکر سید انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ و سید انور شاہ شوپیانی رحمہ اللہ تک علماء و زاہدوں کی ایک بڑی جماعت اس سرزمین پر دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دے چکے ہیں۔ عصر حاضر میں میر واعظ کشمیر مفسر قرآن یوسف شاہ رحمہ اللہ، سید قاسم شاہ بخاری رحمہ اللہ، سید قاسم شاہ طیبی رحمہ اللہ، میر واعظ غلام نبی مبارکی رحمہ اللہ، مولانا عبدالرشید طاھری رحمہ اللہ، مولانا عبدالرحمن نوری رحمہ اللہ، سید مقبول گیلانی رحمہ اللہ ایسے نام ہیں جن سے اس سرزمین کی مہک آسمانوں کو چھوتی نظر آرہی ہے۔لیکن عرصہ دراز سے اس سرزمین کشمیر پر اغیار کی طرف سے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ ایک مدت سے ہم اپنے معصوم گلابوں کو مسلتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ اپنے نوجوانوں کی لاشوں کو ہم اپنے کندھوں پر رکھ کر قبروں کی زینت بنا رہے ہیں۔شہادت کا بازار گرم ہے۔ایک طرف صالحین کا مرکز اور دوسری طرف میدان شہادت۔ثالثاً ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی عفت و عصمت سر عام لوٹی گئی۔ 23 فروری 1991 کی صبح کسے یاد نہیں جب طاغوت کے پجاریوں نے کپواڑہ ضلع سے تعلق رکھنے والے دو گاؤں کنن اور پوشپورہ میں قریباً سو کے آس پاس مسلم بہنوں اور ماؤں کی عفت سربازار لوٹی گئی۔ اس سے قبل 1988 میں سرزمین کشمیر پر باطل کے علمبرداروں نے عصمت ریزی کو بحیثیت "weapon of war” استعمال کیا۔ ہزاروں ایسے واقعات پیش آئے لیکن انہیں طاقت کے بل بوتے پر چھپایا گیا۔الغرض یہ بات واضح ہے کہ کشمیر اور اہل کشمیر عرصہ دراز سے ظلم اور ظالم کے خاتمے کی صبح کے طلوع ہونے کے منتظر ہیں۔کیونکہ قربانیاں ضائع نہیں ہوتیں۔ خون اپنا رنگ دکھا کر ہی رہتا ہے۔

 

سب کی پگڑی کو ہواؤں میں اچھالا جائے

سوچتا ہوں کوئی اخبار نکالا جائے

 

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ 5 اگست 2019 سے قبل اور بعد بھی غیر ریاستی مزدور بھی ان شرمناک افعال میں مبتلا تھے اور آۓ روز ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں جس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ غیر ریاستی مزدور فقط رزق کی تلاش میں نہیں آتے بلکہ کچھ اور حقائق بھی پس پردہ ہے جن سے پردہ ہٹانا شاید ممکن نہیں کیونکہ ضمیروں کا سودا اپنے عروج پر ہے۔اب حالات نے کروٹ بدلی ہے۔ ماضی قریب میں عفت فروشی کے بازار اغیار کی طرف سے گرم ہوتے تھے لیکن اب نوجوان نسل میں ایسا زہر برا جارہا ہے کہ بھائی کے سامنے اب اپنی سگی بہن بھی محفوظ نہیں۔اہل انصاف اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہاں پر لوگوں نے اپنی غیرت اور ایمان کا سودا محض چند سکے حاصل کرنے کے لئے کیا۔کچھ سال قبل نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیری لوگ پوری دنیا میں بالعموم اور ملک ہندوستان میں بالخصوص اپنی الگ پہچان، شرف وعزت اور رعب کے مالک تھے۔لیکن باطل کے علمبرداروں نے ہمارے خون کی اچھی طرح جانچ پڑتال کی ہے۔اللہ رب العزت کا کلام حق ہے کہ مال اور اولاد عظیم فتنے ہیں۔باغیرت افراد کو خریدا گیا۔ انکے قلم اور زبان پر مہر لگا دی گئی۔جب ایک شخص کے ہاتھ میں دولت کے انبار جمع ہو جائیں، جب کچے مکان میں رہنے والے افراد کو محلوں میں بٹھایا جائے، جب دو وقت کی روٹی کو ترسنے والے افراد کے ہاتھ میں خزانوں کی چابی رکھی جائے تو نتیجہ یہی نکلے گا بندے کا ایمان اور غیرت دونوں لٹ جائے گی۔فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ "دینار اور درھم کے بندے ھلاکت میں پڑ گئے”.(الحدیث) ۔ ثانیاً تعلیم کے نام پر وہ زہر قاتل ملت کے بچوں میں پھیلا گیا جس سے جنت و جہنم، قبر و حشر کو فقط افسانہ بناکر پیش کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دن بہ دن کفر و الحاد (Atheism) ہماری بستیوں میں پھیل رہا ہے۔ جب دل سے رب العزت کا خوف زائل ہو جاۓ، جب شہنشاہ کائنات کی معرفت سے دل محروم ہو جائے، جب ایمان کو افسانہ سمجھ کر نظر انداز کیا جائے تو بندے کی ترجیح دنیا اور دنیا کی زندگی رہتی ہے اور آخرت کا تصور ترجیحات سے خارج ہوتا ہے اور یہی حال آج اہل کشمیر کا ہے۔ (الا من رحم ربی)

 

زوالِ شب میں کسی کی صدا نکل آئے​

ستارہ ڈوبے ستارہ نما نکل آئے​

 

عجب نہیں کہ یہ دریا نظر کا دھوکا ہو​

عجب نہیں کہ کوئی راستہ نکل آئے

 

اہل عقل جانتے ہیں کہ نوجوان نسل میں منشیات کی نجاست کو فروغ دینے میں طاغوت کے پجاریوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ایک طرف سے اس قوم کو ذہنی امراض میں مبتلا کرایا گیا اور جب پوری قوم خوف و وحشت کے دلدل میں بھٹک گئی تو اس بے بسی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ملت کے نوجوانوں میں شراب و خمر کو فروغ دیا گیا۔ اسی طرح سیاسی کھیل کے انجمن کو سجانے کی خاطر نوجوان نسل کو بے روزگاری میں مبتلا کرایا گیا، نتیجتاً نوجوان نسل منشیات، فحاشی، عریانی، بے حیائی اور بے شرمی کے اس نجس کنویں میں گر گئی جس میں گر کر اب وہ اس گلستان کو خود اپنے ہاتھوں سے جلا رہے ہیں۔یہ بات متفق علیہ ہے کہ کفر اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے، حیا اور فحاشی ایک ہی دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔ کافر کبھی مسلم کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا لیکن عارضی عیش و عشرت کے لمحات پانے والے لاعلم افراد شاید اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔اہل کشمیر ایک ذی عزت قوم تھا لیکن آج جگہ جگہ پر رسوائی ہماری مقدر بن چکی ہے۔اب وقت ایسا آچکا ہے کہ ہمارے اپنے بھائی ملت کی بہنوں کی عفت کو تار تار کر رہے ہیں۔ملت کی بہنیں فخر سے اپنے کردار کو سربازار لٹوا رہی ہے۔ جب معروف اور منکر کی معرفت زائل ہو جائے تب ماں، بیٹی، بیوی، محرم، نامحرم میں تمیز کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ انہیں ایام کی بات کی جائے تو 31 اکتوبر 2020 کی وہ شام کسے یاد نہیں جب ضلع کلگام کے گاؤں پونہ واہ میں ایک شادی کی تقریب میں بحیثیت مہمان آئی ہوئی 21 سالہ مسلم بیٹی کو دو کشمیری درندوں نے اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ ارض و سماء یہ واقعہ دیکھ کر تھرتھرائے۔ پھر کچھ روز بعد ہی ملت کی یہ بہن سفر آخرت پر روانہ ہو گئی۔ جنوبی کشمیر میں مختلف دینی و دعوتی تنظیمیں کام کررہی ہیں لیکن ایسے حادثات میں بڑھتی ہوئی شرح کچھ اسرار سے پردہ ہٹارہی ہے۔ ایک طرف آسمانی قہر تو دوسری طرف زمینی فضا رو رہی ہے لیکن ہم غفلت کی نحوست بھری نیند میں سوئے ہوئے ہیں۔کچھ روز قبل ہی hmt سرینگر میں ایک مشکوک قتل عام کی محفل سجائی گئی لیکن ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ حقائق پر بات کی جائے تو یہاں جرائم کی ایک وادی مخفی طریقہ سے سجائی جارہی ہے۔ چند دن پہلے ہی کلگام کے ہی علاقہ دیوسر میں ایک 11 سالہ معصوم بچی کو ایک وحشی درندے نے اپنی ناپاک ہوس کا شکار بنایا۔ 13 اپریل 2019 کے روز ایک شرمناک خبر چاروں اطراف میں پھیل گئی کہ ضلع بانڈی پورہ سے رہنے والے ایک باپ نے سال ہا سال اپنی ہی بیٹی کی عفت پر ڈاکہ مارے ہیں۔۔۔۔۔ آخر یہ قوم کس طرف جارہی ہے۔۔۔۔۔۔؟

 

جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں​

فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں​

اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں​

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں​

ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں​

 

سلف و صالحین کی سنت رہی ہے کہ جب جب قوم و ملت میں الحاد پھیلا تب تب انہوں نے اپنی علمی صلاحیت سے اس فتنے کا تعاقب کیا۔ سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ھے کہ "جب فتن کا نزول ہوتا ہے تو فقط علماء ہی پہچان جاتے ہیں کہ یہ فتنہ ہے اور جب فتن تباہی کرکے رخصت ہوتے ہیں تب جاکر جاہل کو بھی معلوم پڑجاتا ہے کہ یہ فتنہ ہے”.(سیر اعلام النبلاء) کسی حد تک اگرچہ علماء و مدرسین اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی یہ کے کہ ان کے کام کرنے کا دائرہ محدود رہ گیا ہے۔سرزمین کشمیر پر پھیلتے الحاد کے ذمہ دار کہیں نہ کہیں وہ دینی انجمن بھی ہیں جو مخصوص فقہی و اجتہادی مسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔نوجوان کشمیر اس حد تک غیروں کی اندھی تقلید میں گر چکے ہیں کہ انکی نجاست کو بھی تبرک سمجھ کر قبول کرتا ہے۔ (نعوذ باللہ) سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا فرمان ھے کہ "ہم وہ لوگ ہیں جنہیں اﷲ تعالیٰ نے اسلام کے ساتھ مربوط ومنسلک رہنے میں عزت عطا فرمائی ہے، اگر ہم نے اسلام کے علاوہ کسی دین یا تحریک سے اپنی عزت کی راہیں ڈھونڈنے کی کوشش کی تو اﷲ تعالیٰ ہمیں ذلیل کردے گا۔”(سیر اعلام النبلاء) امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی الجامع الصحیح کے اندر روایت نقل کی ہے کہ "تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طور وطریقوں کی اس طرح پیروی کروگے جس طرح ایک بالشت دوسری کے برابر ہوتی ہے حتیٰ کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے تو تم اس میں بھی ان کے پیچھے لگوگے”.(صحیح بخاری) اسی طرح فرمان ربانی ہے کہ "یہ یہودی اور عیسائی اس وقت تک ہرگز آپ سے خوش نہ ہونگے جب تک کہ آپ ان کے طریقے پر نہ چلیں”.(البقرة:2 – آيت:120) لیکن اس قوم کے مبلغین طلب شہرت اور حسد کی آگ میں جل کر خود غزوہ فکری کے شکار ہوچکے ہیں۔ (الا من رحم ربی)

 

ارض کشمیر کفار کے تسلط کے بعد بھی ان شرمناک افعال و محرمات سے پاک و طیب تھی لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے بدکاری و دیگر ناپاک جرائم کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ کاش ارض کشمیر کی بیٹی اپنی عظمت سے باخبر ہوتی۔ کس خون سے اس گلستان کو ہم نے آباد کیا ہے، کاش اس قوم کا غیور جوان اس فکر سے آشنا ہوتا کہ کن عظیم افراد نے اپنی جان کا نظرانہ ہماری فتح کے لئے پیش کیا ہے۔۔۔۔ چند منٹ کی لذت حاصل کرنے کی خاطر کیوں اپنے چمن کو برباد کر رہے ہو؟ وہ بھی مسلمان ہی تھے جن کے بارے میں اقبال نے کہا تھا۔۔۔۔

 

کافر ہے مسلماں تو نہ شاہی نہ فقیری

مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں

مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

 

 

وہ بوسیدہ پیوند زدہ کپڑوں میں چلتے پھرتے ستارے تھے۔ وہ محنت کش مجسموں میں جہاد کے علمبردار تھے۔ وہ علم و عمل کے ماہر، حکمت و فنون کے پیکر تھے۔۔۔۔۔ اور تم کیا ہو؟؟ وہ خلوت و جلوت کے طاہر تھے۔ وہ ظاہر و باطن کےکے مطیع رسول ﷺ تھے۔ مولانا حالی رحمہ اللہ نے بھی اپنی مسدس کے اندر اس کی تصویر یوں کھینچی ہے کہ

 

گھٹا سر پہ ادبار کی چھارہی ہے

فلاکت سماں اپنا دکھلارہی ہے

نحوست پس و پیش منڈلارہی ہے

چپ و راست سے یہ صدا آرہی ہے

کہ کل کون تھے آج کیا ہوگئے تم

ابھی جاگتے تھے ابھی سوگئے تم

 

بدفعلی بہت بڑا جرم اور تباہ کن بدی ہے۔ رب کائنات نے اس گناہ پر لعنت مسلط کی ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ اسلام میں بعض سنگین گناہ بھی بتدریج حرام قرار دئیے گئے لیکن بدفعلی کو اولاً ہی حرام قرار دیا گیا۔ سابق اقوام میں بھی جب کوئی عورت بدکاری کرتی تو اسے موت تک گھر میں قید کردیا جاتا۔ جیسا کہ تفسیر طبری میں وارد ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ کا فرمان ہے کہ قتل نفس کے بعد بدفعلی سب سے قبیح گناہ ہے۔بلکہ بعض صورتحال میں یہ گناہ قتل نفس سے زیادہ قبیح بن جاتا ہے۔بدکاری کے دروازے کو کھولنا انسانیت کے وجود کو مٹا دیتی ہے۔اس گناہ سے بچنے کی دعا مانگنا سنت نبوی ﷺ ہے۔ رسول کریمﷺ کی تعلیمات گواہ ہیں کہ زبان اور شرمگاہ کی ضمانت پر جنت کا وعدہ رکھا گیا ہے۔ بدفعلی سے انسان کا ظاہر و باطن سیاہ ہوجاتا ہے۔ شہوت پورا کرنی کی قدرت پانے کے بعد اپنے کردار کی حفاظت کرنا مطلوب و مقصود ہے۔ امام بغوی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ "اگر کوئی شخص کسی خاتون کے ساتھ بدکاری کا قصد کرے اور وہ خاتون اپنے نفس کے دفاع میں اسے قتل کردے تو اس پر کوئی حد نہیں”.(شرح السنہ) احادیث میں آیا ہے کہ جب بندہ شراب پیتا ہے یا بدفعلی کرتا ہے تو ایمان اس کے وجود سے نکل جاتا ہے۔یہ قطعی قانون قدرت ہے کہ ” جب کسی قوم میں بدکاری پھیل جاتی ہے تو اس قوم پر اللہ کا عذاب کثرت اموات اور کثرت امراض کی شکل میں مسلط ہوتا ہے ".جب تک اس امت میں ولد حرام کی کثرت نہ ہوگی تب تک یہ امت خیر پر ہی رہے گی۔ بدامنی، خون ریزی و دیگر فسادات کی مفتاح یہی جرم بد ہے۔

تبھی اسلام نے شادی شدہ زانی و زانیہ کو رجم کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ پتھروں سے ایسے افراد کو سنگسار کیا جائے گا۔جبکہ غیر شادی شدہ پر شرعی حد نافذ ہوگا۔جاہلیت میں تو مختلف اقوام ایسے زانی یا زانیہ کا منہ سر عام سیاہ کیا کرتے تھے۔ یہ رسوا کن نجس گناہ ہے جس سے قوموں پر زوال طاری ہوجاتا ہے۔

 

Character can help guide you in difficult times, and judging it well can help you determine whether to trust someone. It is also important to think critically and honestly about our own character and about how we can become better people.

 

وقت کا تقاضا ہے کہ ملت کے والدین ہوش کے ناخن لیں اور وادی سے باہر پڑھنے والے اپنے بچوں کی نگرانی کریں۔ قوم کے ذی شعور افراد، مبلغین، واعظین اور خطباء اب اصلاح معاشرے پر زیادہ توجہ دیں۔ جدید فتنوں کا تعاقب کرنے کے لئے اپنی ذات ذہنی صلاحیت وسیع کریں۔یاد رکھو اگر دنیا فنا ہونے والے سونے کی ہوتی اور آخرت لازوال ٹھیکرے کی،تو لازوال ٹھیکرے کو فانی سونے پر ترجیح دینا واجب ہوتا ۔۔چہ جائیکہ آخرت لازوال سونے کی بنی ہوئی ہے اور دنیا فانی ٹھیکرے کی۔

 

سکھا دیتی ہے قدرت جن کو اندازِ جہانبانی​

وہ ہر الجھی ہوئی گتھی کو سلجھایا ہی کرتے ہیں​

 

لگن ہو جن کے دل میں وہ پہنچ جاتے ہیں منزل تک​

حوادث راستے میں دام پھیلایا ہی کرتے ہیں​

 

اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمیں شرم و حیا کے کردار سے نوازے۔۔۔ اللہ ہمیں دینی غیرت عطا کرکے دونوں جہانوں کی فتح عطا کرے۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔