مشہور صحافی اور دارالعلوم دیوبند کے سابق ترجمان عادل صدیقی کا انتقال!

51

دیوبند ۔16 جنوری 2020
دارالعلوم دیوبند کے میڈیا ترجمان و شعبہ محاسبی کے سابق ناظم اور مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کی منتظمہ کمیٹی کے رکن ،صحافی اور ادیب عادل صدیقی کا طویل علالت کے بعد گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ محلہ خواجہ بخش میں تقریباً 91سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ۔ان کے انتقال کی خبر پر دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران شہر کے سرکردہ افراد نے رہائش گاہ پر پہنچ کر اہل خانہ کو تعزیت مسنونہ پیش کی ۔مرحوم کافی دنوں سے صاحب فراش تھے ۔عادل صدیقی نے اعلیٰ تعلیم مکمل ہونے کے بعد سہارنپور ،مظفر نگر اور سیوہارا میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔بعد ازاں وہ حکومت ہند کے اطلاعات و نشریات کے محکمہ سے بطور اسٹنٹ انفارمیشن آفیسر منسلک رہے ۔ 1981میں اپنے ریٹائرڈمنٹ کے بعد قومی آواز،الجمعیۃ اور آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے ، اسی کے ساتھ ساتھ ماہنامہ و میگز ین و رسائل یوجنا اور آج کل کے نائب مدیر اعلیٰ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں ۔عادل صدیقی اردو اور انگریزی زبانوں کے ماہر تھے ملک میں مختلف رسائل ،میگزین اور اخبارات میں ان کے مضامین اور تجزیہ تسلسل کے ساتھ شائع ہوتے رہتے تھے ۔انہوںنے انگریزی زبان کی متعدد کتب کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ۔ریٹائر ڈمنٹ کے بعد عادل صدیقی دیوبند واپس آ گئے اور دارالعلوم دیوبند کے دفتر محاسبی کے ناظم اور ادارہ کے ترجمان کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ۔اس دوران وہ آل انڈیا ریڈیو کے مخصوص پروگرام ’’اردو سروس‘‘کے مختلف پروگراموں کے لئے عرصہ دراز تک شرکت کرتے رہے ۔عادل صدیقی کی وفات پردارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے دعاء مغفرت کی۔مسلم فنڈ ٹرسٹ دیوبند کے منیجر سہیل صدیقی ،سابق چیئر مین انعام قریشی اور یوپی رابطہ کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر عبید اقبال عاصم نے اپنے تعزیتی پیغامات میں عادل صدیقی کی وفات کو اردو صحافت کا بڑا حادثہ قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ عادل صدیقی نے صاف ستھری صحافت کے جو نقوش ثبت کئے ہیں ہو نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہیں ۔ان کا انتقال دنیائے اردو صحافت کا عظیم نقصان ہے ۔انہوںنے کہا کہ مرحوم کی خوش اخلاقی و خوش مزاجی ضرب المثل تھی ۔ملک کے صحافیوں میں بلند قامتی کے باوجود ان کی عاجزی و انکساری قابل دید و لائق تقلید تھی ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے ۔ دیوبند کے تمام صحافیوں اور سینئر صحافی اشرف عثمانی نے بھی عادل صدیقی کی وفات کو صحافت کا خسارہ عظیم قرار دیا ۔نماز جنازہ بعد نماز عصر احاطہ مولسری میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے ادا کرائی ،بعد ازیں قاسمی قبرستان میں تدفی عمل میں آئی ہے ۔ ان کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا عبد الخالق مدراسی ،مولانا عبد الخالق سنبھلی ،جامعہ امام محمد انور شاہ کے مہتمم مولانا احمد خضر شاہ مسعودی ،دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر ، نامور عالم دین مولانا ندیم الواجدی ،سابق رکن اسمبلی معاویہ علی ،جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید ،عید گاہ وقف دیوبند کے متولی مولوی محمد انس صدیقی، حاجی انور عثمانی ،حافظ فہیم عثمانی ،راحت خلیل ، قلمکار سید وجاہت شاہ،حاجی ریاض محمود اور قاضی فرحان وغیرہ نے مرحوم کے سانحہ پر صدمہ کا اظہار کیا ۔