شان شان کا فرق، شرط تو یہ ہے کہ ہم خدا سے مانگیں تو سہی

50

محمد قمر الزماں ندوی (روزنامہ نوائے ملت) مشہور واقعہ ہے کہ محمود غزنوی کا دور تھا، ايک شخص کی طبیعت ناساز ہوئی تو طبیب کے پاس گیا۔

اور کہا کہ مجھے دوائی بنا کے دو! طبیب نے کہا کہ دوائی کے لیے جو چیزیں درکار ہیں سب ہیں سوا شہد کے تم اگر شہد کہیں سے لا دو تو میں دوائی تیار کیے دیتا ہوں اتفاق سے موسم شہد کا نہیں تھا ۔۔

اس شخص نے حکیم سے وہ ڈبیا پکڑی اور لوگوں کے دروازے کھٹکھٹانے لگا، مگر ہر جگہ مایوسی ہوئی

جب مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ محمود غزنوی کے دربار میں حاضر ہوا

کہتے ہیں وہاں ایاز نے دروازہ کھولا اور دستک دینے والے کی رواداد سنی اس نے وہ چھوٹی سی ڈبیا دی اور کہا کہ مجھے اس میں شہد چاہیے ایاز نے کہا آپ تشریف رکھیے میں بادشاہ سے پوچھ کے بتاتا ہوں

ایاز وہ ڈبیا لے کر بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا اور عرض کی کہ بادشاھ سلامت ایک سائل کو شہد کی ضرورت ہے

بادشاہ نے وہ ڈبیا لی اور سائیڈ میں رکھ دی ایاز کو کہا کہ تین کین شہد کے اٹھا کے اس کو دے دیے جائیں

ایاز نے کہا حضور اس کو تو تھوڑی سی چاہیے

آپ تین کین کیوں دے رہے ہیں

بادشاہ نے ایاز سے کہا: ایاز وہ مزدور آدمی ہے اس نے اپنی حیثیت کے مطابق مانگا ہے،ہم بادشاہ ہیں، ہم اپنی حیثیت کے مطابق دیں گے

مولانا رومی فرماتے ہیں

آپ اللہ پاک سے اپنی حیثیت کے مطابق مانگیں وہ اپنی شان کے مطابق عطا کریگا شرط یہ ہے کہ مانگیں تو سہی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دعا جو عبادت کا مغز، لب لباب اور خلاصہ ہے، آج اس کا کماحقہ اہتمام ہی نہیں ہے، ہم صرف رسمی طور پر ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور دعا کر لیتے ہیں اس میں یقین، خلوص، درد ، تڑپ اور اللہ سے الحاح اور اصرار نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے ہماری دعا ہمارے نصیبہ کو نہیں بدل پاتی ہے۔۔۔ اگر مومن بندہ صدق دل سے دعا کرے اور اس کے جو تقاضے،آداب اور شرائط ہیں اس کی رعایت کرے تو اللہ اس کی دعا ضرور سنتا ہے، کبھی فوری کبھی دیر سے اور کبھی اس کے بدلے میں کوئی اور چیز عطا کرتا ہے۔۔۔ مومن بندے کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی ہے۔۔۔ الا یہ کے وہ دعا کرنے والا خلاف شرع چیز مانگے یا مال حرام سے بچتا نہ ہو۔۔۔۔

دعا کا اہتمام ہر مومن کو کرنا چاہیے، کیونکہ دعا عبادت کا خلاصہ اور مغز ہے، اگر بندہ اللہ سے مانگنا چھوڑ دیتا ہے تو اللہ اس سے ناراض ہوجاتا ہے۔۔۔ اس لیے ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ سے ضرور مانگے اور اپنی حیثیت کے مطابق مانگے اللہ اسے اپنی شان کے مطابق عطا فرمائیں گے۔۔۔۔

دعاء کے معنی پکارنے اور مانگنے کے ہیں، انسان کا اپنے خالق و رازق سے مانگنا دعاء ہے۔۔ اس محتاج انسان کو جگہ جگہ دعا کی ضرورت ہے، محتاج انسان کی ضرورت پوری کرنے والا صرف وہی قادر مطلق ہے، جو ہر ایک کی سنتا ہے اور جس کا وجود ضروری ہے اور جو ازلی اور ابدی ہے۔۔۔ جس کے ایک اشارہ پر کائنات متحرک رہتی ہے، جس کے حکم سے مہر و ماہ لوگوں کے لیے اپنی آنکھوں کو جلاتا ہے اور پاوں تھکاتا ہے، جن سے اس کا کوئی نفع و نقصان متعلق نہیں، یہ ذات خالق کائنات کی ہے۔۔۔ جس کے خزانہ قدرت میں ہر چیز اتھاہ اور بے پناہ ہے۔۔ خلاصہ یہ کہ محتاج مطلق کا قادر مطلق کے سامنے ہاتھ پھیلانا دعاء ہے۔۔

انسان قول و عمل کے ذریعہ ناگواری کا اظہار کرے نہ کرے تو سوال و طلب پر کم سے کم دل میں گرانی محسوس کرتا ہے۔۔ لیکن اللہ اکبر خدا کی شان یہ ہے کہ سوال ہی اس کو سب سے زیادہ محبوب ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی چیز اللہ کو دعاء سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور اس کی شان کریمی یہ ہے کہ دست سوال کو خالی واپس کرتے ہوئے حیاء کرتا ہے ، اس لیے تو آقا مدنی ﷺ نے دعا کی خاص ترغیب دی اور اس کو عبادت کا مغز قرار دیا۔۔۔۔ (ترمذی)

آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہم سب اپنے رب سے مانگیں گے اس کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے، اس کے سامنے اپنی ضرورت رکھیں گے اپنے مقام کے مطابق مانگیں گے، یقیناً وہ اپنی شان کے مطابق عطا فرمائیں گے۔۔۔