تشہیر کی تجارت

26

تحریر :خورشید انور ندوی
16 جنوری 2021 دنیا بدلی تو سب کچھ الٹ پلٹ ہوگیا.. اس دنیا کو تیز گام تو ہونا ہی تھا جو کن فیکون سے وجود میں آئی.. ستۃ ایام (6 دن)، آفرینش کائنات کے لئے، بشری امکانات کی حد تک، کن فیکون جیسے ہی ہیں، جن میں خالق نے اپنی خلق کو تفصیل بخشی.. زمین کو پہاڑوں کی میخ سے استقرار بخشا، زمین بجھا کر دو ڈھائی فٹ کی پیداواری مٹی کی پرت ڈالی.. ساری سرسبزی اور شادابی کی لہر اسی کی مرہون ہے.. ندی نالوں جھرنوں کا جھومر ڈالا، اتنی بڑی تخلیق میں سب کچھ موزوں، مستحکم اور پابند رفتار ہے، کچھ الٹا پلٹا نہیں… وہیں مخلوق نے تھوڑی تیزی دکھائی اور سب کچھ الٹ پلٹ ڈالا، صنعتوں کا انقلاب آیا.. دنیا مزدور بن گئی اور مزدور، صنعت کاروں کے ہوسناک بھوکے پیٹ کا ایندھن بن گئے..سماجی قدریں تبدیل ہوگئیں، خاندانی نظام اکائی پسند ہوگیا.. معلوماتی ٹکنالوجی آئی، تو دنیا اپنے آپ میں علاحدگی پسند بن گئی..گھر سے زیادہ گھر کے کونے بن گئے. سماجی رابطے کم ہوگئے، اور ذہنی سطح تک محدود رہ گئے.. رابطے ان دیکھے رہنے کی وجہ سے، بد تعبیر بے مہار اور ناشائستہ ہوگئے.. معاشرہ، معاشرہ کی اصلاح کا ذمہ دار بھی ہے اور ذریعہ بھی.. یہاں تو معاشرہ ہی ٹوٹ رہا ہے.. ہر چیز الٹی پلٹی ہوگئی ہے، ایسی ہی جیسے کی تحریر کا عنوان الٹ گیا ہے.. ہمیشہ سے "تجارت کی تشہیر” ہوتی آتی ہے اور اب "تشہیر کی تجارت” ہورہی ہے.. ہم اس میں بھی سب سے آگے ہیں.. ویکسین آئی نہیں کہ سارا میڈیا اس طرح مبتلائے آزار ہوا کہ اب دنیا میں ہم نے ہی اکیلے کوئی کام کردیا ہے، باقی سب سورہے ہیں.. ساری دنیا ویکسینیشن پروگرام چلا رہی ہے، یہ روٹین ہے.. ہمارے یہاں یہ ہیروشپ اور سپرمیسی ہے..ٹی وی پر میں زیادہ تر اکانومی دیکھتا ہوں، وہ چینلز بھی صرف ویکسینیشن پروگرام کور کررہے ہیں.. ہم اتنے بڑے ہیرو تھے تو کڑوروں دوز کا آرڈر بیرونی دواساز کمپنیوں کو تین چار مہینے پہلے کیوں دیا تھا؟ مجھے ذاتی طور پر حکومت کی نیت پر بلاجواز شک کرنا پسند نہیں، نہ ہر مناسب اقدام کو بلاوجہ سیاست زدہ کرنا پسند ہے لیکن ہر لازمی خدمت اور ہر بنیادی ذمہ داری کی ادائیگی کو فریضہ کے بجائے نمائشی خیرات بنا دینا بھی ایک آنکھ نہیں بھاتا.. میرے ملک میں ہر چیز الٹی ہے.. سب سے زیادہ وہ بولتا ہے جو سب سے ان پڑھ ہے ریکارڈ کے مطابق، اور اپنے اعتراف کے مطابق، پانچ پاس، دوسرے نمبر وہ جس کی ڈگری جعلی ہے اور ڈگری کے بوجھ سے ہی دب بھی گئی.. میرا ملک بھی کیا الٹا ہے، اگیانی یہاں گیان بانٹتا ہے اور موت بیچنے والا اکنامکس کی کلاس لگاتا ہے.. پکا گنوار نالی کی گیس سے چائے بنانے کے لئے کنکشن کی صلاح دے بیٹھتا ہے.. تاریخ کا آدمی اکانومی کا قبلہ طے کرنے والے ادارے کی سربراہی کرتا ہے پھر بھی سب کچھ ٹھیک ہے.. اسی کو کہتے ہیں "تشہیر کی تجارت” ، اور اگر ملک کے باسی اپنی نہ سوچتے ہوں تو یہ تجارت کامیاب بھی کہی جائے گی.. جوکہ ہے بھی کامیاب!!