مسلمان اور کورونا ویکسین

21

مسلمان اور کورونا ویکسین

مکرمی:ایسے وقت میں جب دنیا کورونا کی وبا میں مبتلا ہے اور لاکھوں لوگ اس بیماری کا شکار ہوچکے ہیں،ریکارڈ وقت کے اندر علاج کے لئے ویکسین تیارہونا بڑی بات اور امید کی کرن ہے۔ لیکن کورونا ویکسین کے تعلق سے مسلمانوں میں حرام اور حلال کی جو بحث شروع ہو گئ وہ افسوسناک ہے۔مسلم معاشرے کے کچھ ذمہ دار مولانا ایک برانڈ ویکسین کوحرام قرار دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہیکہ اس میں سور کی چربی ملائ گئ ہے۔جو محض ایک افواہ ہے اور اس می کوئی حقیقت نہیں ہے۔ چونکہ ہندوستان نے ابھی تک کسی کمپنی کو کورونا ویکسین خریدنے کا حکم نہیں دیا ہے، لہذا ویکسین پر سوال اٹھانا مناسب نہیں ہے۔ دوم ، ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (D.C.G.I) نے ہندوستانی سائنسدانوں نے کووڈ کی وبا میں استعمال کے لئے تیار کردہ دو ویکسینوں کی منظوری دی ہے جن پر ہر ہندوستانی کو فخر کرنا چاہئے۔ یہ بھی واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ہندوستانی ویکسین میں جانوروں کی چربی کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں میاں محمد اشرف (چیئرمین ، آل انڈیا علماء اور مشائخ بورڈ) نے مسلم کمیونٹی کے لوگوں کو افواہوں سے بچنے کی تاکید کی اور کہا کہ ڈاکٹروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ خنزیر کا کوئی بھی حصہ ویکسین میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ کورونا ویکسین کے خلاف افواہوں کو پھیلانا صرف مسلم معاشرے میں غلط فہمیوں کا باعث بنے گا،جس سے ان لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی جن کے پاس ویکسین نہیں ہے۔ مسلم عوام سے بھی گزارش ہے کہ کہ وہ کسی جھوٹی افواہوں کے ذریعہ گمراہ نہ ہوں اور ویکسین کروانے کے لئے آگے آئیں تاکہ کورونا کی وبا کا خاتمہ ہوسکے۔

محمد شاداب
پٹنہ (بہار)