راحت اندوری کے انتقال سے دنیائے شعر و سخن کا عظیم خسارہ

52

جاوید بھارتی بلوا سینگر سنت کبیر نگر(عدنان کبیرنگری)
عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری کا انتقال شعر و سخن کی دنیا میں ایک ایسا خلا ہے جس کا پر ہونا بہت مشکل ہے ادب کی دنیا کا ایک ایسا خسارہ جسے مستقبل قریب میں پورا نہیں کیا جاسکتا
اپنے تعزیتی پیغام میں یوپی بنکر یونین کے سابق سکریٹری جاوید اختر بھارتی اور میگزین نئی روشنی کے ایڈیٹر سلمان کبیر نگری نے کہا کہ راحت اندوری کی گرجدار آواز تو ضرور ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئی لیکن انکے نغمات صدا گونجتے رہیں گے انہوں نے پوری زندگی میں ہمیشہ بیباکی کا اظہار کیا ہر موقع پر جرات و جواں مردی کا ثبوت دیا انکے اشعار سے گنگا جمنی تہذیب اور حب الوطنی کی بو آتی ہے وطن کی شان میں انہوں نے ایسے ایسے اشعار کہے ہیں کہ ہر ہندوستانی کا سر فخر سے اونچا ہوجاتا ہے اور مسلمانوں کا سینہ چوڑا ہوجاتا ہے انکے کلمات و اشعار جہاں ایک طرف لوگوں کے دلوں میں وطن پر مرمٹنے کا جذبہ پیدا کرتے رہیں گے وہیں دوسری طرف فرقہ پرستوں کے چہروں پر طمانچہ بھی مارتے رہیں گے
مرحوم نے کہا کرتے تھے کہ میں مرجاؤں تو میری الگ پہچان لکھ دینا،، لہو سے میری پیشانی پہ ہندوستان لکھ دینا
راحت اندوری ایک ایسا نام ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا وطن کی خوشحالی اور عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنا ان کی نس نس میں شامل تھا

جاوید بھارتی و سلمان کبیر نگری نے کہا کہ ادب کی دنیا میں راحت اندوری کا مقام بہت بلند تھا حالات سے گھبرانا تو وہ جانتے ہی نہیں تھے بلکہ حالات سے گھبرانے والوں کے ساتھ بھی ڈھال بن کر کھڑے ہوجایا کرتے تھے ان کا اسٹیج پر آنا، مائک پر کھڑے ہونا اور انداز بیاں کبھی بھلایا نہ جائے گا جب حالات حاضرہ پر مشاعروں میں انکی آواز گونجتی تھی تو سامعین محو حیرت ہوجاتے تھے یہ خوبیاں یہ کمالات ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتے کبھی کسی محفل میں وہ گھبرائے نہیں، ڈرے نہیں تسلی بخش اشعار، للکار نے والے اشعار، نصیحت آمیز اشعار یعنی انکے پاس ذخیرہ تھا شعرو سخن کا اور بے مثال انداز تھا حالات اور ماحول کے سانچے ڈھل جانے کا آج اس بلند ترین آواز کی ضرورت تھی تو افسوس صد افسوس کہ ضرورت کے موقع پر وہ آواز خاموش ہوگئی اور دنیا یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ موت اس کی ہے جس کا زمانہ کرے افسوس یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کیلئے

آخر میں بھارتی اور سلمان نے مرحوم راحت اندوری کیلئے مغفرت کی دعا کی اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا –