ویل ڈن پرییہ پریانیکا

27

ایک سیاسی ڈرامہ اپنے انجام کو پہونچا.. آپریشن لوٹس کی پہلی پسپائی درج ہوئی.. راجستھان میں مرکزی حکومت اور حکمران پارٹی کا کس بل نکلا… تاخیر ہوئی، وقت لگا، لیکن نتیجہ کانگریس کے حق میں اچھا نکلا.. ریاستی حکومت بچ گئی، اور اس درمیان بی ایس پی کے 6 ممبران اسمبلی کی کانگریس میں شمولیت سے پارٹی کو مزید مضبوطی مل گئی..

یہ کام اور پہلے ہوجاتا، اگر وزیر اعلی گھیلوت جی نے بہت
طرار اور اہانت آمیز بیان نہ دیا ہوتا، اور کچھ اتاولے پارٹی ورکرز نے پائلٹ کے سسرالی رشتہ داروں کو بیان بازی میں نہ گھسیٹا ہوتا.. کیا ضرورت تھی فاروق عبداللہ، اور عمر عبداللہ سابق وزرائے اعلی کشمیر کو بیچ میں گھسیٹنے کی.. لیکن ہندوستانی سیاست کا معیار آج کل کچھ ایسا ہی ہوگیا ہے..

گھیلوت جیسے گھاگ نیتا سے اس عجلت پسندی اور لفظی بے توقیری کی امید نہیں کی جاسکتی… اب وہ اس "نااہل اور نکمے” اپنے نائب وزیر اعلیٰ کو کس طرح اپنی کابینہ میں اپنی نیابت دیں گے؟ دینا تو پڑے گا، پائلٹ کی اہمیت اب پہلے سے زیادہ بڑھ گئی… مدھیہ پردیش میں جیو تر سندھیا کے واقعہ کے بعد، پائلٹ کا پارٹی نہ چھوڑنا ایک دلیرانہ، خوداعتمادی سے بھرپور فیصلہ مانا جائے گا..

یہ سیاسی گلیاروں میں ایک بڑی قربانی ہے… پسپائی نہیں ہے جیسا کہ کم نظر لوگ سمجھ رہے ہوں گے.. وہ آیندہ کے وزیر اعلی ہوچکے اگر پارٹی کو ریاست میں موقع ملا تو… یہ جو کچھ ہوا، اس میں شریمتی پریانیکا گاندھی کی فراست، پس پردہ اعصاب شکن گفت وشنید،، پائلٹ کی باعزت واپسی کی ضمانت اور مستقبل میں بڑے رول کا وعدہ سب کچھ شامل ہے..

کانگریس پارٹی بہت زیادہ پرانے گھوڑوں پر انحصار کرتی ہے جو مناسب نہیں، بہت باصلاحیت نوجوان اس کے پاس ہیں ان کو آگے لانا چاہئے.. ملند دیورا کو بھی پس منظر میں نہیں ڈالنا چاہئے جو ایک باصلاحیت لیڈر ہیں.. الیکشن تو اندرا گاندھی بھی ہار گئی تھیں.. الیکشن ہارنا جیتنا ایک ہی کریٹیریا نہیں ہوتا.. بہرحال راجستھان نے ایک ہاری بازی پلٹ کر جیتی ہے.. اور رام مندر کے ڈرامہ بازی کے بعد جیتی ہے.. جو بظاہر الگ الگ واقعے لگتے ہیں،، لیکن یہ بہت زیادہ ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں.. اور وہم پرست پی جے پی کے لئے بڑا بدشگون ہیں… ان اہم اور دورس سیاسی نتائج کے حامل فیصلوں کے لئے پریانیکا جی کو میں ضرور کہوں گا
….ویل ڈن…. ..