منشیات اور ہمارے معاشرے کی خستہ حالی

18

یہ کہاوت آپ نے سنی ہی نہیں، موقع پر کہی بھی ہوگی کہ”فلاں شخص موت ہتھیلی پر رکھ کر چلتا ہے”یہ قول و کہاوت ہمارے نوعمر و نوخیز نوجوانوں پر سچی ثابت ہو رہی ہے،ہماری قوم و ملت کا شباب مدہوشی و بد مستی کی زیست میں ملوث ہے، صبح ہوتے ہی نہار منہ ہاتھ پر گٹکے کی پُڑیا پھاڑتا ہے پھر اسے اس قدر مسلتا ہیکہ نشہ کی تیزی اس کے تسکینِ قلب کا سامان بھرپور مقدار میں فراہم کر اور پھر گلّے کی نیچے دبا کر بستر چھوڑتے، پورے دن منہ کی جگالی بند نہیں ہوتی ہے، حالانکہ پُڑیا پر جلی حروف میں مرقوم ہوتا ہے "تنباکو نوشی صحت کے لیے ضرر رساں ہے”،

لیکن مجال جو منہ رک جائے، عموماً ایک پُڑیا دو سے پانچ روپے میں آتی ہے، لیکن عادت و لت کا عالم اس درجہ کہ ان پُڑیوں کے پجاریوں نے لاک ڈاؤن میں یہی سگریٹ و گٹکے کی تھیلی پچاس روپے میں خرید کر اپنے بڑھکتے تن کی آگ کو ٹھنڈا کیا، کیونکہ کھانا ملے نہ ملے پر پڑیا کا دم ملے،
عالمی صحت ادارہ کے مطابق ہر دسویں موت سگریٹ و تنباکو نوشی کے باعث ہوتی ہے .
صحتی اداروں کے مطابق یکدم اس بری لت سے آزاد ہو جانا، زندگی کو بے حد متاثر کرتا ہے، تاہم بتدریج اس عادت کو بزور ترک کرنا بہتر و ممکن ہوتا ہے.
نشہ آور اشیاء کا استعمال اولاً شوقیانہ آوارہ گردی میں منچلے دوستوں کی صحبت سے شروع ہوتا ہے اور پھر یہی خود خرید زہر اس کی زندگی کی شمع کو بڑی بے دردی سے گل کرتا ہے،
اس لئے شاعر اسمٰعیل میرٹھی لکھتے ہیں.

*بد کی صحبت میں مت بیٹھو اس کا ہے انجام برا*
*بد نہ بنے تو بد کہلائے بد اچھا بد نام برا*

معاشرے و سماج میں پھیلی برائیوں میں نشہ آفرینی عروج پر ہے دس سال سے بھی کم عمر بچوں کا سپاری و گٹکے کھانا اور پندرہ سال تک گٹکے، بھنگ، کوریکس کی شیشی ،بھاری مقدار میں نیند کی گولیاں اور تنباکو کا عام استعمال معاشرے کو پولا و کھوکھلا کر رہا ہے.
جہاں ایک جانب دوسرے سماج کے لوگ اپنی صحت کا خیال ورزش و مقوی غذائیت سے پروان چڑھا رہے ہیں وہیں مسلم معاشرہ نت نئی منشیاتی لتوں کا دلدادہ ہو رہا ہے.

مسلم معاشرہ سے ایسی برائیوں کا تصور اس لیے محال و مشکل ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات انسان کی صحت و زیست کا خیال آخری درجہ تک ملحوظ رکھتی ہیں ، جہاں یہ نبوی فرمان ہو کہ”کلُّ مسکرٍ حرامٌ (بخاری)ترجمہ: ہر نشہ آور چیز حرام ہے. تو وہاں گٹکا بیڑی، سگریٹ، تنباکو نوشی، شراب و جامِ صبوحی کو کیوں کر روا رکھا جا سکتا ہے.
کیا آپ کو علم ہے کہ بادام 900 (نو سو روپے) کلو اور گٹکا 4300 (چار ہزار تین سو روپے) کلو، کیا آپ کہ حاشیہء خیال میں ہے کہ کاجو 800 (آٹھ سو روپے) کلو اور سگریٹ 5000 (پانچ ہزار روپے) آپ نے کبھی دیسی گھی بازار سے خریدا ہے جو 600 روپے کلو ملتا ہے، جبکہ تنباکو 1700 روپے کلو، یہ تو پتہ ہی ہوگا کہ دودھ 50 روپے لیٹر ہے،اور شراب 560 روپے لیٹر فل پیک.
لیکن ان حلال اشیاء کے استعمال کو چھوڑ ہمارے سماج کا ایک بڑا طبقہ نشہ کی پڑیا کا اسیر و عاشق ہے،
اگر تخمینہ لگایا جائے تو فضول و فضلہ میں جانے والی اس رقم کی بچت آپ کی زندگی کو خوشگوار و پر تعیش کر سکتی ہے. لیکن پھر یہ جگالی تو نہ ہو سکے گی.

جب منہ سے پَچَر کرکے اس گند کو باہر اگلتے ہیں تو اپنی کلاکاری کے زمین و فرش پر وہ فن پارے نقش کرتے ہیں جسے دیکھ نفیس طبیعت شخص کو گھن آنے لگے،اور یہ نقوش قدم قدم آپ کو ملیں گے.
لیکن ان صاحبان کا یہ محبوب مشغلہ پورے دن اس تواتر و تسلسل سے چلتا ہے کہ صرف سونے کا وقت ہی حائل ہوتا ہے اور بعض تو سوتے ہوئے بھی منہ میں دبا کر اپنی قربت و وفائی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں.
اسلام نے تمام تر منشیات و نشہ آور اشیاء کو حرام قرار دیا ہے، جو انسان کی عقل کو بھادوں کی گرمی میں حسیں جنت کا خواب دکھا دے،عقل میں فتور واقع ہو اور انسان اپنے جسم پر اپنا ہی کنٹرول کھو بیٹھے جس کے نتیجے میں وہ چوری، حرام خوری، زناکاری و بدکاری جیسی تباہ کن خباثتوں کا مرتکب ہو جائے.
ان تمام اشیاء پر حکومتی پابندی اس کر ممکن نہیں چونکہ حکومت کو ان منشیات سے ایک خطیر رقم محصول کے طور پر حاصل ہوتا ہے، جو حکومت کی مالی پیہ کی رفتار کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے.
اس لئے معاشرے کے معزز افراد کو غور و فکر سے اصلاحی مہم چھیڑ کر منشیات کے استعمال پر قدغن لگانے کی کوششیں کرنی چاہئیں.
نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقي