5/ اگست 2020ء کوبھومی پوجن کے ذریعے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا تعمیری کام وزیر اعظم نریندر مودی( جوکہ اسلام اور مسلمانوں کاازلی وابدی حریف اکبر ہے،یہ وہی وزیر اعظم ہے،جس کے ذریعہ آئے روز اسلام کی عظمت کو پامال کیا جاتا ہے، اور اس کی یہی خواہش رہی ہے، اورہے ،کہ کیسےہندوستان سے اسلام اورمسلمانوں کا خاتمہ اور استحصال کیا جائے، جس میں، اسے ہمارے بداعمالیوں کے نتیجے میں اب کامیابی بھی مل رہی ہے)کے ذریعے شروع ہو گیا ہے، یقینا 5 /اگست کو سارے مسلمان افسردہ دل اور کبیدہ خاطر تھے ،ان کی آنکھیں اشکبار تھیں، کچھ چاہ کر بھی، ان میں کچھ کرنے کی قدرت و طاقت نہیں تھی، مجبورا اپنی بابری مسجد کے معاملے کو اپنے خالق و مالک اور معبود کے حوالےانہیں سپرد کرنا، اوریہ کہناپڑا،کہ ائے رب العالمین ابھی ہم مظلوم ہیں، ہمارے اوپر ظالم مسلط ہے، ہمارے قبضے میں نہیں ہے، کہ ہم تیری مسجد کی حفاظت کر سکیں، جہاں تک ہم سے ہو سکا اس کی حفاظت کی متنوع کوششیں کیں، اس موقع سے مشہور ومعروف شاعر منور رانا کا یہ شعر بے ساختہ یادآگیا:میں اپنی ہار پہ نادم ہوں اس یقین کے ساتھ کہ اپنے گھر کی حفاظت خدا بھی کرتا ہے؛ مگر افسوس صد افسوس کہ ہمیں اس میں کامیابی ملنے کے بجائے ناکامی ہی ملی، تو بخوبی جانتا ہے؛ اس لئے میرے مولی اپنی بابری مسجد کی حفاظت فرما! اور ہر اسلام دشمن اس روز اسلام کی پامالی اور بظاہر کفر کے فروغ پر خوشیاں منا رہا تھا؛کیوں کہ ان کا صدیوں پرانا خواب اب پورا ہوگیاہے۔

راقم کوتو 9/ نومبر 2019ء سے چند ایام قبل ہی (جب کہ سارے ہندو مسلم عدالت عظمی کےفیصلہ کاشدت سے انتظار کر رہے تھے، اس موقع سے مسلم تنظیموں کے رہنماؤں نے دوٹوک اور صاف لفظوں میں برملا اعلان بھی کر دیا تھا، کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو خواہ وہ ہمارے حق میں آئے یا خلاف ماننے کے لیے تیار ہیں، مگر کیااس موقع سے ایک بھی ہندو مسلم تنظیم کے رہنما نے یہ اقرار کیا تھا کہ ہم بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کوخواہ وہ ہمارے حق میں آئےیاخلاف ماننےکےلیے تیار ہیں؟ہرگزنہیں) یقین کامل ہو گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے ذریعے 9/ نومبر 2019ء کو آنے والا فیصلہ رام مندر کے حق میں اور بابری مسجد کے خلاف ہی ہوگا، اس یقین کی تو کئی ساری وجوہات ہیں؛ مگر ایک وجہ جو راقم کے نزدیک سب سے اہم ہے، اسے یہاں رقم کیے دیتا ہوں: وہ یہ ہے کہ صدیوں پرانا قضیے کافیصلہ ایک ایسی سیاسی پارٹی کے دور حکومت میں ہوا،جو اسلام مسلمان اور شعائراللہ کا سخت دشمن ہے، اور اس کی حکومت ہی مذہب اسلام کے خاتمے کے لیے معرض وجود میں آئی ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندو نے اسی لئے اسے ووٹ بھی دیا تھا، کہ آئندہ چل کر یہ اجودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرائے گئی، اور وہ بھی رام مندر کی تعمیر ہی کے نام پر ہندو عوام سے ووٹ مانگی تھی، پھربھی اگر فیصلہ رام مندر کے حق میں نہیں آتا، تو کیا بابری مسجد کے حق آتا؟ اسی لئے تو حکومت بار بار مسلمانوں سے امن و امان کی اپیل کر رہی تھی، کیوں کہ ایک سوچی سمجھی سازش اور اسکیم کے تحت یہ فیصلہ سنانا مقصود تھا۔

اس کا کامل یقین تھا ؛مگر پھر بھی بحیثیت انسان ناچیز بابری مسجد کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد کئی روز تک حیرت و استعجاب میں گم سم تھا، کہ اب سپریم کورٹ میں بھی عجیب وغریب سیاست شروع ہوچکی ہے، کہ تمام ہی حقائق و شواہد کے بابری مسجد کے حق میں ثابت ہونے کا اقرار کرنے، اور رام مندر کے حق میں کیے گئے ہر ایک دعوی کو مسترد کرنے کے باوجود "سپریم کورٹ” کا محض کثرت کی بنیاد پر” رام مندر "کے حق میں فیصلہ دینا، ہندوستان کی "جمہوریت” کو للکارنے کے ساتھ ساتھ، خود اپنی حرمت وعظمت کو عوام کی نظروں میں پامال کرتا ہے، وہ کیا ہیں حقائق و شواہد جن کا عدالت عظمیٰ نے دوٹوک اور صاف صاف لفظوں میں رام مندر کے حق میں فیصلہ کرتے وقت اقرار کیا تھا؟ وہ اقرار یہ تھا کہ اجودھیامیں 1528ء میں ظہیر الدین بابر کے حکم سے ان کے کمانڈر میر باقی نے خالی جگہ میں بابری مسجد کی تعمیر کی تھی، وہاں کسی طرح کا کوئی مندر نہیں تھا،22/23/دسمبر 1949ء کی رات میں بابری مسجد میں مورتیوں کا رکھنا غیر قانونی اور مجرمانہ عمل تھا، جن لوگوں نے جن کے اشاروں سے بابری مسجد کی عزت وحرمت کو تار تار کیاتھا، ان تمام کو اس کی پاداش میں کیفرے کردار تک پہنچانا چاہیے تھا،اسی طرح 6/دسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہید کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں تھا، ان ظالموں نے بابری مسجد شہید کرکے اسلام، مسلمان اور شعائر اللہ کا مذاق اڑایاتھا، یہ ظلم بھی ناقابل برداشت ظلم و ستم تھا،اور فریق مخالف :یعنی ہندوؤں کا دعویٰ تھا کہ یہاں مندر تھا، جسے توڑ کر بابری مسجد بنائی گئی تھی، اسے "سپریم کورٹ” نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ،کہ بابری مسجد خالی جگہ میں بنائی گئی تھی، وہاں کبھی بھی کسی طرح کا کوئی مندر نہیں تھا، اسی طرح ان کا ایک یہ بھی دعویٰ تھا ،کہ آثار قدیمہ کی کھدائی میں کچھ ایسے ڈھانچے ملے اور دستیاب ہوئے تھے، کہ جس سے صاف معلوم ہوتا تھا، کہ وہاں پہلے مندر تھا، جسے توڑ کر بابری مسجد بنائی گئی تھی، ہندوؤں کے اس دعوے کو بھی "سپریم کورٹ "نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا، کہ آثار قدیمہ کی کھدائی میں کوئی ایک بھی ایسا ڈھانچا نہیں دستیاب ہوا تھا، کہ جس سےیہ دعوی کیا جا سکے کہ بابری مسجد کی جگہ پہلے کوئی مندر تھا، جسے توڑ کر بابری مسجد بنائی گئی تھی، یہ چند حقائق ہیں، جنہیں عدالت عظمیٰ تسلیم کر لینے کے بعد بھی عصبیت کا ثبوت دیتے ہوئے، محض یہ کہہ کر کےایک طویل زمانے سے ہندوؤں کا اس سے قلبی تعلق رہا ہے، اور یہاں ان کی کثرت بھی ہے اگر عدالت عظمیٰ ان کے خلاف فیصلہ صادر کرتی ہے، تو پھرتمام ہندو سڑکوں پر اتر جائیں گے اور فساد مچائیں گے، اس طرح ملک سے امن وامان ختم ہو جائے گا، اس لیے ملک میں امن و امان اور سلامتی برقرار رکھنے کے لئے ان کے حق میں اور مسلمانوں کے خلاف:یعنی رام مندر کے حق میں اور بابری مسجد کے خلاف فیصلہ صادر کر دیا گیا، اور بابری مسجد کے لیے الگ تھلگ پانچ ایکڑ زمین دینے کا بھی فیصلہ سنا دیا گیا، جسے اب تک مسلمانوں نے نہ قبول کیا ہے اور نہ ہی آئندہ اس کا کوئی امکان ہے۔
الغرض ظالموں،جابروں نے ظلما بابری مسجد شہید بھی کر دیا، اور اب اس کے خلاف فیصلہ بھی صادر کردیا، جس کا صدیوں سے انتظار تھا کہ حقائق کی روشنی میں عدالت عظمی فیصلہ دے گی، تو ہم پھر” بابری مسجد” تعمیر کریں گے، کیوں کہ ہمارے پاس قوی دلائل موجود تھیں؛ مگر افسوس کے رنجن گوگوئی کی قیادت و سیادت میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 9/نومبر2019ء کو عصبیت اور برادری کا ثبوت دیتے ہوئے رام مندر کے حق میں فیصلہ
سنا دیا اور اب 5/اگست 2020ء سےتورام مندر کی تعمیر کا کام بھی شروع ہو چکا ہے۔

ائے بابری مسجد! ہم تیری جگہ اصنام و شیاطین کی پوجا پاٹ کو لے کر، بے حدنادم وخاجل اورشرمندہ ہیں، ہم میں اب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جیسا ایمان نہیں رہا، اسلام کی حفاظت کی خاطرہم میں وہ جرأت وبےباکی و جاں نثاری کا جذبہ نہیں رہا، جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں تھا،ہم تو اب اتنے گر گئےہیں کہ اب ہم بس نام کے مسلمان رہ گئے ہیں، کام کے نہیں، ہم تو ایک محلے کی مسجد کو آباد نہیں کر سکیں ،توتجھے کیا آبادکر سکتے تھے؟ ہم نے تو تمام ہی اوامر خداوندی سے اعراض اور کنارہ کشی کیا، اور شیاطین کے فرامین کوحرزجاں تصوروخیال کر کے،انہیں بہ روئے کار لایا،اور شیاطین ہی کو اپنارفیق اورہمدم سمجھا، اور خداترس اکابر سے نفرت و بیزاری کیا اور انہیں اپنا دشمن خیال کیا،یہ تو ہیں ہماری صورت حال، جن کی وجہ سے ائے بابری مسجد! تجھ پر ظالموں نے ظلما” بت خانہ "کی تعبیرکررہاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم پھر کبھی اب بابری مسجد آباد کرپائیں گے؟جواب یہ ہے کہ ضرور کر پائیں گے ، اس بات کو موکد و مستحکم کرنے کے لیے قسم کا سہارا لیتے ہوئے، قسم خدا کی کہتا ہوں،کہ آج بھی اگر ہم میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جیسا ایمان، اسلام کی حفاظت کی خاطر جرأت و بےباکی و جاں نثاری کا بھر پور جذبہ، احکام خداوندی پر پورا پورا عمل اور نواہی الہی سے مکمل اجتناب کا جذبہ ہمارے سینوں،قلوب اور جسم کی ہر رگ وریشے میں پیدا ہوگیا، تو ہمیں اکثریت کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے، ہم تو اپنی اقلیت کے باوجود بھی ائے بابری مسجد !تجھے بھی،اور تجھ جیسی بے شمار مساجد بھی، جن پر ظالموں نے اپنا قبضہ جما لیا ہے، ہم آن واحد میں آباد کرنے کی طاقت و قوت رکھتے ہیں، اس کی مثال کے لیے دور جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بل کہ حالیہ مثال ہی: یعنی آیاصوفیہ کی آبادی ہی ہمارے لئے کافی ہے، ان دونوں مسجدوں کے مابین ایک بڑا اورنمایاں فرق ہے، جس سے باخبر ہونا بےحد ضروری ہے،وہ یہ ہے کہ استنبول میں ایک زمانے میں آیا صوفیہ عیسائیوں کا کلیسا تھا، جس میں دنیا بھر کی بےشمارخرافات منائی جاتی تھیں، عیسائیوں کواس سے بہت محبت و الفت تھی ،ان کے دلوں میں اس عظیم اور دلکش عمارت کی بڑی عظمت وقعت تھی، اور جب ۱۴۵۳ء میں 21سالہ نوجوان ،جذبہ جہادسے لبریز،شوق شہادت سے سرشار ،غیرت ایمانی سے معمور سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا، تو انہوں نے مناسب خیال کیا کہ کیوں نہیں، اس عظیم کلیسا کو مسجد میں تبدیل کر دیا جائے، چناں چہ محمد الفاتح نے عیسائیوں کے اس عظیم مرکز اور خوشنما، دیدہ زیب ، جاذب قلب و نظر، بے حد حسین وجمیل عمارت کو مسجد میں تبدیل کر دیا، اسی وقت سے مسلسل تقریبا پانچ صدی تک اس میں اذان دی جاتی رہی ہیں، پنج وقتہ نمازیں مع جمعہ جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی رہی ہیں، اور ہر طرح کی تبلیغی اور اصلاحی کام بھی ہوتا رہاہے،اور پھر بدقسمتی سے ۱۹۳۳ء میں کمال اتاترک نےآیاصوفیہ مسجد پر غاصبانہ قبضہ کرکے اسے میوزیم میں تبدیل کردیا، اور اس مسجد کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے خلاف ، اس وقت جن جن علمائے کرام نے اپنی اپنی زبان وقلم کااستعمال کیا،سبھوں کو اس شیطان لعین نےیکے بعد دیگرے قتل کروا دیا اور”آیاصوفیہ "اب تک اسی کے کارفرمائی کے نتیجے میں میوزیم تھا، جسے رجب طیب اردوان نے اپنی لازوال محنتوں کے ثمرہ ، اسے پھر سےاب مسجد میں تبدیل کرادیاہے،اور بابری مسجد کو تو ظہیر الدین بابر نے اجودھیا میں اپنے کمانڈر میر باقی کے ذریعے خالی جگہ میں تعمیر کرایا تھا، اگر ہم بابری مسجد کو آیاصوفیہ پر قیاس کرتے ہیں ،تو اس کا صاف مطلب یہی ہوتاہے،کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر پہلے تھا،جسے توڑکر بابری مسجد تعمیر کی گئی تھی،اس سے تو فریق مخالف ہی کادعوی ثابت ہوتا ہے، ہاں اس موقع سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں،کہ آیا صوفیہ، جو ایک زمانے میں بت کدہ تھا،جسے سلطان محمد فاتح نے مسجد میں تبدیل کر دیا تھا،پھرملعون کمال اتاترک نے اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا تھا،جسے اب پھررجب طیب اردگان نے مسجد میں تبدیل کر دیا ہے، تو جب آیاصوفیہ مسجد سےقبل بت کدہ تھا،تو آج میں مسجد تبدیل ہوگئی ہے، اور بابری مسجد، جہاں بابری مسجد کی تعمیر سےقبل کوئی مندر نہیں تھا،تو بھلا یہ مسجد میں تبدیل نہیں ہوسکےگی؟ضرور ہوگی ،ان شاء اللہ ۔
دعا کریں کہ اللہ رب رب العالمین ہمارے قلوب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسا ایمان اور مذہب اسلام وشعائر اللہ کی حفاظت کی خاطر جاں نثاری کاجذبہ پیدا فرمائے، آمین ۔