بہار کاسیاسی منظرنامہ اور مسلمان

35

بہار اسمبلی انتخابات جوں جوں قریب آرہاہےبہارکاسیاسی منظر نامہ بھی بدلتاجارہاہے اس الیکشن میں سب سے زیادہ کنفیوژ مسلم ووٹران ہیں کیوں کہ 2015کے اسمبلی انتخاب میں مسلمان متحد ہوکر عظیم اتحاد کو جتانے کاکام کیاتھا لیکن اس مرتبہ جدیو اور آرجے ڈی کے آپسی اختلاف کے بعد بہارکاسیاسی منظرنامہ بدل چکاہے اور ابھی تک یہ اندازہ لگانامشکل ہے کس پارٹی کا سیاسی مستقبل روشن ہونے والاہے۔

جو حال اِدھر کاہے وہی حال اُدھر کابھی ہے،عین الیکشن سے قبل آپسی اختلافات کوئی نہیں بات نہیں ہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ این ڈی اے کاایک اہم حصہ مانے جانے والارام ولاس پاسوان کی پارٹی نے اپنا تیور دیکھانا شروع کردیاہے جو اس بات کی علامت ہے کہ این ڈی اے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور انہیں بھی ہار کی فکر ستانے لگی ہے۔نتیش کمار بھلے ہی ایک کامیاب وزیراعلی کی شناخت بنانے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کی ہے لیکن اپنے نظریات اوروعدے کو لیکر اب وہ صرف مشکوک نہیں بلکہ ناقابل اعتباربھی ہوگئے ہیں،بی جے پی سے ملنے کے بعد کئی مواقع پر ان کی پالیسی اور فیصلے سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ وہ وزیراعلی بنے رہنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ان کے نزدیک وزیراعلی کی کرسی اہم ہے پارٹی کاانتخابی منشور،ایجنڈہ اور نظریات کوئی معنی نہیں رکھتاہے۔

اس وقت بہار میں میں دو نظریات کے لوگ ہیں ایک مودی نواز اور دوسرے سیکولر مزاج اس الیکشن میں ان دونوں کے درمیان ہی ہارجیت کی لڑائی ہے۔اسمبلی الیکشن سے قبل موسمی پارٹیوں کی لائن لگ گئی ہے،ہر پارٹی اپنی جیت کی دعویداری کررہی ہے،این ڈی اے،گھٹبندن اوراب تیسرے مورچے میں کن کن پارٹیوں کی شمولیت ہوتی ہے وہ بیحد اہم ہے جب تک ان سیاسی پارٹیوں کاآپسی اتحاد صاف نہ ہوجائے تب تک کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

بہار میں چار بڑی پارٹیاں راجد،جدیو اور بی جے پی وکانگریس کے رہتے ہوئے کئی اہم لیڈر ان مل کر تیسرے مورچہ پر بہت محنت کررہے ہیں اس میں کئی علاقائی پارٹیوں کو جوڑنے کی کوشش ہورہی ہے لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیایہ آئیڈیا کامیاب ہوپائے گا؟ کیوں کہ بہار کاسیاسی منظرنامہ سب کے سامنے ہے اور سب کی نگاہیں مسلم اور دلت ووٹران پر ہی ہیں ایسے میں تیسرا مورچہ جس کی سربراہی یشونت سنہاکررہے ہیں اس میں مانجھی،اشفاق رحمن، پپویادو،مجلس، ایس ڈی پی آئی سمیت کئی پارٹیوں کو جوڑنے کی کوشش ہورہی ہے۔تیسرے مورچہ کی تشکیل ایک سیاسی پالیسی کے مطابق بھی ہوسکتاہے جس کاواحد مقصد سیکولر ووٹ کو تقسیم کرناہے۔
ابھی بہار اسمبلی الیکشن میں وقت ہے ایسے حالات میں ہم بہار کے مسلمانوں اور عام ووٹران سے یہی کہناچاہیں گے کہ قبل از وقت فیصلہ کرنا عقل مندی نہیں ہے صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرناہے اور جس پارٹی میں بی جے پی کو ہرانے کی صلاحیت ہے انہیں جتانے کاکام کرناہے کیوں بہار اسمبلی انتخابات ملک کاسیاسی مستقبل طے کرنے والاہے اس لئے اس مرتبہ بہار کی عوام کی ذمہ داری اور جواب دہی مزید بڑھ گئی ہے کہ انہیں سوچ سمجھ کر فیصلہ لیناہے اور ایک ایسی حکومت بنانی ہے جسے بہار کی ترقی کی فکر ہو اور واقعتاان میں کام کرنے کی صلاحیت ہو۔قبل از وقت ہر بات لکھنااور کہنامناسب نہیں ہے۔