آہ ڈاکٹر راحت اندوری نہیں رہے

39

میں اگر سات سمندر بھی نچوڑوں راحت
آپ کے نام کی ایک میم نہیں لکھا سکا

آج شام چھ بجے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کے ساتھ بیٹھ کر مختلف موضوعات پر گفتگو کر رہا تھا، کہ اچانک کسی نے اطلاع دی کہ عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر راحت اندوری راہی ملک عدم ہوگئے اور اپنے مالکی حقیقی سے جا ملے۔ خبر سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا، یقینا اس خبر سے سارے اردو داں طبقہ اور پوری ملت اسلامیہ دکھی اور سوگوار ہوئی ہے، موصوف نے اپنی شاعری کے زریعہ ہمیشہ حقیقت بیانی کی اور حکومت وقت اور فرقہ پرست طاقتوں کے غلط کاموں پر کھل کر تنقید کی، ان کو صحیح راستہ اور آئینہ دکھایا اور ہمیشہ امن و شانتی اور محبت و یکجہتی کا پیغام دیا، ان کی شاعری، ان کا لہجہ، ان کا تیور، ان کا انداز تخاطب ان ہی کا حصہ تھا، اس وقت وہ بر صغیر ہندو پاک کے سب نمایاں شاعروں میں ایک تھے، بلکہ بعض اعتبار سے وہ سب سے فائق تھے۔ مجھے لکھنؤ کے مشاعرہ یا دیگر جگہ کے مشاعروں میں جاکر ان کے کلام کو سننے کا موقع کم ملا، کیونکہ مشاعرہ میں شرکت سے دلچسپی کم رہی، لیکن اچھی شاعری سننے اور اچھے اشعار کو بروقت مضامین میں پیش کرنے سے دلچسپی ہمیشہ رہی، میں نے ان کے اشعار کو کیسٹ اور نیٹ کے ذریعہ سے خوب سنا اور ان کی شاعری سے متاثر بھی ہوا۔
یقینا وہ ایک پختہ اور منجھے ہوئے باکمال شاعر تھے، تمام صنف شاعری میں انہوں طبع آزمائی کی، ان کے ایک ایک شعر میں پیغام زندگی ہے، وہ امن کے داعی اور محبت کے پیامبر تھے، محبت اور انسانیت ان کے خمیر میں داخل تھی، تبھی تو انہوں نے کہا تھا :
جنازے پر میرے لکھ دینا یارو
محبت کرنے والا جا رہا ہے
ہمیں بنیاد کا پتھر ہیں لیکن
ہمیں گھر سے نکالا جارہا ہے

ملک سے محبت و الفت ان کی پہچان تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ

میں جب مر جاوں میری الگ پہچان لکھ دینا
لہو سے میری پیشانی پہ ہندوستان لکھ دینا

ان کی نعت کے اشعار کس قدر محبت رسول اور عشق نبی میں ڈوبے ہیں، خدا کی ذات سے امید ہے کہ یہ اشعار ان کی مغفرت کا سامان بن جائیں گے۔ انہوں نے نعت کے یہ اشعار کس قدر کیف و مستی میں کہیں ہیں ذرا سنئے۔۔
زمزم و کوثر و تسنیم نہیں لکھ سکتا اے نبی! آپ کی تعظیم نہیں لکھ سکتا
میں اگر سات سمندر بھی نچوڑوں راحت
آپ کے نام کی ایک میم نہیں لکھ سکتا

ان کی غزلیہ شاعری کے نمونے ملاحظہ کریں۔
غم نے رونے نہ دیا ضبط نے سونے نہ دیا
اسی الجھن نے کوئی فیصلہ ہونے نہ دیا
رونا چاہا تو ستاروں نے تسلی دے دی
سونا چاہا تو تیری یاد نے سونے نہ دیا

چند اور اشعار ملاحظہ کریں ۔

اک اک لفظ کا انداز بدل رکھا ہے
آج سے میں نے ترا نام غزل رکھا ہے
میں شاہوں سے محبت کا بھرم توڑ دیا
میرے کمرے میں بھی اک تاج محل رکھا ہے
ان کی شاعری میں طنز و مزاح عنصر خوب تھا ، وہ اس کے ذریعہ سماج کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھتے تھے اور انسانوں کو انسان بن کر زندگی گزارنے کی تلقین کرتے تھے، اس لحاظ سے وہ اپنے معاصر شعراء میں اپنی اک الگ پہچان اور شناخت رکھتے تھے، ان کی شاعری کا یہ نمونہ بھی ملاحظہ کریں۔

جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا سچ بولو
سرکاری اعلان ہوا سچ بولو
گھر کے اندر جھوٹوں کی اک منڈی ہے
دروازے پر بورڈ لگا ہے سچ بولو

اور تقسیم وطن اور ہجرت کے پس منظر میں ان کا یہ شعر کیا خوب ہے۔

اب کے جو فیصلہ ہوگا وہ یہیں پر ہوگا
ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی

اور یہ اشعار بھی دیکھیں۔ کیا خوب آج کی نفاق زدہ اور بے راہ رو سماج پر نقد کیا ہے۔

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو
راہ کے پتھر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیں
راستے آواز دیتے ہیں سفر جاری رکھو
ایک ہی ندی کے دو کنارے ہیں دوستو
دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو
آتے جاتے پل یہ کہتے ہیں ہمارے کان میں
کوچ کا اعلان ہونے کو ہے تیاری رکھو
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن
دوستو مجھ پہ کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو
لے تو آئے شاعری بازار میں راحت میاں
کیا ضروری ہے کہ لہجے کو بھی بازاری رکھو

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر راحت صاحب کی مغفرت فرمائے، کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور الا الذین آمنوا سے متصف شعراء کی فہرست میں ان کو جگہ عنایت کرے۔

ابر رحمت ان کی مرقد پر گہر باری کرے
حشر میں شان کریمی ناز برداری کرے
آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزئہ نورستہ اس گھر کی نگہ بانی کرے