کون جی رہا ہے کون مر رہا ہے

23

وقت کی تیز رفتاری کے باعث معمولات زندگی بہت جلد تبدیل ہوجایا کرتی ہیں، کبھی تو موسم بہار تو کبھی موسم خزاں آتا ہے، لیکن جب موسم بہار کی آمد ہوتی ہے، تو پوری دنیا سبزہ زار ہوجایا کرتی ہے، ہر طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آتی ہے، ہر کوئی مست ومگن رہتا ہے، کسی کو کسی کا پرواہ نہیں رہتا ہے، مانو ایسا منظر ہوتا ہے کہ انسان خوشی سے جھوم جھوم کر اپنی زیست وزندگی گزارتے ہیں، ٹھیک اسی طرح جب موسم خزاں کی آمد ہوتی ہے تو لوگوں میں ایک الگ سی کیفیت پیدا ہوتی ہے، پریشانی، مصیبت اور غم و الم کا دور شروع ہونے لگتا ہے،ہر سمت آشفتگی اور پریشانیاں ہی نظر آتی ہے، جس سے لوگ جھلس کر رہ جاتا ہے، کھیتیاں لہلہانے کے بجائے جھلستے نظر آتے ہیں، ٹھیک آج یہی منظر وطن عزیز کا ہے، ہر طرف غریب مزدور، مفلس، لاچار، اور کچھ پیدل چلنے والے اور اسی طرح مدارس کے کچھ بوریاں نشین ہی موسم خزاں اور سیاسی گرمیوں کی وجہ سے جھلس رہے ہیں، ان کو بچانے والا کوئی درماں نہیں ہے،ان کی آہیں اور سسکیاں سننے والا کوئی ایسا لیڈر اور نیتا نہیں ہے، جو ان کی امداد کر سکے،انہیں بھوک اور پیاس بے حد پریشان کئے ہوئی ہے، آخر کار جس کی وجہ سے راستے چلتے راہ گیر بھوک سے اپنی زندگی کی بازی ہار جاتا ہے، اور کچھ سیاسی جماعت ان کو لیکر اپنی سیاسی دکان چمکانے پر فخر محسوس کرتے ہیں، انہیں ذرا سی دکھ، رنج و غم اور احساس ضیاع نفس پر ترس بھی نہیں آتا ہے، ان کی آہیں انہیں چیخ چیخ کر یہ کہ رہی ہیں کہ زندگی جینے کے لئے کچھ ساز و سامان مہیا کرایا جائے ، جس سے غریبوں کی جان و مال کی حفاظت ہو سکے ، اور وہ اپنے بال بچوں کی پرورش کرسکے ، اور دوبارہ وہ اپنی زندگی کی شروعات کر سکے، انہیں بیماری سے کم بھوک سے مر جانے کا ڈر ستانے لگا ہے، ان کی کفالت کرنے والا اپنے گھروں میں محصور ہوکر سیاست کو فروغ دے رہے ہیں، جس سے غریب طبقے کو کوفت پہونچ رہی ہے، تکالیف انہیں ہر جانب گھیری ہوئی ہیں، ایسے حالات میں ان کی امداد اور دیکھ بھال کرنا ہمارا اولین فریضہ ہے، اگر ہم نے انہیں اچھے طریقے سے ان کے گھروں تک پہنچانے میں مدد نہیں کیا تو یہ جان رکھئے کہ کل بروز قیامت اللہ تعالیٰ ہماری پوچھ گچھ کریں گے، اس لیے ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اور آپ غریب مزدور اور راہ گیر کی ہر ممکن مدد فراہم کرنے میں ایک دوسرے کا تعاون کریں۔

ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور اچھا سلوک کریں، انہیں احساس نہ ہو کہ اس کائنات آب وگل میں ان کا کوئی نہیں ہے، اگر ہم نے ایسا کر لیا تو سیاستدانوں کی عقل ٹھکانے آجائے گی، اور وہ بھی ہماری دیکھا دیکھی اس میدان میں اتر آئیں گے، جس سے مزدور طبقہ کو فائدہ ضرور پہنچے گا، اور ہم غمخوار امت مسلمہ ہونے کا شرف حاصل کر لیں گے۔

لہذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں ایک دوسرے کی امداد کیلئے تیار ہوجائیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔