مردم ساز شخصیت تھے مولانا عبد الحمید صاحب قاسمی

61

کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موت
گلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موت

کلبۂ افلاس میں، دولت کے کاشانے میں موت
دشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موت

موت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میں
ڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میں.
(اقبال)

موت اسکی ھے کرے جس پہ زمانہ افسوس
یوں تو دنیاں میں آئے ھیں سبھی مرنے ہی کیلئے

آج بروز منگل 11/ اگست 2020م مشرقی نیپال کے ایک گمنام شخصیت، حضرت استاذ الاستاذه مولانا عبد الحميد صاحب قاسمي کی موت نے پھر ایک صدمے میں اضافہ کیا۔

چند مہینوں سے علماء کرام کی بکثرت اموات نے دلوں کو
مغموم کر رکھا ھے، آئے دن کسی نہ کسی بڑے عالم کی وفات کی خبر دل پہ بجلی بنکر گرتی ھے،
ابھی حالیہ دنوں میں متھلا انچل کے نامور علماء کرام ہمارے درمیان سے اچانک سے رخصت ھوگئے، جس سے دل پر ایک چوٹ پڑی اور اشک کا سیل رواں بہ پڑا.

وقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیں

وقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیں

سر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاں

اشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواں

ربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سے

خون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سے

جیسے قریبی دنوں میں.

"مولانا وصی احمد صدیقی مہتمم مدرسہ چشمہ فیض ململ. مدھوبنی بہار
مولانا مکین صاحب رحمانی نائب مہتمم مدرسہ ھذا.
مولانا قاضی حبیب اللہ صاحب قاسمی روح رواں مدرسہ فلاح المسلمین بہار

اور آج مدرسہ نور الاسلام بلکوابازار( سرہا نیپال) کے ایک مرد قلندر. نمونہ اسلاف، درويش صفت انسان، علم وعمل صدق وصفا کے پیکر، تقریر وتحریر کے رمز آشنا، اچھے بزرگ، للہیت و فدائیت کے رنگ میں رنگے ھوے، زہد وقناعت کے حسین پیکر، سیکڑوں بلکہ ہزاروں طلبہ کے مربی، نصف صدی سے زائد علم وادب تقوی طہارت، کے درس دینے والے، آج دار فانی سے عالم بقاء کی طرف کوچ کرگئے.

دفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیات
تھی سراپا دین ودنیاں کا سبق تیری حیات

اور اب چرچے ہیں جسکی شوخئ گفتار کے
بے بہا موتی ھے جس کے چشم گوہر بار کے
(اقبال)
آپ کی تربیت میں رھنے والے اور فیض پانے والے بے شمار طلباء ھیں،جو آگے چلکر بڑے بڑے دانشور بنے، اور جسکی شہرت آفاق تک پہنچی،
اگر سب سے. نمایاں نام لیا جائے تو.حضرت الأستاذ فقيه العصر مولانا خالد سيف اللہ رحمانی مدظلہ العالی کا نام آتاہے۔
میں نے خود مولا نا رحمانی سے2010، 2011م جب میں المعھد العالی الإسلامی میں حیدر آباد.میں شعبہ تخصص فی الفقہ کا طالب علم تھا، انکے متعلق بھت کچھ سنا،
مولانا رحمانی صاحب فرماتے تھے "مولانا عبد الحمید صاحب ہمارے بھت شفیق مہربان، استاذ رھے ہیں،انکی انشاء پردازی کمال کا تھا ”
مولانا رحمانی نے اپنی معرکہ الآراء تصانیف "قاموس الفقه” کی ایک جلد کا انتساب مولانا(مرحوم) کی طرف کرتے ہیں. اور انکی تعریف میں رطب اللسان نطر آتے ہیں،
آج بظاہر مولانا مدفون ھوگئے، لیکن ان کی تعلیمی، تدریسی، تربیتی، تحریری وتقریری خدمات زندہ و تابندہ رہینگے،
ان شاءاللہ.
مدرسہ نورالاسلام( بلکوا بازرا ضلع سرہا،نیپال ) شروع سے آپکا میدان عمل رہا ھے، فراغت کے بعد آپ ضلع دربھنگہ (بہار) کے ایک مدرسہ میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے.وہی آپکی تربیت میں وقت کے عظیم فقیہ ہند مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جیسی ہستی نے قلم پکڑنا سیکھا، جنکی فقاہت شان پر آج پورے ہندوستان کو ناز ھے،
اسکے بعد بلکوا جہاں آپکا وطن ھے منتقل ھوگئے پھر مسلسل اسی جگہ، علاقہ کو ترجیح دی . وہیں آپکا رھنا سہنا، ھوتا، مدرسہ سے اتنی قلبی محبت تھی، کہ آپ کیلئے سب کچھ وہی تھا، اسی کی تعمیر وترقی، تعلیمی بلندی، کی فکرآپکو ستاتی تھی.
میں اس علاقے سے تعلق رکھتا ھوں، حقیقت میں سرہا، سپتری اور بہار ضلع مدھوبنی کا سرحدی علاقہ آج بھی مدرسہ نور الإسلام ان سب کیلئے مرکز کی حیثیت رکھتا ھے، فقہ وفتاوی ہو ، یا طلاق و خلع کے مسائل لوگ وہاں سے فتوی طلب کرتے ہیں۔

آج مدرسہ کو اس مقام تک اعتماد وکامیابی کی ثریا تک پہنچانا مولانا ہی کی کاوش اور جہد مسلسل ہے ،
آپ طلبہ کے حق میں ایک اچھے محسن، اور پدرانہ شفقت سے پیش آنے والے عظیم مربی معلم لا ثانی تھے،ہر ایک کا خیال رکھتے، سب کی فکر کرتے، میں وہاں تو نہیں پڑھ سکا، لیکن ہمارے خانوادے کے سب لوگ انہیں سے فیض یافتہ ھیں. اسی ادارے کے خوشہ چیں ھیں. ہمارے دادا مولانا علی اکبر صاحب مرحوم سے کافی گہرا تعلق تھا، جب بھی جاتے باربار ان کا تذکرہ فرماتے تھے.

مولانا سے پہلی یادگار ملاقات :

2001م کی بات ھے میری پہلی ملاقات مولانا سے ھوی، اس وقت میں دارالعلوم نور الاسلام جلپاپور میں عربی اول کا طالبعلم تھا، سالانہ امتحان کی چھٹی ھوگئ تھی، شعبان کا مہینہ تھا، اپنے چھوٹے بھائی عزیزم حافظ عرفان و حافظ ھدایت اللہ ندوی جو اس وقت وہیں زیر تعلیم تھے، ناشتہ اور روپیہ لیکر 25 کلو میٹر کا سفر سائیکل کے ذریعے طے کیا مغرب کے وقت پہنچا،
نماز بعد تمام طلبہ اپنے امتحان کی تیاری میں مصروف تھے، مجھے مولانا اپنے پاس بلائے، خبر خیریت دریافت کے بعد ل مجھ سے درسی کتابوں سے سوالات کرنے لگے ، میں ہانپتے کانپتے- مولانا سے پہلی ملاقات تھی- جواب دیتا رھا، کہیں غلطی بھی ھوتی کبھی سہی سہی بتاتا،لیکن اکثر صحیح بتایا اسوقت آپ بارعب. سامنے ایک لمبی چھڑی دیکھکر میں ڈر گیا تھا ، انکے ارد گرد طلباء کی ایک بھیڑ تھی جو شمع کے گرد پروانے کی طرح جمع تھے.، ہر کوئی کچھ نہ کچھ پوچھ رھے تھے وہاں بھی چھٹی قریب تھی، امتحان کا سلسلہ قریب الختم تھا،
پہلا سوال: کہاں پڑھتے ھو؟
جواب :جلپاپور میں.
ہنستے ھوے جلپاپور مدرسہ کا نام ھے؟ ،مدسہ کا نام بتاؤ,؟
ارد گرد سب طلباء ہنسنے لگے.
میں زرا شرمندہ ھوا لیکن ہمت سے پھر بتایا
دارالعلوم نور الاسلام جلپاپور،
بھت اچھا،
س: کون کون سی کتابیں پڑھتے ھو؟
ج: قصص النبيين، تمرین النحو، تمرین الصرف، گلزار دبستاں اور دیگر کتابوں کا نام لیا.
س: اچھا قصص النبيين كے معنی بتاؤ؟
ج: نبیوں کے قصے
س: کون سی ترکیب ھے،؟
جواب :ترکیب اضافی
اور بھت سارے فارسی، نحو صرف سے سوالات کرتے رھے، میں اندر اندر پسینہ پسینہ ھورھا تھا، دل دل میں دعا کر رھا تھا یا اللہ ایسی غلطی نہ ھو کہ طلبہ ہنسے.
آپ جب سوال کرتے سارے طلبہ دھیان سے سنتے اور جواب کے انتظار میں رھتے کہ کیا کچھ غلطی کرتا ھے کی نہیں عام طور سے جو بچوں میں عادت ھوتی ھے، عشاءکی نماز کے بعد اپنے ساتھ بیٹھائے اور ساتھ میں کھانا کھلائے، پھر بھت نصیحت آمیز ، اور تشجیعی کلمات سے نوازے، ڈھیڑ ساری دعائیں دی، اور کہا میں باھر سے جو بھی طالبعلم آتا ھے، اسکا ٹیسٹ لیتا ھوں کیا پڑھتا ھے؟ ، محنت کرتا ھے کی نہیں؟ چیک کرتا ھوں گھبرائیے نہیں ،
الحمدللہ میرے جواب سے کافی مطمئن رھے، مولانا کے اکثر سوالوں کا جواب میں نے دے دیا تھا۔
کیوں نہ ہو، سالانہ امتحان کی تیاری ذہن نشیں تھا
یہ پہلی ملاقات تھی، اسکے بعد مولانا سے بارہا ملاقاتیں ھوتی رہیں اور اسکے بعد جب بھی اپنے بھائیوں سے ملنے جاتا، مولانا سے چھپ چھپ کے رھتا کہیں پھر سوال کیلئے نہ بلالے. لیکن فراغت کے بعد جب بھی مولانا سے ملاقات ھوی انکو نئی نسل کیلئے متفکر پایا، نیپال کے سیاسی حالات پہ جب گفتگو فرماتے، سننے سے دل نہیں اگتاتا
، بڑی اچھی اردو، سلیس زبان استعمال کرتے تھے . ان سے علم و حکمت کی باتیں زیادہ تو نہیں لیکن جب بھی سنا، ایک دانا و حکیم نظر آئے.
بیس سال قبل کی باتیں آج اچانک ذہن میں آیا اور سوچا کہ بچپن کے کچھ نقوش، دوست واحباب سے بھی شیر کردوں۔

اللہ مولانا کی تدریسی، تربیتی، خدمات کو قبول فرمائے، انکے سيئات کو حسنات میں تبدیل فرما ئے، اور مدسہ نورالاسلام( بلکوابازار) کو اسکا نعم البدل عطاء فرمائے ۔ آمین۔۔۔

مزید مولانا سے متعلق ایک اہم اعلان پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

 

مزید مولانا سے متعلق ایک اہم اعلان پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔