تاریخ کا مظلوم حکمران !

25

تحریر :خورشید انور ندوی ( 10 جنوری 2021ء روزانہ نوائے ملت)

عجیب منظر ہے.. یہ خود ایک تاریخ بننے کے قابل ہے.. کیا غضب ہے کہ کسی سے نفرت یا بیزاری کی بنیاد ،دو مختلف فکر و زاویۂ نگاہ رکھنے والے لوگوں کے لئے ایک ہی ہو.. یعنی بیزارگی کی معلنہ وجہ ایک ہو.. ہے نا یہ وجہ مشترک حیران کن..؟ دو مختلف سمتوں کا ملاپ کسی نقطے پر، طبعیات و ارضیات کے اصولوں کے تحت ناممکنات میں ہے، لیکن انسانوں کے درمیان یہ حد امکان میں ہے.. دیکھئے انسان ہے ہی اپنے آپ میں ایک عالم تحیر.. فلسفہ اس تحیر کو حل کیا کرتا دریافت بھی نہیں کرسکا.. لیکن نبوت نے صرف بشری امکانات سے اس کی کھوج نہیں کی اور علم تکوین سے اس کا حل نہیں ڈھونڈا.. بشری طبائع اور فکر انسان کی حدوں کی دریافت نبوت علی صاحبھا الصلوۃ کو قرآن نے کرکے دیا اور حل بھی خود ہی بناکر بتایا.. فکر وعمل کی یکسانیت، عقیدہ وعمل کا ارتباط قائم کیا.. جو سوچو وہی کہو.. جھوٹ نہ بولو.. اور جو کہو وہی کرو، وہ نہ کہو جو کرتے نہیں.. اگر نبوت کی رہنمائی کے یہ اصول (قرآنی اصول) پیش نظر رکھیں تو دو مختلف دھاروں کے درمیان وجہ اشتراک قابل فہم ہوجاتی ہے..ایک زاویہ نظر کے حامل کا رویہ اس کی ذہنی ساخت اور عقلی پرداخت کے عین مطابق ہوتا ہے اور دوسرے زاویہ نظر والے کا رویہ جھوٹ اور ملع سازی پر مبنی ہوتا ہے..

ہفتہ بھر سے ایک موضوع گرم ہے.. مرہٹوارہ کے ایک مشہور شہر اورنگ آباد کے نام کی تبدیلی کا معاملہ ہے.. اورنگ آباد کی مٹی سوہنی مٹی ہے، بھارت کے سب سپوت اس سے پیار کرتے ہیں.. معاملہ نام کا پھنس گیا ہے.. اورنگ زیب گوارا نہیں.. کیونکہ وہ شیو کا پیارا ہے.. لیکن شیو کی سینا نے سیاسی مجبوری سے کچھ دیر کے لئے اپنا رنگ پھیکا کیا تھا.. اور ہارڈ لائن چھوڑا تھا.. لوگ کہتے ہیں: نام میں کیا رکھا ہے؟ سچ ہے، لیکن کام نہ ساجھے تو نام بڑے کام کا ہے.. یوگی جی سے پوچھو کہ آٹھ آٹھ سال سے روڈ کا کام نہیں ہوسکا، آٹھ ہفتے میں الہ آباد، پریاگ راج بن گیا.. خلق خدا کو چلنے کو راستہ نہ ملا لیکن رام کا راجیہ مل گیا.. مزہ تو یہ ہے کہ کسی کو نہیں معلوم کہ پریاگ راج کب تھا.. بہرحال شیوسینا کو کوئی دلیل نہ ملی تو چیف نے کہا کہ "اورنگ زیب ایک سیکولر حکمران نہیں تھا”.. اس لئے اورنگ آباد کا نام بدلنا چاہئے.. ہمارے بدھی مان مولانا محمود مدنی صاحب کو اسی دلیل کی بنا پر اورنگ زیب پسند نہیں ہے کہ وہ سیکولر نہیں تھا.. اورنگ زیب کے زمانے میں اگر کانگریس کا سیکولرازم ایجاد ہوچکا ہوتا تو وہ اس کو ضرور مان لیتا کیوں کہ وہ عقلمند اور زیرک حکمران تھا.. سیکولرازم کی آڑ میں وہ سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے جو جنگ کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے.. الحرب خدعۃ، جنگ چکمہ کا نام ہے.. تو سیکولرازم چکموں کا جال ہے.. لیکن مجھے تعجب اس دلیل سے قطعاً نہیں ہے.. ادھو ٹھاکرے جی اور مدنی صاحب کی اس یکسانیت سے بھی نہیں ہے.. وجہ تمہید میں مذکور ہے..ادھو جی کا مائنڈ سیٹ ہے اور مدنی صاحب کی مجبوری ہے.. ہم جانتے ہیں کہ شیخ الاسلام رح، مولانا اسعد مدنی رح اور مولانا ارشد مدنی صاحب کی وراثت کیا ہے.. اس ورارث سے اس بیانیہ کا کوئی جوڑ نہیں.. مگر پانی میں رہ کر مگرمچھ سے بیر دل گردے کا کام ہوتا ہے..

پیچ پھر پڑ گئی اور ڈور الجھ گئی ہے.. کانگریس یا این سی پی کو اورنگ زیب سے پیار نہیں، لیکن اس کی قوم سے کام ہے.. اگر سیکولر اورنگ زیب نہیں تھا تو شیوسینا کب تھی، وہ تو آج تک بابری مسجد کی شہادت میں اپنے کردار پر فخر کرتی ہے.. تاریخ کا جبر آپ نے پڑھا ہوگا لیکن سیاست کا جبر دیکھ لیجئے کہ سیکولرازم کسی کو مسترد کرنے کی بنیاد، ان لوگوں کے لئے بھی بن رہا ہے، جو خود اس پر یقین نہیں رکھتے.. اور اگر اب رکھنے لگے ہیں تو میرے لئے خوش آئند ہے.. کیونکہ مشترک سوسائٹی میں سیاست کا یہ سب سے مثالی تصور ہے… اگر اورنگ زیب صدیوں بعد، خود سے، اپنوں اور غیروں کی نفرت اور بیزاری کی بنیاد، "سیکولرازم” پر سب کو اکٹھا کرجائے تو، تاریخ میں اس کو بھی اس کا کارنامہ شمار کیا جانا چاہئے…ویسے ہم اس کو بہت مذہبی بادشاہ مانتے ہیں لیکن تاریخ پر بڑی دسترس رکھنے والے بہت سے ہندو مورخین اس کو سیکولر مانتے ہیں.. اس نے مساجد سے کہیں زیادہ منادر، معبدوں کے اوقاف کی تنظیم کی، اور ان میں اضافہ کیا.. مجھے اسے سیکولر کہے جانے پر اصرار نہیں.. تاہم اگر غیر سیکولر کا طعنہ لے کر، لوگوں کو سیکولرازم پر اکٹھا کردے تو میرے لئے یہ اس کی” ولایت” سے کم نہیں.. چاہے اس کے نام کے شہر کا نام لوگ بدل ہی کیوں نہ دیں..