والدین بچوں کو دوست بنائے رکھیں

37

والدین بچوں کو دوست بنائے رکھیں

آج سے تقریبا تیس پینتیس سال قبل کا تصور کیا جائے تو بچے والدین کے سامنے کھڑے بھی نہیں ہوتے تھے۔ماں سے گھل مل کر تھوڑا بہت رہا بھی جاتا تھا مگر باپ سے آنکھیں ملانا تو دور سامنے بھی کھڑے ہونے کی ہمت نہ تھی۔والدین چاہے جو بھی کہیںں صحیح ہو یا غلط اُف تک نہ کیا جاتا۔جتنی عزت و احترام والدین کی ہوتی وہی اپنے اساتذہ کی بھی ہوتی۔یہ تو ہوئی گزرے دور کی باتیں پر دور حاضر بلکل اس سے مختلف ہے۔
ہمارے معاشرے میں جس طرح کا ماحول ہے۔ہمارے اطراف جو کچھ بھی ہو رہا ہے۔اس کے لئے والدین کو اپنے بچوں سے دوستانہ تعلقات رکھنے چاہیے۔ باپ بیٹے اور ماں بیٹی کو ہم راز بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو اتنی آزادی اتنی چھوٹ ضرور دیں کہ وہ آپ سے بلا ججھک اپنی بات اور خیالات شئیر کرسکیں۔ والدین اپنے بچوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھیں کہ بچے اپنے تمام تر مسائل پر گفتگو کر سکیں پھر چاہے وہ تعلیمی ہوں، معاشی ہوں، جسمانی، سماجی، ادبی یا اور کوئی بھی مسئلے ہوں۔ جب تک آپ ان کی باتوں کو سمجھ نہیں پائیں گے صحیح علم نہ ہوگا۔ تب تک آپ اُن کی صحیح تربیت و رہنمائی نہیں کرسکتے۔آگر آپ ان کے دوست نہیں بنے گے تو وہ باہر کسی کو اپنا دوست بنائیں گے اور اپنی باتیں باہر والوں سے شئیر کرینگے۔ اور پھر ضروری نہیں کہ کوئی اچھی راہ دیکھائے اچھی صلاح دے۔کوئی ہزاروں میں دو چار ہوں گے جو صحیح رہنمائی کرینگے۔ اکثر لوگ تو والدین کے خلاف نفرت بھی بھر دیتے ہیں۔
ابتدائی دَور میں بچّہ جو کچھ سیکھتا ہے وہ اپنے بڑوں سے خاص طور پر والدین ہی سے سیکھتا ہے اور اسی ابتدائی دَور میں بچے کو والدین کی شفقت و محبّت کے ساتھ ان کے وقت اور بھرپور توجہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین کی توجہ اور دوستانہ رویہ بچے کو اعتماد اور خود مختاری بخشتا ہے۔اگر بچہ غلطی کرے تو اسے شرمندہ نہ کریں بلکہ بے حد دوستانہ انداز میں پیار سے سمجھایا جائے تاکہ آئندہ وہ غلطی نہ دہرائے۔ اگر خدا نا خواستہ اگر کوئی غلطی کر بھی بیٹھے تو ڈر و خوف کے مارے چھپانے کی کوشش نہ کرے بلکہ سچ سچ آکر بتادیں۔ کبھی کبھار والدین کا سخت رویہ بچوں کو خوف زادہ بنا دیتا ہے۔ بچپن جس ماحول میں گزرتا ہے اس کے اثرات تاعمر ساتھ رہتے ہیں۔گھر کے لوگ اگر نماز پڑھتے ہیں تو وہ بچہ بھی جسے نماز پڑھنا نہیں آتی وہ بھی اپنے بڑوں کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا۔
اسی لئے والدین پر یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ محبت و شفقت اور دوستانہ رویے سے اپنی بچوں کا بچپن خوب صورت بنائیں۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ بچوں کو جب گھر میں توجہ نہیں ملے گی تو پھر انہیں اپنے لئے جہاں پیار دکھائی دیتا ہے وہ اُسی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔آپ کے بچے پہلی دفعہ کوئی غلطی کرتے ہیں اور آپ انہیں سمجھانے کی بجائے فورا سزا کا حقدار سمجھتے ہیں تو وہ بچے دوسری بار آپ سے کوئی بات بتانے میں ڈر محسوس کریں گے۔ اور آہستہ آہستہ ان کی یہ عادت بن جائے گی وہ آپ سے جھوٹ بولنے لگیں گے۔ بچوں کا یہی وہ وقت ہوتا جو محبت یا نفرت کے پودے کی آبیاری کا ہوتا ہے۔ابتدائی پانچ سال بہت ہی اہم ہوتے ہیں۔گھر کا ماحول خراب ہونا بھی بے راہ روی کی ایک بہت بڑی وجہ ہوتی ہے۔ بچے اپنے گھر کے ماحول میں وہی باتیں سیکھتے ہیں جو دیکھتے ہیں۔ والدین تو یہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ صرف اچھی باتیں ہی سیکھیں لیکن اگر گھر میں والدین لڑائی جھگڑے کرتے ہوں اور وہ ان سب کے درمیان یہ تمام باتیں بھول جاتے ہیں کہ جو ہم کر رہے ہیں وہ سب ہمارے بچے دیکھ رہیں ہیں ۔اگر گھر کا ماحول اچھا نہ ہو اور والدین خود تہذیب و شائستہ نہ ہو تو بچوں پر منفی اثرات ہی مرتب ہونگے۔
گھر میں بچوں کو پرسکون ماحول دیں تاکہ وہ اپنی پڑھائی پر توجہ دیں جب بچہ گھر پر ہو توکسی بھی کام کے لئے یا اپنی بات منوانے کے لئے اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر نہ لگیں ۔بلکہ اس میں خود ذمہ داری بڑھانے کی کوشش کریں ۔تاکہ وہ اپنے کام خود ذمہ داری کے ساتھ انجام دے سکے۔
ہر والدین چاہتے ہیں بچے ماں باپ بڑوں کا احترام کریں۔ ان کے لئے کوئی لفظ منہ سے نہ نکالیں۔جب وہ آئیں تو انکے لئے کھڑے ہوجائیں. لیکن کیا والدین اپنے بڑوں کے احترام میں کھڑے ہوتےہیں؟ کیا وہ اپنے والدین کو اُف نہیں کرتے؟ کیوں کے جو آپ کرتے ہیں وہی آپ کے بچے سیکھتے ہیں۔ ہم صرف بچوں سے توقع رکھتے ہیں۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیاری بیٹی سیدہ فاطمہ زہرہ کی آمد پر کھڑے ہوکر انکا استقبال کیا کرتے تھے۔ تو ہم کیوں صرف اپنے بچوں سے ہی اس بات کی توقع رکھتے ہیں۔
ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ کسی ضرورت کے تحت ہر بچہ اچھے کام پر تعریف اور کسی پریشانی کی صورت میں حل تو چاہتا ہی ہے وہ چاہتا ہے کہ کوئی اسے سراہنے والا ہو یا کوئی ہمت بڑھانے والا ہو. اب اگر اسے ایسا کوئی انسان اپنے گھر میں امی ، ابو ، بہن، بھائی کی صورت میں مل جاتا ہے تو حالات ٹھیک ہو جاتے لیکن جب گھر والے توجہ نہ دیں، ڈر والا ماحول ہو ضرورت سے زیادہ سختی ہو تو پھر ایسے میں بچے دوسروں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔اور پھر ایسے لوگ جو تعریف کرنے اور حوصلہ دینے یا کندھا دینے کی بہت بری قیمت وصول کرتے ہیں۔
ہمیں چاہیے بچوں کے ساتھ نرمی، خوش اخلاقی، پیار، محبت، شفقت اور دوستانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے، اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، اطاعت، فرماں برداری اور وفا شعاری کے جذبات اُبھاریں۔ خدانخواستہ بچوں کے دلوں میں نفرت کا بیچ پروان چڑھ کر پودا بن گیا تو پھر یہ بچے بڑھاپے میں کبھی آپکا سہارا نہیں بن سکیں گے۔ ایسی ہزاروں زندہ مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جن کے بچے دولت مند ہیں لیکن والدین دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔اپنے بچوں کی آپ سے بہتر رہنمائی کوئی نہیں کرسکتا۔ آپ جتنے بھی مصروف ہوں اس مصروف زندگی میں سے اپنے بچوں کے لئے روزانہ تھوڑا سا وقت ضرور نکالیں انہیں اپنا دوست بنائیں کیونکہ یہی آپکا سب سے بہترین اور قیمتی سرمایہ ہے۔

سیدہ تبسم منظور ناڈکر۔ممبئی
نائب ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال اسٹار نیوز ٹو ڈے
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال نوائے ملّت
9870971871