ڈرامے کا ڈرامہ

27

دوست بچھڑتے ہیں، ملتے ہیں.. نئے بنتے ہیں.. اس میں کیا نئی بات ہے؟ ہاں کبھی کبھی یہ ملنا بچھڑنا، روٹھنا ماننا مسخرہ پن بھی بن جاتا ہے.. بچوں کی دوستی اور لڑائی، دوستی لینا اور معصوم ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے کئی لینا تو ایک بڑا دلچسپ، حسین اور جی بہلاؤ مشغلہ لگتا ہے.. لیکن کیا آپ نے سنا ہےکہ یہ آج کل نئے نئے بگڑے شہزادوں کا نیا مشغلہ ہوا ہے.. یہ بچوں کا کھیل نہیں ہوا بلکہ ایک ملک کھیل رہا ہے۔

دوچار دن پہلے پاکستان نے سعودی عرب کے سخت مطالبہ پر کچھ ماہ پہلے دئے گئے تین ارب ڈالر قرض کی پہلی قسط ایک ارب ڈالر کسی اور ملک سے لے کر چکا دیا.. جو قرض بطور ایمرجنسی امداد دیا گیا تھا.. قرض واپسی کا تقاضہ اپنی سخت ناراضگی کے اظہار کا ذریعہ تھا… لیکن مجھے اس سے یک گونہ مسرت ہوئی… اب کچھ پس منظر ملاحظہ فرمائیے.. گزشتہ سال جب ہندوستان نے کشمیر کی سیاسی اور انتظامی حیثیت تبدیل کی اور وادی کی مسلمان آبادی کو بزور قوت ایک بڑے جیل خانے میں بند کردیا، بیرونی دنیا سے اس خطے کا رابطہ منقطع کردیا، حتی کہ ہندوستان کے صحافی، انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں، سیاسی جماعتوں کے اراکین، اور بیرونی مبصرین تک کے وہاں جانے پر سخت پابندی عائد کردی، تو پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورم پر اس مسئلے کو اٹھایا.. اور ان فورمس نے اس ایشو کو اپنے ایجنڈے پر لیا بھی۔

پاکستان کو جو کہ اکلوتی مسلمان ایٹمی قوت ہے، اور سب سے مضبوط عسکری صلاحیت کا حامل مسلمان ملک ہے، مسلمان ملکوں کی تنظیم آؤ آئی سی سے یہ توقع بجا طور پر تھی، کہ وہ پاکستان کی طلب پر اپنا اجلاس بلائے گی اور اپنے ایجنڈے پر کشمیر ایشو کو رکھے گی.. لیکن نام نہاد اسلامی چودھری خلیجی ممالک اور خصوصی طور پر سعودی عرب کے ہندوستان کے ساتھ معاشی شراکت داری کی مصلحت آڑے آرہی تھی، چنانچہ بار بار مطالبے کے باوجود یہ اجلاس نہیں بلایا گیا، اور ہندوستان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا.. جس نے اسلام آباد کو سخت مایوس کیا.. ویسے بھی آؤ آئی سی ایک کاغذی آرگنائزیشن ہے لیکن ستاون ملکوں کی برائے نام نمایندگی بھی ڈپلومیسی میں ایک اہمیت رکھتی ہے… اس دوران کچھ مضبوط اور امریکہ سے آزاد بڑے اسلامی ممالک نے پاکستان کی حمایت کا علی الاعلان اظہار کیا،اور بات یہاں تک پہونچی، کہ ایک الگ بلاک تشکیل دیا جائے، جو موثر ہو اور مسلمانوں کے سیاسی ایشوز کو معاشی اہداف کا اسیر نہ رکھے… اس کے تجویز کنندہ ملیشیا، ترکی، ایران، پاکستان، اور کچھ افریقی اور وسط ایشیائی ممالک تھے… یہ طے ہوا کہ ایک تمہیدی اجلاس ملیشیا کی راجدھانی کوالالمپور میں بلایا جائے جس میں اردگان، مہاتر محمد ،حسن روحانی اور عمران خان اور کچھ مسلم قائدین شرکت کریں.. لیکن سعودی عرب نے پاکستان پر اتنا سخت دباؤ ڈالا کہ عین موقع پر پاکستانی وزیراعظم کو اجلاس سے غیر حاضر رہنا پڑا…عمران خان نے اپنے ملک کی سیاسی، معاشی مصلحتوں کے پیش نظر یہ دباؤ قبول کرلیا، لیکن تعلقات میں دراڑ پڑ گئی۔

پاکستان کی لیبر فورس کی سب سے بڑی کھپت سعودی عرب میں ہے، اور سعودی عرب بڑے آڑے وقتوں میں پاکستان کے کام بھی آیا ہے، لیکن اس طرح اپنی احسان مندی نہیں چکائی جاتی کہ کوئی عزت نفس ہی نہ رہے…ادھر أرطغرل ڈرامہ مختلف ملکوں اور پوری دنیا کے چینلوں پر دھوم مچارہا تھا… پاکستان نے بھی اپنے آپریٹروں کو اس کو دکھانے کی اجازت دے دی، جو بالکل معمول کی بات ہے.. لیکن مزاج شاہی الگ ہوتا ہے… سعودی عرب اس کو ترکوں کی بازیابی گردانتا ہے، اور اس کو ترکوں کی بالادستی کی واپسی کی علامت سمجھتا ہے.. بادشاہت ڈرپوک ہوتی ہے،، اس کو سائے کی لرزش سے بھی ہول ہوتا ہے، چنانچہ سعودی عرب نے پاکستان سے اس ڈرامے کو دکھانے کی اجازت نہ دینے کی خواہش کی، جو ملکی خودمختاری میں مداخلت کی انتہا تھی.. عمران خان نے اپنی وزارت کی سمری مسترد کی، اور اجازت منسوخ کرنے انکار کردیا… سعودی عرب اس جرات انکار کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا..

اس نے اپنے تین ارب ڈالر کی پہلی قسط کی واپسی کا پر زور مطالبہ کیا، اور اپنی معیشت مشکل میں ہونے کا جواز پیش کیا… مرسی مرحوم کی حکومت الٹنے کے لئے 8ارب ڈالر خرچ کرنے، اور 100 ارب ڈالر کی امریکہ کے ساتھ اسلحہ ڈیل سے معیشت خراب نہیں ہوئی، لیکن ایک برادر ملک کی ایک ارب ڈالر کی واپسی معیشت سنبھالنے کے لئے ضروری تھی.. ایک ترکی ڈرامہ سے خائف عرب کے بہادر اسرائیل سے مقابلہ کیسے کریں گے؟ اس کے بعد ہی سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک میں ایک ڈرامہ دکھایا جارہا ہے، سنا ہے کہ اس میں یہود کی تاریخ مخاصمت کو نرم کرکے دکھایا جارہا ہے..ملکوں کی سیاست میں اس کو میں ڈرامے کا ڈرامہ ہی کہوں گا…