میڈیا کایک طرفہ برتاؤ!

21

محترم قارئین!
جیسا کہ آپ کو یہ معلوم ہے کہ موجودہ حالات میں عالمی وبائی مرض کورونا وائرس اور ہندی میڈیا کوئی
محتاج تعارف نہیں۔

میڈیا کے بارے میں کیا کہنا بس ہمیں یہ غور کرنا ہے کہ میڈیا نے کرونا وائرس کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا، میڈیا کو چاہیے تھا کہ وہ اس پر خطر حالات میں کورونا وائرس سے احتیاط برتنے کی تدابیر اور اس کے حل تلاش کرکے بتاتی لیکن انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش ہی نہیں کی کیونکہ انہیں حقیقت سے کوئی سروکار ہی نہیں بلکہ وہ روٹی اور بوٹی کے بکھاری ہیں صرف اتنا ہی نہیں میڈیا کی آزادی کا حال یہ ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھ کر بس دوسرے مذاہب وادیان کے گڑے مردے اکھاڑ نے پیچھے پڑے ہیں۔

 

اس کی حالیہ مثال آپ کے سامنے گذر چکی ہے چند ماہ قبل جبکہ میڈیا کو کورونا وائرس کے نقصانات بتانے چاہیے تھے لیکن انہوں نے یہ دکھانا شروع کردیا کہ اس بیماری کے ٹھیکیدار مسلمان ہیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے ہندی میڈیا کی جیسے مقدر کا سکندر جگمگا اٹھا ہو، اب بس سارے ٹی وی چینلز کو اسلام اور مسلمان کے نام پر چوں چوں کا مربہ مل گیا ہو اور یہ بات کامل یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ عالمی خفیہ مقاصد میں ہندی میڈیا نے بھی بھرپور جی جان کے ساتھ تعاون فرمایا۔ اور اس وقت پوری عالمی کوشش اسلامی خاتمہ کے گرد گھوم رہی ہے۔

محترم قارئین!
ہم لوگوں کے لئے اب اہم سوال یہ ہے کہ کورونا سے بچیں یا میڈیا والوں سےڈریں یا پھر آپس میں لڑیں………………؟