وہ مجھ کو مردہ سمجھ رہاہے اسے کہو میں مرا نہیں ہوں : راحت اندوری

54

دنیائے ادب میں راحت اندوری کے اچانک انتقال سے بچھ گئی صف ماتم ، اپنے منفرد طرز و انداز کا بانی انقلابی شاعر دنیا سے چلا گیا لیکن زبان و ادب کے چاہنے والوں کے دلوں میں وہ صدیوں زندہ رہے گا-

تحریر: محمد رضوان ندوی 

بامقصد انقلابی شاعری سے قوم کے تن مردہ میں بیداری کی روح پھونکنے والابے باک اور حوصلہ مند شاعر راحت اندوری کے اچانک انتقال سے پوری اردو دنیا بلکہ پوری باشعور دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے اور ایسی صف ماتم بچھی ہوئی ہے جس میں کسی کو کسی کا ہوش نہیں ہے بلکہ سب اپنے غم سے نڈھال اور بے حال ہیں، اب قوم کی ترجمانی اتنی بے باکی کے ساتھ کون کرے گا ؟حکومت وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کون سوال پوچھے گا ؟ کون ڈٹ کر کہے گا کہ ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی؟ قوم کا ان کے انتقال سے بڑا نقصان ہوا ہے ، اس نقصان کی تلافی شاید قریبی مدت میں مشکل بلکہ ناممکن ہوگی ، تپہ اجیار کے اردو دوست احباب نے راحت اندوری کے وصال پر گہرے دکھ درد کا اظہار کیا ہے ۔

انجمن افکار ادب سمریاواں کے صدر شاعر اسلام مجیب بستوی نے کہا کہ وہ اپنے منفرد لب و لہجہ اور طرز و انداز کے بانی تھے ، انھوں نے جس انقلابی انداز میں شاعری شروع کی اسی میں ختم کی لیکن تقریبا پچاس سال پر محیط ان کی شاعری کسی بھی دور میں ناقص اور کمزور ثابت نہیں ہوئی ، ان کے انداز اور طرز القاء کی نقل ہزاروں شاعروں نے کی لیکن کوئی بھی ان کے آس پاس نہیں پھٹک سکا ، موجودہ دور میں تو صرف ترنم کی شاعری اور راگ کو توجہ ملتی ہے لیکن راحت اندوری اس دور میں بھی اپنے منفرد انداز اور انقلابی شاعری سے لوگوں کے دلوں پر راج کرتے تھے ، وہ اردو شاعری کے بے تاج بادشاہ تھے ، مشہور ناظم اجلاس مولانا غفران احمد ندوی نے کہا کہ انھوں نے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی تھی ، وہ فن کار اور جادو گر تھے ، خراب سے خراب ماحول کو چند اشعار سے سازگار بنانے کا فن جانتے تھے،ا ن کی سب سے بڑی خوبی تھی کہ انھوں نے غزل کو ایک نیا اسلوب دیا ، جدید رنگ و آہنگ دیا اور غزل کی زبان میں وہ اپنی قوم کا سارا دکھ درد کہہ ڈالتے تھے ، اہل سیاست کی بے راہ روی اور فریب پر کاری ضرب لگانا اور پوری صداقت کے ساتھ ان کی کمیوں کو گنانا اور حل پیش کرنا ان کے دائیں ہاتھ کا کھیل تھا ، طنز اتنا لطیف اور اتنا زور دار ہوتا کہ بغیر کسی تمہید کے ناظرین و سامعین ان کے نشانہ پر خود بخود پہنچ جاتے ، اردو کی خاردار وادیوں کو انھوں نے جس سلیقہ کے ساتھ پار کیا اور اردو کو اردو دشمن دنیا کے سامنے جیسا وقار و احترام عطا کیا وہ شاید اردو اور اہل اردو کے اوپر بہت بڑے احسان کی صورت میں شمار کیا جائے گا ، مولانا محمد رـضوان ندوی نے کہا کہ ان کی شاعری میں بڑی ندرت اور جدت تھی ، کوئی ایک عام کو بہت خاص بنادینے کا فن جانتے تھے ، اکثر شاعر کسی نہ کسی کی شاعری سے متاثر ہوتے ہیں لیکن راحت اندوری اپنے انداز اور اپنی شاعری کے خود خالق اور مالی تھے ، مولانا انظر حسین قاسمی کرہی نے کہا کہ مشاعروں میں ان کی گرج دار اور طرح دار آواز بڑے سے بڑے ہنگامے کو پل بھر میں ختم کردیتی تھی ، ان کو ان کی اردو ادب کی خدمات پر کئی بیش قیمتی ایوارڈ و اعزاز سے نوازا گیا ، سماجی کارکن و صحافی ظفیر علی نے کہا کہ راحت اندوری کی مقبولیت اور کامیابی کے لئے یہی کافی ہے کہ ان کے شاعری سے بڑا سے بڑا دشمن بھی متاثر تھا ، عام جلسوں میں ، کانفرنسوں میں ، سیاسی ایوانوں میں ان کی شاعری کی گونج سنائی دیتی تھی اور پورا مجمع داد دئے بغیر نہیں رہ پاتا تھا ، وہ قلندر صفت شاعر تھے ، ضمیر فروشی اور ملت فروشی کے نقاد تھے ، انھیں چاپلوسی بالکل پسند نہیں تھی ، ہر بات ڈنکے کی چوٹ پر کہتے تھے ، وہ ہمیشہ سچائی اور حق کا ساتھ دیتے تھے ، اللہ تعالی قوم میں ا ن کا بدل پیدا فرمائے ، ان کی لغزشوں کو معاف فرماکر اچھے لوگوں کے ساتھ ان کا حشر فرمائے ۔

ان کی وفات پر تعزیت پیش کرنے والوں میں مولانا محمد حسان ندوی ناظم مدرسہ مصباح العلوم مہولی، احسان قاسمی ندوی، مناظر الاسلام حسینی، مولانا شعیب احمد ندوی ، محمد احمد نیتا ، گوہر علی ، مشہور عالم چودھری ، منیر الحسن چودھری ، حافظ اعجاز منیر ، مولانا فضیل احمد ندوی ، نثار احمد ندوی ، مولانا محمد عاصم ندوی ، قاری محمد یوسف ، مہتاب عالم عرف لڈو ، فیضان نسیم ندوی ،افضال احمد پردھان ، عارف مجیب ، آصف مجیب ، وقار احمد اثری ، عتیق اثری ، مولانا سلمان عارف ندوی ، سلمان کبیر نگری ، رضوان منیر وغیرہ کے نام خاص طور سے شامل ہیں ۔