پرسنل لابورڈ کو بے اثر اور معطل کرنے کی دجالی کوشش

15

ارریہ: {روزنامہ نوائےملت}
گذشتہ دنوں ایک کویتی وکیل کا بیان سوشل میڈیا پر ابھرا جو دراصل بھارتی مسلمانوں کو بدنام کرنے، انہیں بھڑکانے، اور ان حالات میں بھی انڈیا کی سب سے معتبرمسلم تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو بے اعتبار وبے اثر کرنے کی دجالی کوششوں کا حصہ ہے۔

کویتی وکیل مجبل الشریکہ نے ازیں قبل آل نڈیا مسلم پرسنل بورڈ سے بابری مسجد کامقدم عالمی عدالت میں لے جانے کی اجازت لینے کا ڈرامہ کیا تھا،اسی کو بہانہ بناکر اب وہ بورڈ اور اس کےمؤقر ذمہ داروں کے خلاف سوشل میڈیائی بیان بازی پر اتر آئے ہیں ساتھ ہی اس ملک کے مسلمانوں ہندؤں کی غلامی کا طعنہ دے رہے ہیں اور انڈیا کی عدالتوں کو سنگھی عدالتیں کہہ رہے ہیں، وکیل موصوف کی ان اوچھی حرکتوں سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سوچی سمجھی گہری سازش کا حصہ ہے جس کے باریک تار ناگپور کی ریتیلی زمیں کے نیچے سے ہوتے ہوئے تل ابیب کے ارض صحرائی تک موجود ہیں اور مجیبل وکیل صاحب ہندی مسلمانوں کے خلاف اس بربادی کی سازش کا ایک چھوٹا ساپیادہ ہیں مناسب معاوضے پر اور بس۔۔۔۔ ورنہ وہ سیدھے عالمی عدالت می اپیل کرسکتے تھے، ہیومن رائٹس کا حوالہ دے سکتے تھے، بابری مسجد کے کسی اور فریق سے مشورہ کرسکتے تھے، اکابرین علمائے ہند سے ذاتی طور پر رابطہ کرسکتے تھے،پرسنل لا کو گھسیٹنے کی کیا ضرورت؟ ہندی مسلمانوں پر لعن طعن کی اور ان کو بھڑکانے کا کیا جواز جبکہ ہم پر آزادی کے بعدکیا کیا قیامتیں نہ گذریں کبھی بھیانک فسادات کا سلسلہ، کبھی تقسیم کا بہتان، کبھی دہشت گردی کا الزام اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی لیکن مجیبل جیسے عالم عرب کے تلبیس زدہ آرام پسند لوگوں کو کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ ہماری مظلومیت پر منہ کھولتے یا اپنے یہاں کی حکومت کو ہمارے حق میں بیان دینے کو مجبور کرتے، اور یہ کیا منہ کھولیں گے ان بے حسوں کے عیاش حاکموں نے تو ان کو احتجاج کا حق بھی نہیں دیاہے اکیسویں صدی میں بھی اصل غلامی کی زندگی جی رہے ہیں یہ بزدل اور یہودیت کے کھلے ہوئےآلہء کار۔

اپنے بیان میں یہ صاحب ایک آیت کریمہ کےمتعلق غلط فہمی بھی پھیلارہے ہیں اختصارا اس کے جواب کے طور پر عرض ہے کہ: آیت کاشان نزول غزوہ احد کا واقعہ ہے اس میں کوئی شک نہیں۔لیکن وہ معنی اور اطلاق کے اعتبار سے بھی صرف اور صرف غزوہء احدکے مجرحین کے لئے خاص ہے یہ سراسر مغالطہ دینا اور گمراہی پھیلانا ہے،جس کو ایک طالب علم بھی سمجھ سکتا ہے،کیونکہ قرآن کتاب ہدایت ہے قیامت تک کے لئے اور تسلی وتشفی کی مذکورہ آیتیں بھی قیامت تک آنے والے اہل ایمان کی ایسے حالات میں دلجوئی کے لئے کافی وشافی ہے۔
بھارت کی عدالتوں کو کویت میں بیٹھ کر سنگھی عدالت کہنا آسان ہے لیکن ایک دفعہ یہ ڈکلیئرہوجانے کے بعدکتنے سارے دینی سائل لازمی طور پر پیدا ہوں گے اس کا اس احمق وکیل کو کوئی اندازہ ہی نہیں کیونکہ وہ ایک انگریزی عدالت کا جھوٹا طوطا ہے حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم جیسا کیا ان کے شاگردوں کے شاگردوں جیسا بھی دین کا رمز شناس نہیں۔
( اس موقع اس حقیقت کا اظہار بھی مناسب ہے کہ علمائے ہند نے زمانہ ماضی قریب میں قرآن،حدیث اور علوم دینیہ کی اس قدر علمی وتحقیقی خدمات انجام دی ہیں جو پوری اسلامی دنیا میں اپنی نظیر آپ ہیں اور اس کا عرب علماء نے بھی بارہا اعتراف کیا ہے۔)

بھارت کی عدالتوں کو سنگھی عدالت کہنے اور ہندؤوں کی غلامی کا بے بنیاد طعنہ دینے کا کیا مطلب ہم مسلمانان ہند آج بھی اپنے وطن کی آئین کو بچانے کے لئے پابند عمل ہیں اور ملک اسی مشترکہ آئین سے چل رہاہے جس پر ہمارےاسلاف حضرت مجاہد ملت،حضرت شیخ الاسلام اور حضرت ابوالمحاسن رحمہم اللہ پوری طرح دینی نقطہء نظر سے غور فرماکر متفق ہوئے تھے۔
ہاں جس دن اس دستور اور آئین کو لپیٹ دیا جائے گا ہم مجیبل صاحب سے پوچھنے نہیں جائیں گے بلکہ اپنے موجود معتبر اکابرین کے اشارے پر خود فیصلہ کریں گے۔
اور ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ چمن معمور ہوگا نغمہء توحید سے۔