اسلامیان ہند کی تعمیر وترقی کا روڈ میپ

99

اس وقت عالم اسلام کے جو حالات ہیں اس کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آنے والے وقت کے لئے حالات اچھے اور برے کے درمیان ایک مدھم سی کرن کی طرح ٹمٹما رہے ہیں ہیں۔اگر سنجیدگی کے ساتھ بروقت درستگی کی طرف پیش قدمی کی جائے تو نتائج اچھے ہوسکتے ہیں اور اگر پچھلی صدیوں کی طرح صرف ردوقدح میں وقت گزارنے کے خو گر رہے تو حالات اس سے بھی زیادہ دگرگوں ہو سکتے ہیں ۔ہم اپنے ملک کے ماحول کو دیکھتے ہوئے اگر بات کریں تو ظاہری طور پر حالات نہایت ناگفتہ بہ ہیں لیکن ماہرین کی مانیں تو ایسے مواقع پر قوم کے بہتر قائدین قوم کے لئے اس کے خوف کو ہی قوم کی سب سے بڑی طاقت بنا سکتے ہیں۔2020/ دوتہائ گزرجانے کے بعد ہم کہ سکتے ہیں کہ ” ہمارے لیے لیے اس ملک کی جمہوریت ہوائی مٹھائی سی ہے”۔سب کچھ یک طرفہ چل رہا ہے ہم کسی بھی مسائل پر چاہے جس قدر مظاہرہ کر لیں، کچھ حاصل نہیں ہونے والا، مخالفت میں چاہے جس قدر مضامین لکھ لیں اس کا حکومت پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا، زیادہ سے زیادہ ہمارا نام لکھنے والوں میں آجاتا ہے۔ اگر بہت زیادہ متاثر کن تحریر لکھنے میں کامیاب ہوگئے تو بہت زیادہ اس کا ثمرہ یہ آئے گا کہ سرکاری ایجنسیوں کی لسٹ میں ہمارا نام آ جائے گا اس سے بھی زیادہ بہت ہوگا تو وقتی طور پرکوئی اعلان سامنے آ جائے گا ۔پھر ہر پارٹی اپنے منشور پر عمل کرتی ہے ۔ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہونے کے باوجود سیاسی طور پر ہم اپنا وجود، اپنی حیثیت ستر سال بعد بھی ثابت نہیں کرسکے ہیں ۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ جمہوری طور پر احتجاج درج کرانے اور ہر طرح کی تحقیقات کرانے کے بعد بھی نہ فرقہ وارانہ فسادات بند ہوئے ہیں نہ ہجومی تشدد پر روک لگی ہے اور نہ ہی ہماری قوم کے جوانوں کے دلوں سے خوف نکل سکا ہے ۔ایسے حالات میں بجائے مایوسی کا شکار ہونے کہ منظم طریقے سے قوم کے سامنے کم سے کم بیس سال کا لائحہ عمل اول فرصت میں پیش کرنا چاہیے ۔

بیس سال کا جو لائے عمل پیش کیا جائے اس پر شور مچانے اور واویلا کرنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ اس پیغام کو اپنی قوم کے ہر فرد تک پہنچانا چاہیے ۔ہماری قوم کی اکثریت اس وقت کسی نہ کسی زاویے سے خوفزدہ ضرور ہے ، اسی خوف کو طاقت کی شکل دی جاسکتی ہے، اس سراسیمگی کو طاقت میں بدلنے کے تین راستے ہیں اور بیک وقت تینوں پر عمل کرنا لازم ہوگا ۔قومی اور ملکی سطح پر جو بھی مذہبی سماجی تحریکیں کام کر رہی ہیں ان کو باہم مربوط ہونا ہوگا اور اپنی ذاتیات کا قبلہ اپنے ہاتھوں مسمار کرنا ہوگا۔ شخصیات کے صنم کدے پر ضرب ابراہیمی لگانی ہونگی۔ یہ کام ہر حالت میں کرگزرنا ہوگا اگر اپنی قوم کے لیے واقعی ہمارے جذبات مخلص ہیں ۔ہماری قوم کو اس وقت خارجی نقصان پہنچانے والے سے زیادہ داخلی ضمیر فروش اور مردہ حس افراد سے خوفزدہ اورہو شیاررہناچاہیے جو اپنی انا اور ذاتی مفاد کے لیے پوری قوم کی گردن پر چھری چلانے کو تیار رہتے ہیں۔اس میں انجمن، این جی اوز ، مدارس اور اور مساجد کے ذمہ داران کی اکثریت ہے۔ یہ وقت ہے کہ یا تو اس طرح کی ذمہ داری ادا کرنے والے افراد اپنی سوچ و فکر کی صحیح تعین کریں اور اگر نہیں کر سکتے انہیں ایک سائڈ کر کے قوم کو ایک دھارے میں منسلک کرنے کی کوشش تیز کر دی جانی چاہیے ۔وہ تین آپشن جوقوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں ،وہ ہے۔ اتحاد ،تعلیم اور تجارت ۔خوشی کی بات یہ ہے کہ تینوں شعبوں میں ہماری قوم نے پچھلی دہائی میں بغیر کسی تحریک کے اچھی پیش رفت کی ہے زمینی سطح پر تینوں شعبے ہمارے سماج میں مقبول ہو رہے ہیں ۔سب سے خاص بات یہ ہے کہ ہمارا قومی مخالف اس وقت طاقت کے نشے میں بدمست ہوتاجا رہا ہے اور یہ بات بھی طے ہے کہ جس قوم پر طاقت، حکومت اور دولت نشہ بن کر چھا جائے اس کی قسمت میں زوال ہی لکھا ہوتا ہے ۔شرط یہ ہے کہ مظلوم قوم حوصلے کے ساتھ دانش مندانہ طریقے سے اپنے لئے نئی راہ نکال لے ۔ اگر مظلوم قوم کی قیادت اور رہنمائی سوجھ بوجھ کے ساتھ انجام نہ دی گئ تو پھردلت سماج کی شکل میں تین ہزار سال سے بھی لمبی ذہنی غلامی قوم کا مقدر بن جایا کرتی ہے۔

اتحاد :،یہ ایک ایسا فارمولا ہے کہ جس قوم نے بھی اس کا مزہ چکھ لیا وہ انتشار کو اپنے لئے زہر ہلاہل سمجھتی ہے۔دنیا کی جس قوم نے بھی ترقی کی ،پہلے اسی فارمولے پر عمل پیرا ہوئی پھر ہر طرح کی کامیابی نے اس قوم کے قدم چومے ۔ہماری قوم کی تاریخ میں بھی عروج و ارتقاء اسی وقت تک نظر آتا ہے جب تک ہمارے اندر اتحاد رہا، ہر طرح کے اختلافات کے باوجود ہم ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے رہے اور ایک دوسرے کا احترام کرتے رہے۔وقت آنے پر ایک دوسرے کی مدد کے لیے سامنے بھی آئے۔جب سے ہمارے اندر اسلام کو محدود فکرو خیال میں قید کر دینے کی سوچ پروان چڑھنے لگی قومی زوال ہمارے گلے کا طوق بن گئی ۔اب ہمیں اکرام مسلم اور احترام مسلم کے نظریے کے ساتھ اتحاد کی فضا قائم کرنی ہونگی۔یقین مانیں جب تک اس تفریقی فکر کا خاتمہ سماج سے نہیں کرلیتے یا اس پر کنٹرول نہیں کر لیتے کسی طرح کی ترقی کی باتیں کرنا اپنی قوم کو تباہی کے سمندر میں میٹھے پانی کا جھانسہ دینا ہوگا۔اگر ہماری قوم اس تفریقی نظریے کے ساتھ ترقی کی شاہراہ طے کر سکتی ہے تو کوئی تفریقی مفکر اس کے لئے لائحہ عمل پیش کرے۔یہودیت اور عیسائیت ہمارے سامنے قومی اتحاد کی سب سے عمدہ مثال ہے۔اس باب میں خاص کر جین دھرم کی تھیوری لائق تقلید ہے۔جین دھرم میں 110 سے زیادہ گروپ بندیاں ہیں لیکن معاشی، تعلیمی ،سیاسی، سماجی، اور تجارتی معاملات میں اس قوم کا اتحاد قابل تقلید ہے ۔تفریقی افکارونظریات کے دلدادہ افراد کو محبت کے ساتھ سمجھایا جا سکتا ہے ۔ایسی فکر و نظر رکھنے والے افراد سے صرف ایک سوال کرنا کافی ہوگا کہ ڈیڑھ سو سالہ ملکی تاریخ میں ہماری قوم نےاس تفریقی نظریے کے ساتھ ترقی کی کون سی منزلیں حاصل کی ہیں۔یقین مانیں ایسے مواقع پر یہ لوگ ایمان اور کفر کی بحث چھیڑیں گے اور بڑی ڈھٹائی سے کہ دیں گے کہ یہ ایمان اور کفر کا معاملہ ہے ترقی اور تنزلی کا معاملہ نہیں ہے ۔ معاشرے میں ہونے والی اس طرح کی تقریر و تحریر کا کلی بائیکاٹ کرنا ضروری ہے جس سے قوم تفریقی ذہن کو فروغ ملے ۔اگر ایسے لوگ نہ مانیں تو ان کے لیے ملکی قانون کا سہارا بھی لیا جاسکتا ہے ا۔ب تک کے تجربے یہ بتاتے ہیں کہ اس طرح کے افراد قانون کی زبان میں "اسلامی وحدت” کی اہمیت کو بہت اچھی طرح سمجھ لیتے ہیں۔شدید تفرقہ بازی کی سو سالہ تاریخ میں اگر اس قوم کا کوئی بھلا ہواہو تو اس حقائق پر روشنی ڈال کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے ہر وہ شخص آ زاد ہے جس کا خود ساختہ مذہب ان باتوں سے آگے سوچنے کی اجازت نہیں دیتا۔

تعلیم و تربیت :- قومی اتحاد کے بعد سب سے ضروری چیز بلکہ جسے قومیت کی ریڑھ کی ہڈی کہنا چاہیے وہ تعلیم ہے ۔تعلیم عام ہونی چاہیے نہ مذہب کی قید ہو اور نہ عصریات کے لیبل ساتھ تعلیم و تربیت کا مذاق بنایا جائے ۔اس کے لئے سب سے ضروری ہے کہ تمام مسالک کےاہل مدارس صرف بیس سال کے لیے مسلمان ہوجائیں۔مسلک کا درد اور شخصیات کو مجروح کردینے کی جو چبھن ہے اسے بیس سال کے لیے فراموش کردیں ۔ حالانکہ یہ کرپانا "ہتھیلی پر سرسوں جمانے جیسا ہے” لیکن ناممکن کچھ بھی نہیں ہے۔ سب کچھ ہوسکتا۔ جب یہود ونصاری دوہزار سالہ پرانی چپقلش بھلاکر ایک دوسرے کو گلے لگاسکتے ہیں تو ہماری قوم کے افراد ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ ۔ اگر نہیں کرتے ہیں تو ہمیں مان لینا چاہیے کہ ایسے لوگوں کو ساری غذا کوئ "عبدالیہود "ہی فراہم کرتاہے ۔آئندہ بیس سے پچیس سال کے لیے ملکی تعلیم کا معیار کافی کرے گا۔ اگر ایسے میں یہ قوم محنت کرتی ہے اور ملک کی ضرورت بن جاتی ہے تو سرخروہوگی ۔ "بولنا آسان نہیں ہے تو کرنا بھی مشکل نہیں ہے” نئے ادارے تعمیر نہیں کرنے ہیں، جو پرانے ادارے ہیں جس میں مذہب کے نام پر اب تک مردہ فلسفے کی باذوق تلاوت ہوتی رہی ہے ان کو تھوڑا موڈیفائ کر دینا ہے ۔ علاقائی مکاتیب اور چھوٹے مدارس میں تھوڑی تبدیلی لے آ ئیں ۔عربی زبان کو "سی بی ایس سی” کی طرز پر پڑھانا شروع کریں ۔موڈیفائیڈ مدارس اپنا تعلق بلاواسطہ عرب دنیا میں کام کرنے والی کمپنیز سے قائم کریں اپنے یہاں تیار ہونے والے افراد کی منڈی خود تلاش کریں ۔عربی زبان کے ماہرین کے لیے کام بڑا مشکل نہیں ہے ،ساتھ ہی حوصلے بلند ہوں تو ستاروں پر کمند ڈالی جاسکتی ہے۔ مدارس خود کو ایک دوسرے سے مربوط کریں۔ جن مدارس کا تعلیمی معیار پہلے سے بلند ہے اس کی مدد کی جائے اور اس کی طرف اپنے طلبہ کوبھی متوجہ کرایاجائے۔ اسلامیات کا بڑا ذخیرہ پہلے سے موجود ہے اس لیے مخصوص افراد کوہی اس فیلڈ میں رکھا جائے باقی دوسرے فارغین کو دیگر میدان میں لگایا جائے۔ جتنی قومی تحریکیں ہیں اپنے علاقائ اسکولس اور مدارس کا دورہ کرکے کوئی کامیاب لائحہ عمل تیار کر کے ذمہ داران کو عملدرآمد کے لئے آمادہ کر سکتے ہیں

۔تجارت:- تجارت چھوٹی ہو یابڑی یہ بہت بابرکت ہوتی ہے ۔ خاص کر ایمان داری کے ساتھ تجارت انسان کو خاص پہچان عطا کرتی ہے ۔ تجارت اس قوم کا اولین ذریعہ معاش رہی ہے ۔مذہب اور دین کی تبلیغ کا بہترین فریضہ اسی پلیٹ فارم سے ادا کیا گیا ہے ۔ آج بھی ایک کامیاب تاجر بڑی آ آسانی سے اس جگہ تک پہونچ سکتا ہے جہاں بڑے بڑے اسکالرز آسانی سے نہیں جاسکتے ، یعنی اس راستے سے آ ج بھی دعوت وتبلیغ کا کام آ آسان ہے ۔ملک میں قومی سطح پر اس کی طرف اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور قوم کے باحوصلہ جوان اس میدان کی طرف متوجہ ہوئے ہیں ،لیکن ہر کام کی طرح یہ کام بھی منظم نہیں ہے ۔جب کہ قومی عروج وارتقاء کے لیے اس میدان میں زیادہ منظم ہونے کی ضرورت ہے ۔ خاص کر ہر علاقے میں جو کمزور اور ایمان دار تاجر ہیں ان پر توجہ دی جائے ۔ اسی کے ساتھ ایک بات جو بہت خاص ہے وہ یہ کہ نوجوان نسل بزنیس میں آ گے آ رہی ہے لیکن کم علمی اور ناسمجھی کی وجہ سے غلط صحبت کی شکار بھی ہورہی ہے ۔یہ کام پری پلان کیا جاتا ہے تاکہ نشے اور بری لت کی وجہ سے یہ قوم تجارتی میدان میں آ گے نہ بڑھ سکے ۔ ملکی سطح کی جتنی بھی مذہبی تحریکیں ان کو ان نوجوانوں کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے ۔ اپنے تجارتی مراکز کو فرقہ پرستانہ بلوائیوں سے بچانے کا نظریہ اور طریقہ بھی اپنی قوم میں عام کیا جانا چاہیے ۔ساتھ ہی اس فکر کو بھی فروغ دیا جائے کہ ہر تاجر اپنی تجارت کا انشورنس ضرور کرائیں اور کہیں بھی دوکان
شروع کرنے سے پہلے علاقے کا اچھی طرح جائزہ لے لیں ۔

یہ صرف اشارے ہیں ۔ان خطوط پر کام کرنے والے اپنا
دستور بناکر مستقل پروجیکٹ کی شکل میں اسے عام کرسکتے ہیں ۔ ہمیں اپنی محنت اور خاموشی سے ملک کی ضرورت بن جانا ہے ۔ صرف بس سال اتنی خاموشی سے کام کریں کہ لگے یہ قوم بے حس ہوگئی ہے یا پھر ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی ۔ خاموش رد عمل ہو اور پوری توجہ اپنے کام پر دی جائے ۔ امید ہے اگر اس سوچ کے ساتھ آ گے بڑھے تو منزل خود آ گے بڑھ کر اس قوم کا استقبال کرے گی ۔ ایک سوال آتاہے کہ یہ کام کون کرے گا ؟ کیا اس کے لیے الک سے کوئ تنظیم ہونی چاہیے ؟ تو جواب ہے نہیں ۔ نئی تنظمیں ناکام ہوسکتی ہیں اس لیے پرانی تنظیموں کو ہی اس طرف متوجہ کرنا ہوگا اگر تنظیم کے ذمہ داران اس کی طرف توجہ نہ دیں تو انفرادی طور پر اپنے حصے کا چراغ جلاتے چلیں ۔