معجز ے اپنے ہنر کے دیکھ

40

عدل و انصاف کسی بھی ملک ۔سماج اور قوم کے استحکام اور ترقی کے لئے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جسم کو اچھی غذا کی ۔جس طرح ایک جسم بغیر متوازن غذا(Balnce dite) کے صحتمند اور تواناں نہیں رہ سکتا اور انسان کئی طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر اس کی زندگی سے چین و سکون ختم ہو جاتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ اس سے جڑے سبھی لوگ ذہنی اور معاشی بحران کے شکار ہو جاتے ہیں جس کے باعث وہ ایک نادیدہ عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں،زندگی سے خوشیاں دھیرے دھیرے جاتی رہتی ہیں پریشانیوں کا جماوڑا ہونے لگتا ہے ٹھیک اسی طرح اگر عدل و انصاف کا دامن چھوڑ دیا جائے اور کسی بھی سطح پر نا انصافی ہو رہی ہو چاہے وہ کسی ملک کے خلاف ہویا پھر کسی ریاست کے خلاف ہو،یا کسی قوم اور مذہب کے ساتھ ہو یا پھر سماج کے کسی طبقہ کے ساتھ ہو حتیٰ کہ اگر گھر میں ہو تو اس کے اثر کا دائرہ دھیرے دھیرے بڑھتا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے بہت سارے ایسے لوگ بھی متاثر ہو جاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہمارا تعلق اس نا انصافی سے نہیں ہے جسکی وجہ کر وہ غفلت میں پڑے رہتے ہیں ۔نا انصافی اور ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں مگن رہتے ہیں لیکن جب غفلت کا پردہ چاک ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ بیماری اپنے تھرڈ اسٹیج میں پہنچ چکی ہے اور پھر اللّه کے علاوہ کوئی چارا اور سہارا نظر نہیں آتا ہے اور لوگ بھگوان کے درشن کو نکل پڑتے ہیں ۔

اسلئے ضروری یہ ہے کہ سماج میں ایسا نظام قائم ہو جہاں عدل و انصاف کا بول بالا ہو اور سماج میں رہنے والے ہر فرد کو یہ احساس ہو کہ ہمیں حق مل رہا ہے اور ہمارے حقوق کی پامالی نہیں ہو رہی ہے بلکہ اس کا ذہن اس بات پر مطمئن ہوکہ جو ہمیں سماج سے ملنا چاہئے وہ ہمیں مل رہا ہے ۔اگر اس میں ہم کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ملک اور سماج میں امن و امان قائم کرنے میں بہت حد تک مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ۔ورنہ زندگی کے ہر شعبے میں انتشار پیدا ہو جاتا ہے جس کے اثرات سے ہر انسان کو جانے انجانے میں نقصان ہوتا ہے اور چین و سکون کی فضا الگ غارت ہوتی ہے۔ اس لئے ہر فرد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ میز ان عدل پر انصاف کے ساتھ قائم رہے اور اسے سماج میں جو بھی ذمہ داری ملی ہے وہ پورے حسن و سلوک اور عدل و انصاف کے ساتھ اپنی ذمہ داری کی ادائگی کرتا رہے ۔اس میں نہ تو رشتے ناتے کو ترجیح دے اور نہ ذات برادری آڑ ے آئے اور نہ ہی امیر و غریب کا سوال پیدا ہو اگر وہ اپنا کام انصاف کے ساتھ پورا کریگا تو اس کا ضمیر کبھی اسے ملامت نہیں کریگا اور قلبی سکون میسر ہوگا۔جس کے اثرات اس کے زندگی کے ہر معاملات پر نمایاں ہوتے ہیں اور دھیرے دھیرے اس کی زندگی پر سکون ہوگی اور روحانی ارتقاء الگ میسر ہوگا، لوگوں کے اندر و احترام کا مرتبہ حاصل ہوگا اور زندگی کا حقیقی لطف اسے نصیب۔ ہوگا۔

مجھے عدل و انصاف سے جڑا ہندوستانی تاریخ کا ایک اہم واقعہ یاد آتا ہے کہ جب تختِ سلطنت پر سلطان المعظم شیر شاہ سوری رونق افروز تھے۔انہی ایام میں ایک روز شہنشاہ کا ولی عہد محمد عادل خاں اپنے جلو سمیت ہاتھی پر سوار ہو کر آگرہ کے ایک کوچے سے گزر رہا تھا کہ راستے کے ایک کچے مکان کے اندر ایک عورت بے تکلف غسل کرتی نظر آئ شہزادہ اس وقت پان سے شغل کر رہا تھا۔اس نے ایک گلوری اس عورت پر پھینک دی ۔اور سواری گزرتی چلی گئی۔عورت شرم و حیا کی دیوی تھی۔اسے برہنگی کے عالم میں جب شہزادہ کی اس حرکت کا علم ہوا تو وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی اور بد حواس ہو کر خودکشی پر آمادہ ہو گئی اتنے میں اس کا شوہر بھی آگیا،اس نے رو رو کر سارا ماجرا کہ سنایا ۔پہلے تو اسے یقین نہ آیا کہ شیر شاہ عادل کا فرزند ہو کر ایسی نازیبا حرکات کا ارتکاب کرے۔ مگر جب ہمسا یوں کی زبانی اسے علم ہوا کہ واقعی شہزادہ ہی کی سواری ادھر سے گزری ہے تو وہ غیرت سے تڑپ اٹھا ۔اور شہزادے سے انتقام۔ لینے پر آمادہ ہو گیا۔ بیوی کو جو وفور غم سے نڈھال ہو رہی تھی تسلی دی اور کہا ہمارا شہنشاہ بیحد منصف مزاج اور عادل ہے ۔اگرچہ عادل خاں اسکا لڑکا ہے مگر مجھے پختہ یقین ہے کہ وہ کسی صورت میں بھی اس کی نا مناسب حرکت گوارا نہیں کریگا ۔آ خر کار وہ اس نتیجہ پہ پہنچا کہ جب شہزادے نے میری بے عزتی کرتے ہوئے کسی قسم کی شرم و حیا محسوس نہ کی تو مجھے بھی موقع اور مصلحت دیکھنے کی ضرورت نہیں ۔سر دربار اسے ذلیل کرنا چاہئے دوسرے دن صبح سویرے اشنان کر کے اپنی شادی کے کپڑے پہن وہ قلعےکو روانہ ہو گیا ۔شہنشاہ کا معمول تھا کہ ہر روز بلا ناغہ دیوان عام میں اجلاس فرماتے تھے ،اور ہر خاص و عام کو دربار کی روداد دیکھنے کی اجازت تھی ۔قلعہ کے پھا ٹک پر کوئی روک ٹوک نہ تھی ۔اس لئے فریاد ی بلا تکلف دربار عام میں پہنچ کر بالمشا فہ عرض و معروض کر سکتے تھے ۔

لہذا ہری کو بھی دربار میں بار یاب ہونے کے لئے کوئی خاص دقت پیش نہ آئ ۔ہری جب دربار میں حاضر ہوا تو وہاں کا منظر دیکھ کر اس کے دل پر رعب طاری ہو گیا ۔اور مارے ہیبت کے تھر تھر کانپنے لگا ۔سامنے نگاہ اٹھی تو عجب عالَم نظر آیا دیکھا کہ ایک پیر مرد نورانی شکل کے ساتھ لاکھوں روپے کا قیمتی لباس پہنے اور ہیروں کا تاج سر پر رکھے عجیب متا نت سے فریادئیوں کی داد رسی کر رہا ہے ۔ہری کی گو یائی نے یا وری نہ کی۔دائیں جانب نظر دوڑائی تو بڑے بڑے راجہ مہا راجے اور شہزادے ہاتھ باندھے سنا ٹے کے عالَم میں گردن جھکائے نظر آئے ۔بائیں جانب نگاہ کی تو ناظر چوکیدار سونے چاندی کے عصا تھامے نظر آئے ۔ہری نگاہ حیرت سے اس نظارے کو دیکھ رہا تھا کہ ایک چوکیدار کی آواز نے چوکنا ّ کر دیا ۔کیوں بھائی !جہاں پناہ سے کچھ عرض کرنا ہے ؟ہاں حضور ! میں شہنشاہ کے حضور میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔میں فریاد لے کر آیا ہوں ۔تب ادھر آؤ۔۔۔!یہ کہ کر چوکیدار ہری کو فریادیوں کے جر گہ میں لے آیا باری باری ایک ایک فریادی بادشاہ کی خدمت میں پیش ہو رہا تھا۔جہاں پناہ خود بیان سماعت فرماتے اور ایسا فیصلہ صادر کرتے کہ فر یادی باغ باغ ہو جاتا ۔ہری جان بوجھ کر پیچھے ہٹا کھڑا رہا کیونکہ اس کا معاملہ ہی ایسا تھا اس لئے شہنشاہ کی کامل توجہ درکار تھی ۔ چنانچہ آخر وزیر اعظم نے اسے بھی گوش گزار کرنے کے لئے تخت کے رو برو کھڑا کیا۔ہری نے شہنشاہ کے باوقار اور پر جلال چہرے کو دیکھا تو تعظیم کے لئے جھک گیا۔اور تخت کی زمین کو بوسہ دیکر پان کی گلوری وزیر اعظم کے آگے رکھ دی۔

وزیر اعظم نے بیعنہ اسے اٹھا کر شہنشاہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔بادشاہ نے تعجب سے گلوری کو دیکھا اور فرمایا۔بیٹا کیا کہنا چاہتے ہو ؟ہری رعب شاہی سے لرز اٹھا۔اور ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔”مائی باپ "۔پھر اس کی زبان بند ہو گئی۔ہاں ٹھیک ہےبادشاہ رعایا کا باپ ہی ہو تا ہے بو لو ڈرو نہیں۔یہ گلوری کیسی ہے اور اسے پیش کرنے سے تمہارا مدعا کیا ہے۔؟ ہری سنبھلا اور سنبھل کر نہایت مر تعش انداز میں بولا۔”عزت کا معاملہ ہے اور عزت ہر ایک کو پیاری ہے عالَم پناہ "۔ کیوں ! کسی ظالم نے تمہاری عزت پر حملہ کیا ہے بتاؤ وہ کون مردُود ہے؟ شہنشاہ نے گھور کر کہا۔ ”
"جہاں پناہ کا اقبال قائم رہے،نام لینے میں ادب ما نع ہے۔ "ہری نےادب سے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ پرواہ نہیں۔شیر شاہ کی نگاہ کی نگاہ میں اراکین شاہی سے معمولی خدام تک سب برابر ہیں۔اگر تم سچے ہوتو ملزم کو قرار واقعی سزا ملےگی۔”حضور والا اس سائل کا ملزم جہاں پناہ کا ولی عہد شہزادہ عادل خاں ہے” "عادل کیا کیا اس نے ۔۔۔؟”بادشاہ نے تیوری پر بل چڑھاتے ہوئے کہا ۔ظلِ الہی !میری بیوی اپنے مکان کے صحن میں نہا رہی تھی۔پاس سے شاہزاد شہزادے کی سواری گزری،ہاتھی پر سوار تو تھے ہی۔مکان میں نگاہ پڑ گئی،حضور کی لونڈی کو جو دیکھا تو پان کی یہ گلوری پھینک دی۔عالی جاہ شرم و حیا کی دیوی کل سے زار زار رو رہی ہے۔شرم سے خودکشی کرنا چاہتی تھی کہ میں نے بڑھ کر روکا۔ہری کی اس بیان کی سماعت سے باشاہ کی آنکھیں شعلہ جوالہ بن گئیں۔
عادل کو حاضر کرو،بادشاہ نے حکم فرمایا۔دربار میں ایک سناٹا چھا گیا۔ملاز مین شاہی نے حکم کی تعمیل کی۔اور شہزادہ ڈرتے ہوئے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

اور بولا عالم پناہ !یہ غلام کسی ایسے فعل کا مر تکب نہیں ہوا جس سے جا مہ شاہی داغ آلود ہوا ہو۔واقعہ یہ ہے کہ مستعغیث کی اہلیہ اپنے مکان کے صحن میں آزادانہ طور پر نہا رہی تھی،میں نے محض اس لئے گلوری پھینک دی کہ اسے غیر کے دیکھنے کا علم ہو جاۓ اور آئندہ وہ نہانے میں ایسی بے پرواہی سے کام نہ لے ۔ورنہ خدا شاہد ہے بندہ کی نیت ہر گز بری نہ تھی۔ پھر بھی عالم پناہ ! یہ غلام اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے ۔معافی دی جائے ،آئندہ ایسی غلطی کبھی نہیں ہوگی ۔شیر شاہ کا جواب تھا "۔تجھے معافی دے دوں آج تو تجھے اتنی جرات ہوئی ہے دوسروں کی بہو بیٹیوں پر گلوری پھنیکی ہےاور کل کوتو اتنا دلیر یو جا ئے گا کہ اٹھوا کر اپنے ہوج میں بیٹھا لے ۔اور پھر تیری دیکھا دیکھی حکومت کے دوسرے امرا ءوزراء بھی ایسی کمینی حرکتیں کرنے لگ جاینگے اور میرا منھ آخرت میں سیا ہ ہو جاۓ۔ ہو گیا ۔بادشاہ کا دامن صبر ضبط سے چاک ہو گیا۔بادشاہ نے فیصلہ صادر کرتے ہوئے کہا ۔”بے عزتی کا بدلہ بےعزتی سے کیا جائے،انصاف کا تقاضہ یہی ہےکہ تم اب اپنی بیوی کو ہری کے مکان۔ پر۔بھیج دو کہ وہ بھی اس صحن میں جاکر نہائے ۔میں ہری کو تمہارے ہاتھی پر سوار کر کے بھیجتا ہوں۔جب یہ تمہاری بیوی پر پان کی گلوری کھا کر پھینک لے گا ،تو پھر شیر شاہ کا انصاف پورا ہو جائے گا ۔”

اس فیصلے نے شہزادے کی حمیت کو بے قرار کر دیا۔خون گرم ہو کررگوں میں سر عت سے دوڑنے لگا۔ آنکھیں پر ُآب ہوگئیں اور جسم میں کپکپی سی پیدا ہو گئی تخت کے سامنے دو زانوں ہو کر بولا "عالم پناہ کو اگر عادل کی بے عزتی کا تماشا دیکھنا مقصودہے تو یہ غلام حاضر ہے ۔بھرے دربار میں بندے کو کوڑے لگوا کر اپنی آتش غضب کو فرو کر لیجئے مگر تاجدار ہند! میری بیوی رعایا کے محبوب بادشاہ کی بھی کچھ لگتی ہے اور وہ عفیفہ اس معاملے میں مطلقاً بے قصور ہے۔ اسے بے عزت نہ کیا جا ئے ۔

ہری نے جب بادشاہ کا فیصلہ سنا تو فرط مسرّت سےآنکھوں میں آنسوں بھر آئے اور گلو گیر آواز میں بولا "۔عالم پناہ بس !میں نے انصاف پا لیا ۔خدا حضور کو سلامت رکھے، جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا۔اب شہزادی صاحبہ کو وہاں لے جانے کی ضرورت نہیں ۔”

اس طرح تاریخ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب کبھی بھی انصاف پسند لوگوں کے ہاتھ میں سماج کی باگ ڈور رہی ہے سماج میں ہر طرف امن و امان کا ماحول رہا ہے ۔لوگوں کے دل میں کسی طرح کا خوف اور ذہن میں کسی طرح کا انتشار نہیں رہا ہے اور جب ماحول اسی طرح خوشگوار ہوتا ہے تو امن اور محبّت کا چرچا ہوتا ہے۔ہر طرف بھائی چارہ ہوتا ہے،لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شامل رہتے ہیں اور انسانیت کے رگوں میں محبّت کی توانائی محسوس ہوتی ہے ۔سماج سے گھٹن اور نفرت ختم ہوجاتی ہے اور چاروں طرف پیار کی بنسی بجتی ہے ہر کوئی جیو اور جینے دو کی راہ پر گامزن نظر آتا ہے۔اس لئے یہ بہت اہم ہے کہ ہم سماجی زندگی میں چاہے کتنا ہی اعلی مقام حاصل کر لیں۔لیکن عدل و انصاف کا دامن تھامے رہیں اور اس بات کا خاص خیال ہو کہ ہمار ی حرکتوں سے کسی کے حقوق کی پامالی نہ ہو کیوں کہ نا انصافی ایک ایسا مرض ہے جو سماج کو اندر ہی اندر چاٹتا رہتا ہے اور ہمارے تانے بانے کو کمزور کرتا رہتا ہے اور آخر کار یہ گھر ہو یا سماج،ریاست ہو یا ملک ایک نہ ایک دن بربادی کے دہانے پر پہنچا کر ہی دم لیتا ہے ۔
ائے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شئے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا!