افسانہ – حقوق العباد

34

ساری دنیا میں کورونا وائرس کی پھیلتی ہوئی مہلک وبا سے متاثرین کی بڑھتی ہوئی لاکھوں کی تعداد اور اموات کی وجہہ سے سارے ممالک میں احتیاطی تدابیر نافذ ہونے لگے تھے اِس لا علاج بیماری کی وحشت نے سبھی کے دلوں کو دہلا کے رکھ  دیا تھا، قدرت کے اِس امتحان پر سبھی سہم سے گئے تھے۔

اِس کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کےلۓ سوشل ڈسٹنسِنگ سختی کے ساتھ لاگو ہوچکا تھا،ہرجگہ تالابندی یہاں تک کے عبادت گاہیں تک مقفل ….حکومت کی طرف سے ہمارے وطنِ عزیز میں جیسے ہی اکّیس دن کے لاک ڈاؤن کا حکم نافذ ہوا  اِس اعلان کو ابھی تین چار دن بھی نہیں گذر پائے تھے۔

اِسماعیل صاحب اُلجھے اُلجھے سے بےحد پریشان اور بے چین نظرآ نے لگے  بیوی نے جاننے کی کوشیش کی ، بیٹے نے پوچھا مگر یوں ہی ٹال گئے کہ ایسی کوئی بات نہیں مگر اُن کا ذہنی اِنتشار اُن کے چہرے سے صاف نمایاں طور پر جھلکنے لگا تھا۔

اُن کی راتوں کی نیند اور دن کا چین جیسےکھو سےگئے تھے….وہ ایک وظیفہ یاب پروفیسر تھے, بہت ہی نیک اور درد مند دل رکھنے والے پُر خلوص شخصیت کے مالک,اللہ نےاُنہیں ایک بیٹی اور ایک بیٹے کے روپ میں اولاد کی نعمت سے نوازہ تھا… اپنی زندگی کے ستّر سالوں میں اُنہوں نے کٸ نشیب وفراز کا سامنا کیا اور کٸ   مشاہدات و تجربات سے گذرے…..مگر ایسے دن بھی  دیکھنے پڑیں گے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا…اِس وقت ساری دنیا کی حالتِ زار کو دیکھ کر وہ ایکدم سے تِلملا اُٹھے تھے….لاک ڈاؤن کے باعث معیشت بُری طرح متاثر اور عام آدمی سہمے ہوۓ  ہر طرف خوفناک سنّاٹا, چارسو دہشت ہی دہشت پھیلی ہوٸی تھی۔

ایسے میں اِسماعیل صاحب خصوصاً غریبوں مفلسوں مزدور پیشہ لوگوں کےبارے میں سوچ سوچ کر بے حد فکر مند اور بےچین سے ہوگۓ تھے…. حکومتِ انتظامیہ اور ملی تنظیمیں ادارے اور اہلِ خیر حضرات اپنی بساط بھر اُن کی مدد اور خدمت کر رہے تھے”بھوک کا کوٸی مذہب نہیں اور انسانیت کی کوٸی سرحد نہیں” کے جذبے کے تحت سبھی لاک ڈاٶن کے پہلے ہی دن سے بہ توفیقِ الٰہی سرگرم عمل دکھاٸی دے رہے تھے۔

اِس حالتِ زار کے پیشِ نظر اِسماعیل صاحب نے بھی دیر نہ کرتے ہوۓ دل ہی دل میں ایک فیصلہ لے لیا اور اُس کے بعد اپنی بیگم اور بیٹا بہو  سبھی کو اپنے پاس بُلا کر بٹھایا اور بڑے اطمینان کے ساتھ اپنا فیصلہ سنایا…
سبھی حیرانی کے ساتھ ایک دوسرے کو تکنے لگے ماحول ایکدم پُر سُکوت سا ہو گیا…..اِسماعیل صاحب کی فیصلہ کُن بات ہی کچھ ایسی حیران کرنے والی تھی….سبھی سوچ میں پڑ گۓ کے کیا کہا جاۓ….پھر بیٹے نے ہی اِس خاموشی کو توڑنے کی ہمت جُٹاتے ہوۓ لب کُشاٸی کی…ابّو یہ رقم تو آپ کٸ سالوں سے جمع کرتے آۓ ہیں اور یہ آپکی برسوں سے دِلی تمنّا رہی ہے کہ آپ اور امّی دونوں مل کر اللہ کے گھر جاٸیں حج کی سعادت حاصل کریں…مانا کے اٍس بار حالات ساز گار نہیں ہیں۔
اللہ نے چاہا تو آئندہ سال درمیان میں ہی اِسماعیل صاحب بیٹے کی بات کاٹتے ہوئے پیار سے گویا ہوۓ- بیٹے آٸندہ سال کی کس کو خبر- واللہ اعلم بالصواب- ماسوا اُس ذاتِ پاک کے کوٸی نہیں جانتا کہ کب اور کہاں کیا ہونے والا ہے…..کیا کسی کو یہ خبر تھی کہ ایک نادیدہ جرثومہ کی وجہہ سے دنیا بھر میں اِس طرح کہرام مچ جاٸیگا – اور لاکھوں لوگ اِس کورونا واٸرس نامی وبا کاشکار ہوجاٸیں گے اور لقمہِ اجل بن جاٸیں گے ساری دنیا میں ایسا قہر برپا ہوگا…  ہم  سبھی دیکھ رہے ہیں کیسے عبرتناک حالات ہیں۔

خدا نے اِس دنیا پر کیسا قہر نازل فرمایا ہے….. چاروں اور خوفناک سنّاٹے چھاۓ ہوۓ ہیں ہوکا سا عالم ہے سبھی اِن حالات سے متاثر ہیں چاہے وہ تاجر ہوں کہ مزدور یا نوکری پیشہ لوگ ….ایسا لگتا ہے اِس بیماری سے زیادہ اِس کا خوف ہی لوگوں کی جان نہ لے لے… غریب اور مفلس توبھوک مری سے ہی مرجاٸینگے……سبھی خاموش بیٹھے اُن کی زبانی اِس نمایاں حقیقت کو بغور سُن رہے تھے….وہ کہنے لگے ہمارے اللہ کےمحبوب پیارے نبی صلی اللہ علیہ وصلم کا فرمان ہے”  تم  اہلِ زمین پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم فرماۓ گا“۔

حُقوق العباد بھی تو ہمارا اولین فرض ہے:

یہ صبر کا وقت ہے اور آزمائشوں کی گھڑی ہے، یہ ہمارے عمل کا وقت ہے اللہ نےہمیں ایک موقع عطا فرمایا ہے اِس کسمپُرسی کے عالم میں جہاں تک ہم سے ہو سکے ہم ضرورت مندوں، بے بسوں اور مفلسوں کی امداد کریں گے…. اور اِس کارِخیر میں آپ سب کو میرا ساتھ دینا ہوگا یہ جملہ ادا کرتے ہوۓ وہ بڑی چاہت کے ساتھ اپنی بیوی کے چہرے کو تکنے لگے….
محوِ حیرت اِن تمام باتوں کو سُنتے ہوۓ اپنے نیک شوہر کے نیک خیالات پر بیگم کی آنکھیں فخر اور خوشی کے ملے جُلے جذبات سے نمناک ہوگیٸں اور اُن کے ہونٹوں پر رینگتی ہوٸی خوشگوار مسکراہٹ  سے ایسا لگ رہا تھا گویا اُنہوں نے صدق دل سے حامی بھر لی ہو۔

دونوں میاں بیوی کے بڑے ارمان سے فریضہِ حج پر جانے کے لۓ جمع کۓ ہوۓ روپیۓ آج حُقوق العباد میں خرچ کرنے کے لئے راضی برضا استعمال ہونےجا رہے تھے۔

سبحان اللہ فوراً باپ بیٹے دونوں فراخ دِلی کے ساتھ اپنی جمع پونجی لے کر نکل پڑے  ڈھیر سارا راشن لیتے ہوۓ  اور بھی آرڈر کی لِسٹ دوکانداروں کے ہاتھ تھما آۓ….یوں ہی دو چار دن بہت ساری خریداری کی گٸی- جسے گھر کےسارے لوگ بیٹھ کر اپنے ہاتھوں سے راشن کِٹس تیار کۓ…..باپ بیٹے دونوں مل کر شہر بھر میں جہاں جہاں ضروت مند غریب و بے بس خصوصاً مزدوری کرنے والے روزانہ اپنی دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے والے مُفلس ونادار مُستحق لوگوں تک بِلا تفریق مذہب وملت کے خود ہی لے جا کر پہچانے کی بھرپور کوششیں کرتے رہے۔

چار پانچ دنوں میں یہ کام سر انجام دینےکے بعد جیسے اُن کی جان میں جان آٸی اُنہیں اِس کارِ خیر کو انجام دیتے ہوۓ دیکھ کر سبھی نےچین کی سانس لی….. لاک ڈاٶن کے شروع ہونے سے لیکر اب  تک بے چینی کے عالم میں مُبتلا رہنے والے اِسماعیل صاحب آج مُطمٸن سے اپنی خواب گاہ میں آرام فرما رہے تھے۔

اُنہیں یوں سوتے ہوۓ دیکھکر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اُن کی برسوں کی دِلی آرزو پوری ہو گٸ ہو-اُنہوں نے اپنی ہی پناہ گاہ میں فریضہِ حج ادا کرلیا ہو….اور نیند کی آغوش میں مُسکراتے ہوۓ اُن کے چہرے کو دیکھکر ایسا لگنے لگا جیسے آسمان پر فرشتے بھی مُسکراتے ہوۓ بارگاہِ الٰہی میں اُن کے حق میں دُعا گو ہوں!