کنکئی ندی نے مچائی تباہی،ہزاروں گھروں کانام ونشان نہیں

49

(پورنیہ) 10/جولائی{خالدانورپورنوی}نوائےملت
امورودھان سبھامیں واقع، گیان ڈوب پنچایت کے سرجاپورگاؤں کے لوگ سیلاب سے بر طرح متاثر ہیں،پچاسوں گھروں کا نام ونشان نہیں ہے،کنکئی ندی نے ایسی تباہی مچائی کہ چین وسکون کی زندگی گذارنے والے لوگ آج سڑکوں پر اپنی زندگی جینے پر مجبورہیں،جہاں پر لوگ آبادتھے،وہاں ندی نے اپناقبضہ جمالیاہے،ایسالگتاہے کہ وہاں کبھی لوگ آبادہی نہیں تھے،افسوس کی بات یہ ہے کہ بہارکی موجودہ سرکارکی طرف سے اب تک سیلاب متاثرین کوکوئی مددنہیں مل سکی ہے،

ان خیالات کا اظہارجمعیۃ علماء بہارکی طرف سے حالات کاجائزہ لینے کے لئے پہونچے معروف صحافی خالدانورپورنوی ناظم شعبہ تنظیم جمعیۃ علماء بہارنے کیا،واضح رہے کہ جمعیۃ علماء بہارکے صدرمحترم جناب مفتی جاویداقبال قاسمی صاحب،اور جنرل سکریٹری جناب مولانامحمدناظم صاحب کی ہدایت پرسیلاب کاجائزہ لینے کے لئے آج ایک وفد کے ساتھ جناب مفتی خالدانورپورنوی سرجاپورگاؤں پہونچے،اس وفدمیں جمعیۃ علماء پورنیہ کے جنرل سکریٹری جناب مولاناابوصالح صاحب، مفتی تنظیم مظاہری بھی موجودتھے،

جبکہ اس سے قبل اس وفدنے گیان ڈوب پنچایت میں واقع سملباڑی نگرا ٹولہ کا بھی دورہ کیاتھا،جس میں سوسے زائدگھرانہ سیلاب سے بری طرح متاثر ہوچکاہے،دوسے تین کیلومیٹرتک آبادبستی کا آج نام ونشان نہیں ہے،چاروں طرف سیلاب ہی سیلاب کا روح فرسامنظر،روڈ کے دونوں طرف انسانوں اور جانوروں کابسیرا،نہ کوئی چھت،کھلے آسمان زندگی جینے پر مجبور،

بوڑھے،بزرگوں،نوجوان دوستوں اور اپنے عزیزبچوں کے چہرہ پرمایوسی،اورباربار ایک ہی شکایت کہ نہ ہمارے ایم پی صاحب نے پوچھااور ایم ایل اے صاحب نے،اور نہ اب تک سرکارکی طرف سے کوئی مددہوسکی،اورنہ ہی کسی نے مددکے لئے ہاتھ آگے بڑھایا۔یہاں ایک مسجدبھی ندی میں بہہ چکی ہے،سرجاپورگاؤں کا بھی یہی حال ہے،سروے کے مطابق یہاں پر 29گھروں کو ندی نے اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے،دوسرے لوگوں پر بھی خطرات منڈلارہے ہیں،اگر سرکارنے اس طرف توجہ نہیں دیاتومزیدتباہی کے امکانات ہیں، جمعیۃ علماء بہارنے بہارکی موجودہ حکومت،پورنیہ ضلع کے ڈی ایم سمیت تمام افسران سے مطالبہ کیاہے کہ سیلاب متاثرین کو بہتر سے معاوضہ دلائیں تاکہ ان کی زندگی بحال ہوسکے۔