مفتی محمودزبیر قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھراپردیش کی پریس نوٹ کے مطابق چیف منسٹر کے سی آر نے مساجد کے سلسلہ میں جومبہم بیان جاری کیا ہے اس مسلمانوں میں الجھن ہے ،انہوں نے کہا کہ مساجد کی زمینیں اللہ کے لئے وقف ہوتی ہیں اور وقف کا شرعی اصول یہ ہے کہ جو جگہ ایک دفعہ مسجد کے لئے وقف کردی جاتی ہے وہ تاقیامت مسجد کی ہی جگہ شمار ہوتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ مسجد سکریٹریٹ جو 667گز پر مشتمل تھی اور مسجد ہاشمی جو 67گز پر مشتمل تھی ، ان دومساجد کی زمین فی الفور حد بندی کرتے ہوئے وقف بورڈکے حوالے کردی جائے ، انہوں نے کہا کہ کے سی آر صاحب نے مسجد بنانے کا تووعدہ کیا ہے لیکن مساجد اسی جگہ بنائی جائیں گی یا نہیں اس سلسلہ میں ان کی خاموشی مسلمانوں کو بے چین کررہی ہے ،اس موقع پر مفتی غیاث الدین رحمانی قاسمی صدرجمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھراپردیش نے کہاکہ ٹی آر ایس میں موجود مسلم قائدین بالخصوص اس سلسلہ میں فکر فرمائیں اور چیف منسٹرسے اس بات کا تیقن حاصل کرتے ہوئے فی الفور زمین وقف بور ڈ کے حوالے اور تعمیر مساجد کا جی او جاری کیا جائے۔

 

انہون نے کہا کہ اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء خود ان مساجد کی دوبارہ تعمیر کی پیش کش کرتی ہے ،انہوں نے کہا کہ اچانک ان مساجد کو شہید کردیا جانایہ مسلمانوں کے لئے انتہائی تکلیف کا باعث ہے ،مسلمان ان اندوہناک خبر وںکے صدمے سے اب تک باہر نہیں آپائے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ان مساجد میں موجو جائے نماز یں ، قرآن اور اسلام کی مقدس چیزیں ابھی تک حاصل نہیں ہوئی ہیں ،یہ وہ چیزیں جو مسلمانوں کو پریشان کی ہوئی ہیں ،انہوں نے کہا جمعیۃ علماء نے پہلے ہی دن اس بات کا مطالبہ کیا تھا کہ اگرچیف منسٹر اس خصوص میں سنجیدہ ہیں تو فی الفورتعمیر مساجدکا جی او جاری کرے ، انہوں نے کہا جمعیۃ علماء پھر اسی مطالبہ کو دہراتے ہوئے مسلمانو ں کے اطمینان کے لئے یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ مساجد کی ان اراضی کو فی الفور حد بندی کے ساتھ وقف بورڈ کے حوالے کیا جائے ۔