نیا سال خوشی یا غم؟ تحریر از بوحمزہ محمد عمران مدنی

22

پیارے دوستوں !نئے سال کی آمد پر خوشی منانا جائز ہے لیکن اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے جو بھی کام کیا جاتا ہے وہ یقینی طور پرگناہ و معصیت ہوتا ہےلیکن معاذ اللہ اس سے قطعِ نظر آج مسلمان بھی زور وشور سے نئے سال کی آمد پرکئی گناہوں کا ارتکاب کرتے ہوئے جشن مناتے ہیں،یہ بات باعثِ حیرت ہے ؟ کیا ہم اس بات کو نہیں جانتے کہ یہ جونیا سال آیا ہے اس کی آمد پرہماری زندگی کا ایک سال کم ہوگیا ہے ؟ زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک بیش قیمت نعمت ہے اور نعمت کے کم ہونے پر جشن نہیں منایا جاتا؛ بلکہ افسوس کیا جاتاہے،استغفار کیا جاتا ہے۔حضرت عبد اللہ ابن مسعودفرماتے ہیں کہ میں کسی چیز پر اتنا نادم وشرمندہ نہیں ہوا جتنا اس دن کے گزرنے پرہوتا ہوں جس کا سورج غروب ہوگیا جس میں میرا ایک دن کم ہوگیا اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہوسکا۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ نئے سال کی خوشی مناتے ہوئےلوگ اللہ پاک کے احکامات کو فراموش کو کردیتے ہیں اور بالخصوص اس

NEW YEAR NIGHTمیں کئی گناہ کے کام کیے جاتے ہیں ،جوکہ کسی ذی شعور پر مخفی نہیں لیکن فقط باضمیر لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے ہم ان میں سے چند امور کو ذکرکرتےہیں :

آتش بازی، ہوائی فائرنگ.اللہ پاک فرماتا ہے:فضول خرچ نہ کرو!فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے ربّ کا بڑاا ناشکرا ہے ۔یقیناً یہ عمل(آتش بازی، ہوائی فائرنگ) اپنے مال کو اپنے ہاتھ سے آگ لگانے کے مترادف ہے۔ بلا مبالغہ کڑوڑہا کڑوڑ روپے ان لغو کاموں میں برباد کردیے جاتے ہیں۔ نیز یہ آتش بازی، ہوائی فائرنگ عام لوگوں کی جانوں سے کھیلنا ہے۔ ہرسال کتنے لوگ اس آتش بازی کے نتیجے میں آگ لگنے اور ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوتے اور کئی لوگ موت کا شکار ہوتے ہیں،یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔رسول اللہ ﷺ تو فرماتے ہیں : (کامل) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے ۔لیکن ہمارا حال کیا ہے ؟

اس عمل سے یقیناً کئی لوگوں کو ایذاء و تکلیف پہنچتی ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ تو فرماتے ہیں :جس نے کسی مسلمان کو ایذاء دی اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ کو ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی ۔

شراب نوشی:آج یار لوگ اس خوشی کو شراب پی کرمناتے ہیں ،سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی خوشیوں کو دوبالا کررہے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا ہے ، حدیث کے مطابق اللہ تعالی شراب نوشی کرنے والے پر ایسا غضب فرمائے گاکہ شراب پینے والوں کو جہنمیوں کا پیپ پینے کے لیے دے گا۔

ناچ گانوں کے خصوصی فنکشنز کا اہتمام ،مردوں اور عورتوں کامخلوط اجتماع :شرم وحیا اسلام کا اخلاق ہے ۔ مسلمانوں کا زیور ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی عظیم سنت ہے ۔اس شرم وحیا کو بالائے طاق رکھ کر ،اس عظیم سنت سے منہ موڑتے ہوئے ناچ گانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :گانا دل میں نفاق کو یوں اُگاتا ہے جیسا کہ پانی کھیتی کواُگاتا ہے۔حدیث پاک میں نعمت کے وقت باجے بجانے سے جو آواز پیدا ہوتی ہےاسے دنیا اور آخرت میں ملعون قرار دیا ہے۔اللہ پاک قرآن میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو حکم دے رہا ہے کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھو اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو!خاص مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار غیر مردوں کو نہ دکھائیں ، مگرہمارے بھائی بہنوں کا کیا حا ل ہے ،وہ محتاجِ بیان نہیں ۔

بغیرسلنسر کی موٹر سائیکل اور گاڑیاں لے کرنکلنا:یار لوگ بغیرسلنسر کی موٹر سائیکل اور گاڑیاں لے کرنکلتے ہیں،آسمان سر پر اٹھاتے ہیں ،وہ طوفانِ بدتمیزی ہوتا ہے کہ الامان ! ہر ایک کا بالخصوص مریضوں ، بچوں ،بیماروں کاسکون برباد کیا جاتاہے،یہ شور وغُل کیا خوشی منانے کا انداز ہے ؟اللہ پاک توانسانوں کے بلا ضرورت چیخ چیخ کر بات کرنے کو بھی پسند نہیں فرماتا ،قرآن پاک میں ہے: اور اپنی آواز کو کچھ نیچی رکھ کہ سب آوازوں میں سے سے زیادہ بری آواز گدھے کے رینکنے کی ہے ۔ صدرالافاضل زیرِ آیت لکھتے ہیں: مدّعیٰ یہ ہے کہ شور مچانا اور آواز بلند کرنا مکروہ و ناپسندیدہ ہے اور اس میں کچھ فضیلت نہیں ہے ، گدھے کی آواز باوجود بلند ہونے کے مکروہ اور وحشت انگیز ہے ۔ نبی کریم ﷺ کو نرم آواز سے کلام کرنا پسند تھا اور سخت آواز سے بولنے کو ناپسند رکھتے تھے ۔تو کیا یہ آوازیں اللہ پاک کو ، رسول اللہ ﷺ کو پسند ہوں گی؟ ہرگز نہیں ۔اور ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ بغیرسلنسر کی موٹر سائیکل اور گاڑی چلانا یہ ملکی قانون کے اعتبار سے بھی جرم ہے تو ہر سمجھدار شخص کو اس کام سے بچنا چاہیے جواس کی دنیا اور آخرت کے لیے نقصان دہ ہو ۔

نئے سال کی آمد پر ہم مسلمان کیا کریں؟

نئے سال کی آمد پر ہم مسلمانوں کو دو کام خصوصا کر نے چاہئیں :(۱)گزشتہ سال کیسا گزرا ؟گہرائی کے ساتھ اس کا تجزیہ کرنا ۔ (۲) آنے والے سال میں ہمیں کیا کرناہے؟اس کی منصوبہ بندی کرنا ۔یعنی دینی ، دنیوی دونوں اعتبارات سے اپنا محاسبہ کرنا ، ماضی کے نیک اعمال پر اللہ پاک کا شکر کرنا ،مزید توفیق کی دعا کرنا ۔اور کوتاہیوں ، غلطیوں پر اللہ پاک سے معافی مانگنا،اور نیکی و بھلائی کی توفیق مانگنا۔

المختصر عبادات، معاملات، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے حوالے سے خوب غور و فکر کرنا کہ کہاں ہم سے غلطی ہوئی اور کہاں ہم درستگی کو پہنچے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حتی الامکان اپنی غلطیوں ،کوتاہیوں کا تدارک کرنا ۔

الغرض اس نئے سال کی آمد پر ہمیں مکمل دیانت داری سے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اوراچھے دینی اور دنیوی مستقبل کے لیے لائحہ عمل بنانا چاہیے۔اللہ پاک توفیق دے ! اور حقیقت یہی ہے کہ نیکی کرنے کی اور برائی سے بچنے کی قوت و طاقت نہیں مگر اللہ ہی کی طرف سے جو بڑی عظمتوں والا ہے ۔