نئے سال کا پیغام امت مسلمہ کے نام…

55

اللہ تبارک و تعالی کا دین اور اسکے احکامات قرآن کریم اور سنت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شکل میں مسلمانوں کو عطا ہوئے اب ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی انہیں شریعت اسلامی کے مطابق استوار کرے کیونکہ یہ شریعت آخری شریعت ہے اور قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے یہی شریعت راہنمائی اور ہدایت کا ذریعہ ہے ۔
وقت کی قدر کریں ۔
اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں اور آپ کو جو زندگی عطا فرمائی ہے اس کا ایک ایک لمحہ بڑی عظیم دولت ہے ایک ایک لمحہ اس کا قیمتی ہے کچھ پتہ نہیں کب یہ زندگی چھین جائے اور کب ختم ہو جائے اور یہ اس لیے ملی ہے تاکہ انسان اس زندگی کے اندر اپنی آخرت کی بہتری کا سامان کرے جس انسان کے اندر ذرا بھی عقل ہوگی وہ اپنی زندگی کے لمحات کو اور اس قیمتی دولت کو اصل مقصد کے حاصل کرنے کے لئے خرچ کرے گا اور بے کار اور بے مصرف کاموں میں خرچ کرنے سے بچے گا۔
یہ جو اللہ تعالی نے نظام بنایا ہے دن کی اور اور رات کا ایک دن جاتا ہے رات آتی ہے پھر رات جاتی ہے دوسرا دن نکلتا ہے اسی طرح یہ جو نظام بنایا ہے کہ ایک ہفتہ الگ اکائی رکھتا ہے ہفتے کا کوئی اختتام ہوتا ہے کوئی آغاز ہوتا ہے ایک ہفتہ نکلتا ہے ایک نیا ہفتہ شروع ہوتا ہے اور اسی طرح جو اللہ تعالی نے مہینوں کے آنے جانے کا نظام بنایا اس سے آگے بڑھ کر اللہ تعالٰی نے زمانوں کو سالوں میں تقسیم کیا ایک سال گزرتا ہے اور ایک نیا سال آتا ہے اس کی بہت سی مصلحتیں ہیں ایک مصلحت اس میں یہ بھی ہے کہ انسان صبح سے شام تک کے کاموں کا جائزہ لےحضرت حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ہر شخص اپنے صبح سے لے کر شام تک کی زندگی کا جائزہ لے کہ میں کیا کیا کرتا ہوں؟ کتنے فرائض و واجبات میں ادا کرتا ہوں؟ کتنی سنتیں ترک کرتا ہوں؟ کتنے نیک اعمال ایسے ہیں جو میں نہیں کرتا؟ اور کتنی برائیاں کتنی غلطیاں اور کتنے گناہ ایسے ہیں جو میں کرتا ہوں؟ ان سب کی ایک فہرست بنا ؤ پھر اس فہرست میں غور کر کے دیکھو کہ کتنے گناہ ایسے ہیں جو کسی تکلیف کے بغیر فوراً چھوڑ سکتے ہو ان کو تو فورا چھوڑ دو اور جن گناہوں کے چھوڑنے میں تھوڑا سا وقت درکار ہے ان کو چھوڑنے کے لئے کوشش شروع کر دو اور اللہ تعالی سے مدد مانگتے رہو ۔
خالق کائنات نے دنیا کے نظام کو وقت کے ساتھ مقید کر دیا ہے۔
اللہ جل جلالہٗ نے فرمایا قسم ہے زمانہ کی کہ جس کے تغیرات موجب عبرت ہیں کہیں رنج کہیں خوشی کہیں ثروت کہیں غربت کہیں صحت کہیں بیماری کہ انسان اپنی عزیز عمر کو ضائع کر کے بڑے خسارہ میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق بات کہنے کی اور حق پر قائم رہنے کی وصیت اور تاکید کرتے رہے اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کرتے رہے جس میں طاعات پر اہتمام بھی داخل ہے اور شہوتوں اور ناجائز امور سے نفس کو روکنا بھی داخل ہے اور مصائب اور زمانہ کے حوادث پر صبر کرنا بھی داخل ہے۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن آدمی کے دونوں قدم اس وقت تک محاسبہ کی جگہ سے نہیں ہٹ سکتے جب تک پانچ چیزوں کا مطالبہ نہ ہوجائے اور ان کا معقول جواب نہ ملے ۔
1, اپنی عمر کس کام میں خرچ کی ۔
2, اپنی جوانی کس چیز میں خرچ کی ۔
3, مال کہاں سے کمایا ۔
4, مال کہاں خرچ کیا ۔
5, اپنے علم میں کیا عمل کیا ۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر طریقہ سے قیامت کے محاسبوں کی فہرست شمار کر دی اور ان میں سے ہر ہر چیز کے متعلق دوسری احادیث میں مختلف عنوانات سے ان پر تنبیہ فرمائی گئی ہے ۔
سب سے اول مطالبہ اور جواب طلب چیز یہ ہے کہ اپنی عمر جس کا ہر سانس انتہائی قیمتی سرمایہ ہے کس چیز میں خرچ کی ہم لوگ کیوں پیدا کیے گئے ہماری زندگی کسی مصلحت کے لئے ہے کسی کام کے لئے ہے یا ایک بیکار چیز پیدا کی گئی حق تعالیٰ شانہٗ نے خود اس پر تنبیہ
فرمائی ہے۔افحسبتم انما خلقناکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون تو کیا تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ہم نے تم کو یوں ہی بیکار فضول پیدا کیا ہے اور تم نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ تم ہماری طرف نہیں لائے جاؤ گے اور تمہیں اپنی زندگی کا حساب دینا نہیں ہوگا اور پھر اتنا ہی نہیں بلکہ دوسری جگہ حق تعالیٰ شانہٗ نے مقصد زندگی بھی خود ہی ارشاد فرما دیا وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ ایسی حالت میں ہر شخص کو اپنی زندگی کے پورے اوقات کا جائزہ لینا چاہئے کہ وہ اپنے قیمتی اوقات کا کس قدر حصہ تو اس مقصد میں خرچ کرتا ہے جس کام کے لئے وہ پیدا کیا گیا اور کتنا حصہ اپنی ضروریات تفریحات اور غیر متعلق مشاغل میں خرچ کرتا ہے ۔
مطالبہ کی دوسری چیز حدیث میں یہ ارشاد فرمائی گئی کہ جوانی کی قوت کس چیز میں خرچ کی گئی کیا اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کے کاموں میں اس کی عبادت میں مظلوموں کی حمایت میں ضعیفوں اور اپاہجوں کی اعانت میں ۔ یا فسق و فجور میں عیاشی اور آوارگی میں بے بسوں پر ظلم کرنے میں ناحق کی مدد کرنے میں ناپاک دنیا کے کمانے میں اور دین و دنیا دونوں جگہ کا م نہ آنے والے فضول مشغلوں میں ۔
اس کا جواب ایسی عدالت میں دینا ہے جہاں نہ تو کوئی وکالت چل سکتی ہے نہ جھوٹ فریب اور لسانی کام آسکتی ہے جہاں کی خفیہ پولیس ہر وقت ہر آن آدمی کے ساتھ رہتی ہے اور یہی نہیں بلکہ خود آدمی کے وہ اعضاء جن سے یہ حرکات کی ہیں وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے اور جرائم کا اقرار کریں گے ۔
تیسری چیز جو حدیث میں ذکر کی گئی جس کے جواب کے بغیر قیامت میں حساب کی جگہ سے ٹلنا نہ ہو سکے گا وہ یہ ہے کہ مال جو حاصل کیا کس ذریعہ سے حاصل کیا جائز تھا یا ناجائز تھا ۔
چوتھا مطالبہ حدیث میں یہ ہے کہ مال کو کہاں خرچ کیا جائز چیزوں میں خرچ کیا ہے یا نا جائز امور میں خرچ کیا ہے اور اپنی دولت میں سے آخرت کے لئے کیا جمع کیا ہے تم نے اخلاص کے ساتھ اگر اپنے مال میں سے ایک کھجور بھی خرچ کی ہے ہم نے اس کو بڑھا کر پہاڑ کے برابر کردیا ہے اور یہ بھی سوال ہوگا کہ تم نے اس مال کو ناجائز چیزوں میں کیوں خرچ کیا فضول خرچی کیوں کی اس طرح ہر انداز سے سوال ہوگا ۔
پانچواں مطالبہ حدیث میں جس کا قیامت کے میدان میں جواب دینا ہوگا یہ ہے کہ جو علم حق تعالیٰ شانہٗ نے تمہیں عطا کیا تھا اس پر کس حد تک عمل کیا کسی جرم کا معلوم نہ ہونا کوئی عذر نہیں قانون سے ناواقفیت کسی عدالت میں بھی معتبر نہیں تو اس کا معلوم کرنا اپنا فریضہ ہے اور یہ بات کہ اللہ کا حکم معلوم نہیں تھا مستقل جرم اور مستقل گناہ ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر مسلمان پر مذہبی علم سیکھنا فرض ہے لیکن یہ بھی ظاہر ہے کہ علم کے بعد کسی جرم کا کرنا زیادہ سخت ہےاپنے علم سے ایک دوسرے کو نصیحت کرتے رہا کرو علم میں خیانت مال میں خیانت سے زیادہ سخت ہے اور اللہ تعالیٰ شانہٗ کے یہاں اس کا مطالبہ ہوگا۔
یہ پانچ سوالات ہیں جب تک ان تمام سوالات کے جوابات نہ دے دے گا اپنی جگہ سے ہلنے کی بھی اجازت نہ ہو گی اللہ تبارک و تعالی ہم سب کے ساتھ بغیر سوال و جواب کے چشم پوشی کا معاملہ فرمائے ہمارے اعمال تو ایسے نہیں جو دربار عالی میں پیش ہونے کے لائق ہوں اگر چشم پوشی کا معاملہ نہ ہوا تو خیر نہیں بس اس کی بےپناہ رحمت سے یہی امید ہے کہ ہم سب کو بغیر حساب و کتاب کے جنت نصیب فرمائے گا ۔
ہمارا سب سے بڑا دشمن ۔
شیطان ہمارا اتنا بڑا دشمن ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں وضاحت کے ساتھ بتا دیا ان الشیطان لکم عدوا فاتخذوہ عدوا بےشک شیطان تمہارا دشمن ہے پس تم بھی اسے دشمن بنا کے رکھو اور جو غفلت کی وجہ سے شیطان کے چکر میں آ گئے ان کو تنبیہ فرمائی الم اعھد الیکم ان لا تعبدوا الشیطان انہ لکم عدو مبین ۔ اے بنی آدم کیا ہم نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی پیروی نہیں کرو گے یہ تمہارا ظاہر باہر دشمن ہے اور تم صرف میری عبادت کرو گے ھذا صراط مستقیم یہ ہے سیدھا راستہ۔ اللہ رب العزت کی بات ماننے والے حزب الرحمن ہیں اور شیطان کی پیروی کرنے والے حزب الشیطان ہیں ۔
شیطان کا تسلط ۔
جو آدمی اللہ رب العزت کی یاد سے آنکھیں چرا لیتا ہے اللہ رب العزت اس پر شیطان کو مسلط کر دیتے ہیں اس سے بڑی سزا کوئی نہیں ہوسکتی یوں سمجھئے کہ اس کو دشمن کے حوالے کر دیتے ہیں جیسے ایک آدمی اگر کسی کے دشمن سے راہ و رسم رکھے تو اس کو دشمن کے حوالے کر دیتا ہے کہ تو جان اور تیرا کام جانے چنانچہ قرآن عظیم الشان میں اللہ نے فرمایا اور جو رحمان کی یاد سے آنکھ چراۓ ہم اس پر شیطان کو مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے قرآن مجید سے معلوم ہوا کہ ایسا بندہ شیطان کے پنجے میں پھنس جاتا ہے اور اس کا پیروکار بن جاتا ہے ۔
دنیا میں دو قسم کے انسان ہیں ایک وہ جو رب کو رب مانتے ہیں اور رب کی سنتے ہیں۔ دوسرے وہ جو من کی سنتے ہیں۔ رب کی سننے والے رحمانی کہلاتے ہیں اور من کی سننے والے شیطانی کہلاتے ہیں بے مقصد چیزوں میں پڑجانا شیطانی لوگوں کا کام ہوتا ہے اور مقصد کی طرف رواں دواں وہی ہوتے ہیں جو رحمان کی ا طاعت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں وہ ہر کام میں رب کی خوشنودی ملحوظ رکھتے ہیں اور آخرت کے نفع کو سامنے رکھ کر قدم بڑھاتے ہیں
یورپ کی غلامی ۔
جو لوگ یورپ کی غلامی میں مبتلا ہیں جو یورپ سے آنے والی ہر بات کو آسمانی وحی سمجھ کر سینے سے لگانے کے لئے تیار رہتے ہیں خواہ یورپ کی اتباع سے معاشرتی زندگی کا سکون تباہ ہو جائے ان کو تو بس اس کی اتباع کرنی ہے شریعت کے احکام ان کو بھاری محسوس ہوتے ہیں لیکن انگریزوں کے طور طریقے بڑے آسان نظر آتے ہیں مغرب کی آندھیوں نے ہمارے بہت سے چراغ بجھا دئیے ہیں سال کے اختتام پر نئے سال کا جشن منانے والے مقصد حیات سے غافل اور انجام سے بے خبر ہیں شیطان ان پر مسلط ہو چکا ہے اور انکے عقل کو اپنی شرارت کی رسی سے کس کر باندھ دیا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ لوگ زندگی کے قیمتی لمحات گزرنے پر جشن مناتے ہیں حالانکہ عقلمند انسان لمحات گزرنے اور قیمتی چیزوں کے ختم ہونے پر جشن منایا نہیں کرتے بلکہ جائزہ لیا کرتے ہیں مسلم نوجوان بھی اس رات کو اس طرح مناتے ہیں جیسے غیر قوم مناتے ہیں جن کے سامنے نہ جنت ہےنہ جہنم ہے نہ آخرت ہے وہ تو معذور لوگ ہیں انہیں آخرت کا علم ہی نہیں وہ تو اسی دنیا کو جنت بنانے کے چکر میں ہیں ان کی نقل میں مسلم نوجوان بھی راتوں کو اٹھ کر اور بارہ بجے کیا کیا نافرمانیاں کرتے ہیں ۔
31 دسمبر کی رات بارہ بجتے ہی آزاد خیال مغرب کے دلدادہ تہذیب جدید کے غلام اور مقصد حیات سے غافل لوگ شور مچاتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کوئی موسیقی کی آواز پر ناچتا ہے تو کوئی پٹاخے چھوڑ کر خوش ہوتا ہے تو کوئی شرافت کو بالائے طاق رکھ کر غیر محرموں کے ساتھ رقص کر تا جاتا ہے اس وقت اخلاقیات کے جنازے نکلتے دکھائی دیتے ہیں ان کی حرکتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے شیطان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے
مسلم نوجوان بھی غیروں کے دکھا دیکھی مغرب کے پیچھے دوڑ کر نہ صرف اپنے قیمتی اوقات ضائع کر رہے ہیں بلکہ اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں جو قوم زندگی کے حساب کتاب کا عقیدہ رکھتی ہے جو گزرے ہوئے اوقات پر باز پرس کئے جانے کا یقین رکھتی ہے جو ایک ایک لمحہ کو صدی سے بڑھ کر جانتی ہے اور اپنی کامیابی اور ناکامی کا زینہ اسی کو قرار دیتی ہے افسوس ہوتا ہے وہ کیسے اس چکر میں پڑ گئی وہ تو اس نبی کی امت ہے جس نے انسان کو جینا سیکھایا اور سوال و جواب کے دن سے آگاہ کیا مگر یہ بھی اسے بھلا کر ایسے جی رہے ہیں جیسے حساب دینا ہی نہیں ایسے خوشیاں منا رہے ہیں جیسے مرنا ہی نہیں اور نئے سال کی آمد پر ایسے شور مچا رہے ہیں جیسے نئے سال کا گھنٹہ بجا کر ان کی زندگی میں اضافہ کا اعلان کر دیا گیا ہو حالانکہ سال نو قیمتی زندگی کے ایک سال گزر جانے کی اطلاع دے رہا ہےہماری زندگی کا ایک سال کم ہو گیا اور ہم قبر کے اور قریب ہو گئے دنیا سے ایک سال اور دور ہوگئے موت سے ایک سال قریب ہو گئے اپنی زندگی سے ایک سال دور ہو گئے اس کے باوجودہماری زندگی عجیب بنتی جا رہی ہے کہ زبان سے ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں جبکہ اگر کوئی ہمارے عملوں کو دیکھے تو وہ ہماری من مرضی کے ہوتے ہیں ۔
اسلام دین فطرت ہے ۔
اور فطرت روح کی بالیدگی کا تقاضا کرتی ہے اور اسلام روح کی بالیدگی اور اس کی تفریح کا پورا سامان مہیا کرتا ہے اور اس کا کامل و مکمل نظام عطا کرتا ہے جب کہ اسلام کے سوا کسی مذہب میں روح کی صحیح تفریح اور بالیدگی کا فطری نظام موجود نہیں ریڈیو ٹیلی ویژن نغمے موسیقی اور دیگر خرافات جن کو سامان تفریح سمجھا جاتا ہے یہ نفس کی تفریح کا سامان ہے روح کی تفریح کا نہیں یہی وجہ ہے کہ عیسی علیہ السلام اور دیگر مقبولان الٰہی کی زندگی ان کھیل تماشوں کی تفریح سے بالکل خالی ملتی ہے اورآج بھی ان تفریحات کی طرف فساق و فجار کا رجحان ہے جو حضرات روحانیت سے آشنا اور معرفت الہی کے جام سے سرشار ہیں وہ ان چیزوں کو لہو ولعب سمجھتے ہیں اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ تفریح نفس کو موٹا اور فربہ کرکے انسان کو یاد خدا سے غافل کر دیتی ہے اس لئے اسلام عین تقاضائے فطرت کے مطابق ان کو غلط اور لائق احتراز بتلاتا ہے ۔
نسبت کی لاج رکھیں ۔
مسلمان کا ایک نام ہے یہ اللہ کو ماننے والا ہے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلنے والا ہے یہ دین دار ہے اس کا اللہ تعالی کے یہاں بھی احترام ہے اور لوگوں کے یہاں بھی اس کا ایک وقار ہے چنانچہ جب ہم کسی سے کہیں کہ ہم مسلمان ہیں تو وہ ہم سے توقعات رکھتا ہے لہٰذا اسلام اور مسلمانوں کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے اللہ تعالیٰ لہو ولعب سے بچاۓ قرآن وحدیث کے حکموں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
ایک اور اینٹ گرگئ دیوار حیات سے ۔
ناداں کہہ رہے ہیں نیا سال مبارک ۔