تاریکی سےروشنی کی جانب سفر

32

  ارریہ: روزنامہ نوائےملت
بڑی مسرت بھری خبر ہے۔آج اسٹیو امریکی سیاح ہم سبھوں کا اسلامی بھائی بن گیاہے ۔امام کعبہ شیخ عبد الرحمن سدیس کے سامنے موصوف نےکلمہ شہادت پڑھ لی ہےاور اس وقت موصوف اسلام کی آغوش  میں ہیں۔بھائی اسٹیو کا اسلام قبول کرلینا یہ توجہ خاص کا باعث بن گیاہے ،وہ اس لئےکہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی ان کے الفاظ غیر رسمی وغیر معمولی اور منفرد معلوم ہورہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ موصوف کےشکریہ کے الفاظ پردنیا کے اہل علم ودانش کےکان کھڑےہوئےہیں اوران کی جانب سبھوں کی توجہات مبذول ہورہی ہیں۔کلمہ پڑھتے ہی اس نوجواں امریکی سیاح نے یہ کہا ہےاور یہ کہتےہوئےاللہ کا شکر اداکیا ہے کہ ":دین اسلام کی حقانیت سے روشناس کرانے اور اپنا بندہ بنانے کی توفیق دینے پر اللہ کا شکر ادا کرتاہوں” ، پھر شیخ سدیس ودیگر علمائے اسلام  کاشکریہ ان الفاظ میں ادا کیا ہے کہ؛ "شیخ سدیس ودیگرعلمائے کرام کا بھی شکر گزار ہوں جن کے بغیر تاریکی سے روشنی کی جانب سفر ممکن نہ تھا ”

بھائی اسٹیو کے الفاظ وانداز ہی بتلارہے ہیں کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کی سیاحت کی ہے اور منزل تک پہونچ گئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ جب ان سے اسلام لانے کی وجہ معلوم کی گئی تو موصوف نے برجستہ یہی کہا کہ وہ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر مذہب اسلام کو اپنے گلے لگارہے ہیں ۔
اسطور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ موصوف نے سیاحتی زندگی میں ایک تاریخی سیاحت کی ہے ۔
یہ سفر کفر کی تاریکی سے شروع ہوکر اسلامی کی روشنی پر تمام ہوا ہے ۔اسلام کا انسانی دنیا پر سب سے بڑا احسان یہی ہے کہ وہ انسانوں کو انسانوں کی بندگی سے نکالتا ہے اور خدائےواحدکی بندگی وعبودیت میں ڈال دیتاہے ۔یہی فریضہ نبی آخرالزمان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اداکیا ہے اور اسی پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پوری زندگی گامزن رہی ہے ،اور یہی وہ نبی کی وراثت ہے جو علمائے کرام وعلمائے اسلام کے حوالہ کی گئی ہے ۔بھائی اسٹیوآپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے شکریہ میں اسلامی تعلیمات کا پورا خلاصہ اور نچوڑ پیش کردیا ہے، ہم نے تسلیم کیا کہ  واقعی آپ نےاسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا ہے، اللہ سے دعا ہے کہ آپ کو دین متین پر استقامت نصیب کرےاور اسلام کی دعوت واشاعت کا آپ کوذریعہ بنادے، آمین ثم آمین
حالیہ چند سالوں سے اپنے ملک میں بھی اسلامی تعلیمات کے مطالعے میں اضافہ ہوا ہے اور اس معاملے میں زیادتی بھی دیکھنے میں آرہی ہے ۔برادران وطن کی ایک تعداد شوشل میڈیا پر ہندی قرآن لے کر سامنے آرہی ہے اور کم علمی کی بنیاد پر،عربی زبان دانی سے لاعلمی کی بنیاد پر مختلف قسم کے سوالات واعتراضات کرتی نظر آتی ہے۔مذکورہ واقعہ سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ دراصل یہ سبھی سیاح ہیں ،جو اسلامی تعلیمات کی سیاحت کررہے ہیں،اے کاش انہیں بھی کوئی شیخ نصیب ہوجائے اور ان کا سفر بھی مکمل ہوجائے، اس تحریر کے ذریعے علمائے کرام کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائی جارہی ہے اورعنقریب بڑی بشارت کی امید بھی دلائی جاتی ہے کہ اسلام کو جوبھی دیکھنے آیا ہےوہ مسلمان ہوا ہے اور قرآن کو جو بھی پڑھنے کی کوشش کرتاآیا ہے تووہ قاری قرآن کہلایا ہے ،صرف اور صرف اسے ایک عدد استاد کی ضرورت ہے۔

آج شوشل میڈیا سے یہ اعلان کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ،” آئیے اور قرآن سیکھئے،” اور یہ بھی کہ ۔۔۔۔۔
"جسے کہیں قرآن وحدیث میں کوئی دقت سمجھ میں آتی ہو تو اس نمبر پر رابطہ کیجئے اور بلاکسی معاوضہ کے دقت کاحل لیجئے "۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
باری تعالٰی ہم سبھوں کواپنے دین کی اشاعت وحفاظت کا ذریعہ بنادے، آمین یا رب العالمین ۔
ہمایوں اقبال ندوی، ارریہ