نفس دودھ پیتے بچے کی طرح ہے

27

ِیہ انسان کا نفس ایک چھو ٹے بچے کی طرح ہے جو ماں کا دودھ پیتا ہے ۔اور پھر وہ بچہ دودھ پینے کا عادی بن جاتا ہے اب اگر اس سے دودھ چھڑانے کی کوشش کیجئے گا تو وہ بچہ کیاکرے گا روئےگا چلائےگا شورمچائےگا ۔
اب اگر ماں یہ سوچیں کہ دودھ چھڑانے سے بچےکو بڑی تکلیف ہو رہی ہے چلو چھوڑو اسےدودھ پینے دو اور وہ بچہ دودھ پیتا رہے اگر بچے کو اس طرح دودھ پینے کی حالت میں چھوڑدیا جائےتو نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ جوان ہو جائےگا اور اس سے دوھ نہیں چھوٹ پائے گا ۔

 

اس لئےکہ آپ اسکی تکلیف اسکی فریاد اور اسکی چیخ وپکار سے ڈرگئے جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ اس سے دودھ نہیں چھوڑا سکے اب اگر اس کے سامنے روٹی لاتے ہے تو وہ کیا کہتا ہے میں تو نہیں کھاوں گا میں تو دودھ ہی پیئوں گا لیکن دنیا میں کوئی ماں ایسی نہیں ہونگی جو یہ کہے کہ بچے کو دودھ چھڑانے سے تکلیف ہو رہی ہے اس لئے دودھ نہیں چھڑاتے ماں جانتی ہےکہ بچہ دودھ چھڑانے سے روئے گا چلا ئےگا رات کو نیند نہیں آئے گی خود بھی جگے گا ہمیں بھی جگائے گا لیکن پھر بھی دودھ چھڑاتے ہیںاس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ بچے کی بھلائی اسی میں ہے اگر آج اس کو دودھ نہ چھڑایاگیاتو ساری عمر کبھی روٹی کھانے کے لائق نہیں ہوگا ۔

علامہ بوصیر رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ انسان کا نفس بھی بچے کی مانند ہے اس کے منہ کو گناہ لگے ہیں گناہوں کا ذائقہ اور اسکی چاٹ لگی ہوئی ہے اگر تم اسکو ایسے ہی چھوڑ دیا کہ چلو کرنے دو گناہ چھڑانے سے تکلیف ہوگی تو اس کی نظر غلط جگہ پڑے گی اور اسکو ہٹانے میں بڑی تکلیف ہوگی زبان کوجھوٹ بولنےکی عادت پڑ گئی ہے اگرجھوٹ بولنا چھوڑیں گے تو بڑی تکلیف ہوگی اور اس زبان کو مجلسوں کے اندر بیٹھ کر غیبت کرنے کی عادت پڑگئی ہے اگر اس کو روکیں گے تو بڑی دقت ہو گی رشوت لینے کی عادت پڑگئی ہے اور بہت سےگناہوں کی عادت پڑگئی ہے اور اب ان عادتوں کو چھڑانے سے نفس کو تکلیف ہورہی ہے اگر نفس کی اس تکلیف سے گھبرا کر بیٹھ گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ساری عمر نہ گناہ چھوڑیں گے اور نہ قرار ملے گا لہذا اللہ کے سامنے توبہ کرے اور سکون والی زندگی گزارنے کی توفیق مانگے ۔