نشانے پر صرف مسلمان ہی کیوں؟

35

کئی مہینوں سے سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کررہی ہے کہ مسلمان جیو ہتیا کرتے ہیں ایک جاندار کو ذبح کرکے اپنے پیٹ کا لقمہ بنالیتے ہیں اس طرح کےکئی اعتراضات ہیں جن کو پڑھ کر، سن کر اور دیکھ کر ان کے نا عقلی پر حیرت ہوتی ہے۔

اس کےعلاوہ حال ہی میں بقرعید کے موقع سے بکرے کی تصویر کے ساتھ یہ پروپیگنڈہ بھی کیا گیا کہ میں جیو ہوں مانس نہیں حالانکہ آپ حضرات کو معلوم ہوگا کہ یہ ایک طرح کی سازش اور چال ہے جن سے ہم اور آپ اچھی طرح واقف ہیں حقیقتاً یہ لوگ ہماری شریعت سے واقف ہی نہیں ہیں اور اپنے عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہیں اور مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرتے ہیں۔ اصلا اسلام کو سمجھنا ہی نہیں بلکہ اسے نیست و نابود کرنا ہے۔

اگر واقعی میں قربانی جیو ہتیا ہے تو آپ بَلی کیوں دیتے ہیں چاہے وہ بکرے کی شکل میں ہے لیکن ہے تو جانور ہی ۔

ابھی کچھ روز قبل ایک اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ اڑیسہ کے کٹک ضلع میں مندر کے ایک پجاری نے کرونا وائرس کو بھگانے کیلئے ایک شخص کا گلہ کاٹ کر مندر میں چڑھاوا چڑھایا ۔ اگر آپ ان سے جواب طلب کریں تو وہ جواب دینے کے بجائے الٹا آپ ہی پر سوال کے بوچھاڑ کر دیتے ہیں یا نہیں تو کسی طرح کا کوئی کیس آپ کے خلاف بناکر آپ کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیں گے جہاں نکلنا تو دور موت آنے پر بھی جنازہ ہوگیا تو شکریہ اور دلچسپ بات تو یہ ہیکہ موجودہ دور میں کورونا وائرس کسی کو ٹھکانے لگانے کیلئے ایک اچھا آپشن ہے۔

میں گزارش کرتا ہوں ایسے لوگوں سے جو قربانی کو جیو ہتیا کا نام دیتے ہیں اگر ذبح کرنا جیو ہتیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ شکاری جانور اور گوشت خور جانوروں کو کبھی حرام ہی نہیں کرتا بلکہ آزادی کے ساتھ ان جانوروں کو حلال کرتا۔

میری اپیل ہے اپنے معزز قارئین سے کہ جہاں تک ہو سکے آپ سوشل میڈیا یا کسی اور ٹیکنا لوجی کے ذریعہ اپنی بات کو پہنچائیں تاکہ اسلام اور مسلمانوں کی صحیح ترجمانی ہوسکے۔