اب آگے بڑھیں

28

10 اگست 2020
‌جو ہونا تھا ہوگیا.. اچھا یا برا اب آگے بڑھیں.. یہ رویہ بھی بظاہر سنجیدہ لیکن لاپرواہی پر مبنی ہے.. جو ہوا اس کو قبول کرلینا چاہئے.. اسی کو حقیقت پسندی کہتے ہیں.. لیکن کیا ہوا.. کیسے ہوا.. ہماری کوتاہیاں کیا رہیں.. صورت حال سے نمٹنے میں لائحہ عمل کیسا رہا.. ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنا خود احتسابی کہلاتی ہے، جو ہر صاحب عقل کے لئے ضروری ہے اور اہل ایمان کے لئے زیادہ ضروری ہے.. کیوں کہ ان کو محض اپنے لوگوں کو جواب نہیں دینا اللہ کو بھی جواب دینا ہے.. اگر کوئی ان سوالوں کے جواب آپ کے سامنے رکھے تو یہ نری تنقید نہیں بلکہ اس کو تجزیہ سمجھا جانا چاہئے.. جس میں غلطی کا امکان بھی رہتا ہے، اور اٹھائے گئے نکات پر وضاحت سے غلطی کی اصلاح یا غلط فہمی کا ازالہ ممکن ہے..

لیکن "اکابر” کی رٹ اور” بڑوں” کا الاپ ایک عجیب طرح کی غلامی ہے، جس میں سوائے ہمارے کوئی مبتلا نہیں.. پہلے تو ہمارے یہاں "اکابر” بنتے نہیں، جن کو بننے میں زندگیاں صرف ہوتی ہیں، مشقتیں ریاضتیں، تنگ دستی، ایثار اور پھر بے نفسی ہوا کرتی ہے، بلکہ” اکابر "بنے بنائے پیدا ہوتے ہیں اور غلاموں کی قسمت ان کے ہاتھوں پر بیعت ہوکر اپنی گردنوں پر ان کے پائے نخوت رکھواکر دنیا کی سرفرازی اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنا ہے.. اس وقت جتنے اکابر ہیں.. ان سب کے باپ، چچا، تایا اورماموں بھی اکابر تھے.. خصوصاً طبقہ علماء اور اہل مدارس میں.. تنظیموں، بورڈوں میں بھی یہی حال ہے، دو چار محنتی اور کارآمد لوگوں کو بھی لے لیا جاتا ہے، تاکہ کاروبار قیادت چلتا رہے.. اور ان کو قیادت کے بجائے منشی گیری میں لگایا جاتا ہے، اس میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ غیر اکابر زادہ کم ازکم ایک پشت پہلے سے خادم ہو یعنی کوئی آزمودہ وفادار کا زادہ ہو یا اپنے ہی کسی ملازم کی آل اولاد ہو تاکہ سرتابی کی جرأت کا امکان نہ ہو.. کہیں کوئی تازگی نہیں ملتی.. مسلمان تنظیموں اور بورڈوں کی ممبری تقریباً تاحیات ہے، اور وفات سے پہلے جگہ چھوڑنے یا چھڑانے کا تصور نہیں.. عموماً بیٹا اسی منصب کے لئے اہل امیدوار ہوتا جس پر اس کا پدر کبیر براجمان تھا… اس سلسلے میں از راہ رواداری بھی باپ کے علم کی ازبری از بس ضروری نہیں سمجھی جاتی .. ظفریاب جیلانی سے بڑا وکیل مسلمانوں میں پچھلے پچاس سال سے پیدا نہیں ہوا، جو مسلم پرسنل لا کی خدمت کرے.. اب کوئی نہیں ہوا تو کیا جا سکتا ہے.. طالع آزماؤں نے بہت بڑوں کو اس لئے بٹھا رکھا ہے کہ ان کو کھل کھیلنے میں مزاحمت کا امکان نہ رہے… میرے ایک مخلص دوست نے کہا کہ کوئی اور ہوتا تو کیا کرلیتا، میں نے کہا جب یہی ہونا تھا تو یہی لوگ کیوں؟ کچھ گناہ دوسروں کے سر بھی جانے دو اور سبک سر رہو.. صاحبزادگان کی من مانیاں عروج پر ہیں.. باہمی رابطہ، باہمی مشورہ کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی جاتی.. ہر ایک کے کئے پر دوسرا صاد کرنے پر مجبور ہے،، کیوں کہ کچھ کہنے پر پرانی نسبتیں آڑے آتی ہیں..

اور کچھ صاحبزادگان سے تو "اکابر” لرزاں ہیں، کیوں کہ ان کی بدگوئی اور دریدہ دہنی مشہور ومشہود ہے.. وہ عام پروٹوکول کا لحاظ نہیں فرماتے… بورڈ ہمارا ہے، اس کے بڑے ذمہ دار ہمارے ہیں.. جب سے آنکھ کھولی بورڈ کا لب ولہجہ جانتے پہچانتے ہیں.. شوریدہ سری ،اور بلند بانگی بورڈ کا مزاج نہیں ہے.. اگر بڑوں سے مشورے کے بعد بیان جاری ہوتا تو.. اول تو ہوتا ہی نہیں، ہوتا تو واپس نہ لینا پڑتا.. مسلمانوں کے سب سے بڑے نمایندہ ادارے کی، پڑھے لکھے لوگوں میں، سخت بے وقاری ہوئی.. لیکن آپ کبھی جان نہیں پائیں گے کہ ایسا کیوں ہوا.. خانقاہ چلانا.. اور بیس بائیس کروڑ مسلمانوں کی قیادت یکساں کام نہیں… مجھے تو حیرت ہے کہ.. علماء صلحاء دانشوروں سے امت اٹی ہے، کام کیوں نہیں بانٹا جاتا… وہی چہرے خانقاہ میں، وہی تعلیم گاہ ہیں، وہی ضرورت ہو تو سیاست کی پائیگاہ میں.. آج دنیا کی کوئی اقلیت، ہندوستان کی مسلمان اقلیت سے زیادہ خوف زدہ نہیں.. موب لنچنگ، مقدمات کی بھرمار، پولیس کی بربریت، مسلم علاقوں کی بار بار ناکہ بندی، بابری مسجد کی مندر میں تبدیلی،، اور تمام ہندو ہم وطنوں کی مندر کے معاملے میں یکجائی نے مسلمانوں میں کم حوصلگی پیدا کی ہے.. وہ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں،،.. ان شاء اللہ آیندہ کچھ تجاویز پیش کی جائیں گی..