غلبہ کا بدلتا تصور

35

ثبات ایک تغير کو ہے زمانے میں۔۔۔
سچ ہے، ہر پل رنگ بدلتی زندگی کی گوناگوں حقیقتوں میں، تبدیلی ہی ایک ایسی حقیقت ہے جو بدلتی نہیں.. باقی ہر چیز بدلتی ہے.. تبدیلی کی چال بھانپبے والے لوگ ہی دنیا میں کچھ کرجاتے ہیں.. باقی تماش بین ہوتے ہیں..

جو زندہ اس لئے رہتے ہیں کہ وہ پیدا ہوگئے ہیں.. ان کی ساری زندگی، زندہ رہنے کے جتن میں گزر جاتی ہے،، وہ پامال راستوں کے راہی اور گمنام منزلوں کے شیدائی ہوتے ہیں.. تبدیلی زندگی کی ہمزاد ہے.. اس کا منکر ذہنی تحجر (پتھر پن) کا مریض ہے.. زندگی کے تصورات بدلتے ہیں، عروج و زوال کی شکلیں بدلتی ہیں،، پستی اور غلبہ کا مفہوم بدلتا ہے. پستی کی طرف آمادگی کی شکل اور غلبہ کی صورت بدلتی رہتی ہے.. جنگ کے سامان بدلے، تیر وتفنگ بدلے، شمشیر ونیام بدلی.. لیکن سارے نامی جرنیلوں کا اتفاق ہے کہ آخری لڑائی زمین پر سپاہی لڑتا ہے.. وہ سپاہی نہیں بدلا.. ملا عمر ایک باضابطہ فوج کا سپہ سالار نہیں تھا ایک عالم تھا..

پڑھنے پڑھانے والا.. یہی بات اس نے بھی کہی تھی کہ آسمان سے جب امریکہ زمین پر اترے گا، معرکہ تب لگے گا، میدان تب سجے گا، اور اس زمین پر ہم سے کوئی نہیں لڑسکتا.. بیس سال لگ گئے.. بات وہی ہوئی جو اس سرزمین شجاعت کے پوت نے کہی تھی.. اس سے پہلے ویت نام نے ایمان سے محروم ہوتے ہوئے بھی اور جانبازی کی کوئی تاریخ نہ رکھتے ہوئے بھی، یہی کچھ کیا تھا بیس سال میں امریکہ کو بیس سال چاٹنے کے لئے زخم ملے تھے اور ناک کٹی تھی.. اگر تاریخ سے سبق سیکھنا امریکہ نے سیکھا ہوتا، تو افغانوں سے دوبارہ نہ سیکھنا پڑتا.. اب جنگ غلبہ نہیں دلاتی اور اس کے نتائج زیادہ تر اس کے معلنہ اہداف سے مختلف نکلتے ہیں.. سعودی عرب نے عراق سے صدام حسین جیسے طالع آزما سے جان چھڑائی ، سیکڑوں بلین خرچ کرکے نجات پائی.. اور ایران جیسے نظریاتی، مذہبی مسلکی ملک کا کانٹا اپنے پہلو میں ہمیشہ کے لئے بولیا.. شام میں امریکی مداخلت کی علانیہ دعوت دینے والا پہلا ملک سعودی عرب تھا، اور ہوا یہ کہ شام میں اقتدار کے کسی سیٹ اپ سعودی عرب کا آیندہ کوئی کردار نہیں ہوگا، اس کے برعکس ترکی اس قضیہ کا ایک باضابطہ فریق بن چکا ہے اور اس کے بغیر آیندہ کوئی سیاسی صورت گری ممکن نہیں رہی..

غلبہ کا مفہوم بہت بدل گیا ہے.. معاشی معاہدے دفاعی معاہدوں سے زیادہ ہورہے ہیں.. دفاعی معاہدے برتر فریق کے لئے نفع کا سودا ہیں، تو معاشی معاہدے ایک طرح کی شراکت داری ہے.. ہمارا ملک اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ دفاعی معاملات میں الجھا رہا.. اور فوجی برتری کا خبط سوار کرکے علاقے کی چودھراہٹ کے خواب دیکھتا رہا، اور حریف چین معاشی منصوبوں کی توسیع کرکے ہمارے سارے پڑوسی لے گیا.. نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ، اور اب برما اور بھوٹان بھی پینگیں بڑھارہے ہیں.. حتی کہ ایران کے 400 بلین ڈالر کے سوپر میگا پروجکٹ میں افغانستان بھی استفادہ کررہا ہے. جو گوکہ ہمارا پڑوسی نہیں، لیکن پاکستان کو گھیرنے کے لئے ہم نے وہاں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے.. جو طالبان کے پاور میں آتے ہی ہوا ہوجائے گی.. جس کا عندیہ دیا جا چکا ہے.. اور اشرف غنی کا جانا ٹھہر چکا ہے…
غلبہ کا مفہوم بدل چکا ہے.. اور اس کو سب جانتے مانتے ہیں، سوائے امریکہ بہادر اور ہمارے وزیراعظم بہادر کے.. جو اپنی ہی کمزور اقلیت کے خلاف جنگ جیتنے کے عادی ہیں.. مجھے ابھی تک یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہم کسی پڑوسی ملک سے جنگ کس طرح جیت سکتے ہیں..

چین سے روایتی جنگ جیتنے کا کوئی امکان نہیں.. پاکستان سے جنگ ایٹمی ہوگی جس میں کوئی فاتح مفتوح نہیں ہوا کرتا.. اس میں دونوں ہاریں گے اور ساری دنیا ہارے گی… ہم غلبہ کے مفہوم کو زندگی کی تعمیر اور بہتر زندگی گزارنے کی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ منسلک کیوں نہیں کرتے..؟

اگر ہم تعلیم اور صحت کی سہولیات میں اضافہ کریں، اپنی آبادی کی 25٪ فیصد اقلیتوں کو تحفظ دیں، قانون کی بالادستی قائم کریں، تو نتیجتاً تیز رفتار شرح نمو حاصل ہوسکتی اور تعصب سے پاک اور مذہبی امتیاز سے دور رہ کر ہم کیوں نہیں سویڈن اور ناروے اور نیوزی لینڈ جیسے ملکوں کی مثالی خوش حالی، ہم آہنگ معاشرتی ماحول، اور احترام آدمیت کا بہتر معیار، حاصل کرسکتے….. لیکن اس سے پہلے ہمیں غلبہ کا پرانا اور فرسودہ تصور چھوڑنا پڑے گا..