بابری مسجد ایک بہانہ ہے

14

بابری مسجد کا فیصلہ ھماری کوتاھیوں کا نتیجہ ہے مسلمان ھروقت یہی کہتا ہے کہ جو عدالت کا فیصلہ ھوگا ھمیں منظور ھے آپ کو نہیں معلوم ھر شعبہ میں سنگھی ذھنیت کے لوگ موجود ہیں

مودی حکومت کے خلاف جن چار ججوں نے پریس کانفرنس کی تھی ان میں، جسٹس”گگوئی” بھی تھے ، اسپر عصمت دری کا الزام لگاکر مہرہ بنایا گیا، پھر چابک دستی سے انہیں چیف جسٹس بناکر بلیک میل کیا ،اگر تم نے آستھا کی بنیاد پر فیصلہ نہیں دیا تو تمہیں سلاخ کے پیچھے ڈال دیا جائے گا، اور یہی ھوا فیصلہ ثبوت کی بنیاد پر نہیں آستھا کی بنیاد پر دیا گیا اور مندر کا سنگِ بنیاد بھی رکھدیا گیا ، سنگھ پریوار کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ” بابری ایک بہانہ ھے اور بھی بہت نشانہ ہے

” تحریک کے ذریعے گیان واپی مسجد کے خلاف عدالت عظمیٰ میں حلف نامہ داخل کر دیا گیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ھم متحد ھوکر انہیں بچالیں ورنہ ایک ایک کر کے ھمارے مساجد کو شہید کردیا جائے گا اور ھم سوائے افسوس کے کچھ نہیں کرسکتے، مولانا ابوالکلام آزاد کی وہ تقریر اب بھی ھمارے رگ و ریشہ میں مانند خون گردش کررہی ہے ، خدا کا یہ قانون حیات ھماری تن آسانیوں کی خاطر معطل نہیں ھو سکتا ھم چلے ھیں تو ھمارے لئے بھی اسکی تمام منزلیں چشم براہ ھیں ،اور ناگزیر ہے کہ ھم ان سب میں سے گزریں ، اگر ھماری تیز رفتاری رک گئی، تو ھمیشہ رکا کرتی ھے ھمیں تیزی سے پھر روانہ ھو جانا چاہیے ،اگر ھماری حرکت میں ایک دفعہ وقفہ سا پڑگیا تو پڑا ھی کرتا ھے ھمیں ازسرنو کوچ کر دینا چاہیے،اگر ھم ایک خاص مسئلہ میں متفق نہ ھوسکے ،یا ھمارے اتحاد کے رشتہ میں ایک گرہ پڑگئی ،تو کوئی مضائقہ نہیں، ھم کیوں نہ متفق ھوجائیں ،بلاشبہ یہ ایک آزمائش ھے جو سب کی طرح ھمیں بھی پیش آگئی ھے اور اسپر اسی طرح غالب آنا چاہیے
جس طرح باھمت قومیں غالب آتی ھیں ، لیکن اس سے زیادہ نہ اس میں کوئی ھراس ھے نہ مایوسی،یہ کوئی نرالی بجلی نہیں ہے جو ھمیں پر گری ھو یہ تو اس راہ کا ایک معمولی حادثہ ھے جو ھماری طرح نہیں معلوم کتنوں کو پیش آچکا ہے، اور ھمارے بعد کتنوں کوپیش آئے گا”

راقم الحروف کو نہیں معلوم مولانا آزاد کی یہ بات بھاجپا کے قدآور لیڈروں نے جو اسوقت حاشیے پر ھیں پڑھیں ھیں یا نہیں ،مگر اسپر عمل ضرور کیا ھے ، اسی لئے ھم بے راہروی کا شکار ہیں، وہ ترقی کے منازل کو طے کررھیں ، آئیے ھم یہ عہد کرتے ہیں کہ ، مولانا آزاد کی ان باتوں پر عمل کرینگے اور اتحاد و اتفاق کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں گے ، اگر ایسا نہیں کرینگے تو تاریخ اوراق واقعات سے بھری ہوئی ہے ، جنگ احد میں نبی کی موجودگی میں صحابہ کا کیا ھوا ، یہ سب ھمارے سامنے ھے ، بابری مسجد کے تعلق سے مؤرخ لکھےگا بھارت میں کروڑوں معبودوں کی پرستش کرنے والے متحد ہوگئے اور ایک کو ماننے والے منتشر ہوگئے

اے آر سرسیاوی
سرسیہ ،سمستی پور بہار