اسلامی اسکالر مولانا شیر محمد امینی کی والدہ کا انتقال

16

نوائے ملت نیوز میوات ( مبارک میواتی آلی میو )

علاقہ میں غم کی لہر

مدرسہ ابی بن کعب تحفیظ القرآن گھاسیڑہ کے مہتمم مولانا شیر محمد امینی کی والدہ کا تقریباً نوے برس کی عمر میں انتقال ہوگیا جس سے مولانا کے گھر تعزیت کرنے والوں کا سلسلہ جاری ہے، انکی وفات جمعہ کے روز مغرب سے قبل ہوئی.

مرحومہ کی عمر کم و بیش 90 سال تھی آپ نہایت دین دار، پارسا، پاکدامن خاتون تھی.

آپ کی زندگی عبادت و ریاضت میں گزری، زندگی بھر قرآن کی تلاوت اور اوراد و وظائف کی حد درجہ پابند رہی.صوم و صلاة کا اہتمام زندگی بھر رہا، آپ نے اپنی اولاد کو علوم دینیہ سے آراستہ و پیراستہ کیا.

آپ کی اولاد میں بڑے صاحبزادے حضرت مولانا شیر محمد امینی،مولانا فتح محمد، مولانا شہاب الدین ربانی، حافظ دین محمد، حاجی شیر علی ہیں. آپ کے بڑے صاحبزادے مدرسہ ابی بن کعب کے مہتمم مولانا شیر محمد امینی صاحب نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جمعہ کے مبارک دن اپنے حضور بلایا اور آخری کلمہ والدہ ماجدہ کا کلمہ طیبہ تھا جو کہ ہر مؤمن کی تمنا ہوتی ہے،مولانا نے بتایا کہ ہماری دینی تعلیم سے وابستگی ہماری ماں کی دعاؤں کے صلہ کے سوا کچھ نہیں. نمازِ جنازہ دیر رات دس بجے عید گاہ کے قریب قبرستان میں مولانا شیر محمد امینی نے ادا کرائی، جس میں میوات و دہلی کے علماء نے بڑی تعداد میں شرکت کی. نمازِ جنازہ سے قبل مفتی زاہد حسین صاحب نے موت و آخرت پر گفتگو فرمائی، مسلسل تعزیت کرنے والے مرحومہ کے پسماندگان کو دور دراز سے تعزیت کرنے پہنچ رہے ہیں. پسماندگان میں مولانا شیر محمد امینی،مولانا شہاب الدین ربانی،مولانا فتح محمد، حافظ دین محمد،حاجی شیر علی،مفتی طلحہ،مولانا حمزہ،

مفتی یوسف مہتمم مدرسہ کامینڈہ،مفتی عارف دہلوی ہیں، تعزیت کنندگان میں شیخ الحدیث مولانا اسحاق اٹاوڑی، مفتی زاہد حسین صاحب،مفتی سعید مالب،مولانا راشد قاسمی میل کھیڑلا، مولانا ارشد صاحب میل کھیڑلا،مولانا اسجد صاحب میل کھیڑلا،مفتی ابراہیم سوڑاکا، مفتی ضیاء الحق صاحب قاسمی،مفتی تعریف سلیم ندوی،مولانا عابد ندوی فریدآباد،مولانا صابر قاسمی،حاجی اسماعیل کاٹپوری، ارشد اڈبر،چودھری آفتاب ممبر اسمبلی نوح، اشرف سرپنچ نوح،مولانا اسلم معینی آلی میو،ولی پارشد، جمیع علماء گھاسیڑھ اور ان کے علاوہ دیگر علاقہ کے معزز افراد کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے