دلتوں کو سرکاری ہینڈ پمپ سے پانی بھرنے سے روکا گیا۔

17

دلتوں کو (اطہر جاوید ندوی : روزنامہ نوائے ملت) سرکاری ہینڈ پمپ سے پانی بھرنے سے روکا گیا۔

نہیں ماننے پر لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹا ۔

پتہ نہیں اس ملک کے دلت اور پسماندہ طبقات کے لوگ کب ہوش میں آ ئیں گے ۔ہمیشہ کی طرح اب بھی وہ اکثریتی طبقہ کے ظلم وستم کے شکار ہیں ۔ انہیں استعمال تو کیا جاتا ہے مگر عزت نہیں دی جاتی ہے۔ مسلموں اور عیسائیوں کے خلاف سب سے زیادہ اسی ورگ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ خاص کر دلتوں پر تو ہر طبقہ ظلم کرنے پر تلا ہے ۔ پہلے اونچی ذات کے لوگ دلتوں کا استحصال کرتے تھے ۔ مگر اب نچلی ذات کے لوگ بھی دلتوں کے ساتھ ظلم پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

تازہ مثال باندا ضلع کے تیندورا گاؤں تھانہ بساندہ کی ہے۔

باندا ضلع کے ایک گاؤں میں دلت شخص کو صرف اس وجہ سے مارا پیٹا گیا کہ وہ گاؤں کے یادو اکثریتی محلہ میں بنے سرکاری ہینڈ پمپ سے پانی بھرنے گیا تھا۔

بساندہ پولیس اسٹیشن میں درج ایک ایف آئی آر میں رام چندر رائے داس نے الزام لگایا ہے کہ صبح کے وقت یہاں تیندورا گاؤں میں سرکاری ہینڈپمپ سے پانی لینے گئے تو رام دیال یادو کے کنبہ کے افراد نے ان پر لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔

ذرائع کے مطابق حملے میں رائے داس زخمی ہوگئے تھے۔ اور انہیں ایک ابتدائی صحت مرکز میں داخل کرایا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ جمعہ کے روز اترپردیش کے باندا ضلع کے ایک گاؤں میں ایک 45 سالہ دلت شخص کو پیٹا گیا ، جنھیں مبینہ طور پر حکومت کی طرف سے لگائے ہینڈپمپ کے استعمال پر اعتراض کرنے والے افراد نے ڈنڈوں سے پیٹا۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ رائےداس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ دو ماہ قبل ملزمان نے یادو برادری کے علاقے میں نصب ہینڈپمپ سے پانی لینے پر پابندی عائد کردی تھی لیکن سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی مداخلت کے بعد معاملہ حل ہوگیا تھا۔پولیس افسر نے بتایا کہ اس معاملے میں تفتیش جاری ہے۔