دوستی دین کی نسبت پر کیجیے،مفتی ہمایوں اقبال ندوی

16

دوستی دین کی نسبت پر کیجیے،مفتی ہمایوں اقبال ندوی
ایک واقعہ جو ابھی رونما ہوا ہے چونکا دینے والا ہے،ایک ایمان والے کی عجیب وغریب داستان ہے،بات دوستی سے شروع ہوتی ہےاورشادی تک پہونچ جاتی ہے،پھر دوبچے بھی تولد ہوئے ہیں،اب وہ بندہ ایمان سے بھی چلا گیا ہے،اپنانام بھی بدل چکا ہے،اورمذہب بھی،اسی لئے کہتے ہیں کہ عشق کی کوئی انتہا نہیں ہے،اس کی ابتدائی حالت کو رغبت کہتے ہیں،پھریہ طلب میں بدل جاتی ہے،اس کے بعدمحبت بن جاتی ہے،جب یہ محبت شباب کو پہونچتی ہے تو عشق کہلاتی ہے،انسان اس مقام پر بے خود ہوجاتا ہے اور اپنی دنیا کے ساتھ آخرت بھی برباد کر لیتا ہے ،وہ اس لئے بھی کہ عشق کی کوئی انتہا نہیں ہے،بقول غالب
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
ہرچند کہ اس شعر میں عشق حقیقی مراد ہے، یہ عشق الہی ہے،جس کی کوئی منتہی نہیں ہے،اہل اللہ کے یہاں دراصل عشق اسی کا نام ہے اور یہی عشق حقیقی بھی ہے۔دوسری قسم عشق کی جو مذکورہ واقعہ میں مذکور ہے،جسے ادبا ودانشوران عشق مجازی سے تعبیر کرتے ہیں، شریعت کی زبان میں یہ عشق نہیں ہے بلکہ فسق ہے،اس عشق کا کرنے والا وہ عاشق نہیں کہلایاجاسکتابلکہ وہ فاسق کہلاتا ہے،اس کا مطلب ایسا شخص کھلم کھلا شرعی احکام کی خلاف ورزی کرنے والا اور باغی ہے،قرآن کریم میں یہ شارع نے واضح کردیا ہے کہ:اے محبوب!ہم نے کسی انسان کے سینے میں دودل نہیں بنائے "(قرآن ) اس کا مطلب یہ ہے وہ ایک دل کو ایک ہی کے لئے خاص کر لے،دو نہیں ہیں کہ ایک مجھے دے اور دوسرا نفس وخواہش کی نذر کردے، ،شریعت اسلامیہ میں عشق سے روکا گیا ہے اور نہ دوستی سے،مگر اس کی حد بندی کردی گئی ہے کہ کس سے دوستی کی جاسکتی ہے اور دوستی کا مطلب کیا ہے اور اس کا منطقی انجام کیا ہوتا ہے،بظاہر اس واقعہ سے حیرت اور تعجب اور افسوس ہم سبھوں کو ہورہا ہے،ایساواقعہ بہت ہی شاذ ہے، ایک آدمی اپنے ایمان کا سودا کسی بھی حال میں نہیں کرتا ہے،اپنی جان سے زیادہ عزیز ایمان کو مانتا ہے،اسلامی تاریخ اس پر گواہ ہے،مگر شریعت اسلامیہ میں یہ واقعہ قابل تعجب نہیں ہے،ابوداود شریف کی حدیث میں فرمان رسول ہے کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر چلا جاتا ہے،اس لئے ہر ایک کو دوستی کرنے سے پیشر یہ دیکھ لینا ہے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے”(ابوداود )
اس واقعے میں ابتدا دوستی سے ہوئی ہے،گویا یہیں سے مبتلا بہ کا دین کے معاملہ میں اپنی گرل فرینڈ سے سمجھوتہ ہوگیا ہے کہ اسے اپنے فرینڈ کاہی دین پسند ہے،چہ جائے کہ اس مرد ناداں کی شادی پر گفتگو کی جائے،شادی کے تعلق سے بھی بخاری شریف کی حدیث میں پہلے نمبر پر دین کو دیکھنے کی بات کہی گئی ہے،ایک ایمان والے کی شادی غیر ایمان والے سے قران وحدیث کی روشنی میں کسی بھی حال میں نہیں ہوسکتی ہے،اگر کہیں ایسا واقعہ ہوتا ہے وہ شادی نہیں ہے دراصل یہ ایمان کی بربادی ہے،مذکورہ واقعہ بھی اس کی بڑی دلیل ہے،یہ سب مخلوط تعلیم کی بھی دین ہے،آج کی تاریخ میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے نام پر تماشہ ہورہاہےاور ایمان کا دیوالیہ نکل رہا ہے،اس کی پوری ذمہ داری شریعت اسلامیہ ایک گارجین پر ڈالتی ہے،قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے:”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو،اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو ایسی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں "(سورہ تحریم)
اپنے بچوں کی ایسی چیزوں سے بچانا جو ایمان کی بربادی اور دوزخ کے عذاب کا ذریعہ بن جایا کرتی ہیں والدین کی ذمہ داری ہے،کہیں دیر نہ ہوجائے،اور اس جیسا منحوس کوئی دوسرا واقعہ رونما نہ ہو جائے،اس عنوان پر سخت نوٹس لینے کی ضرورت ہے،ہمیں خود اپنے اور اپنے بال بچوں کے فرینڈ لسٹ کی تحقیق کرلینی ہے اور دوستی دین کے نسبت پر ہی کرنی ہے،ایک مرد کا دوست مرد ہی ہوسکتا ہے،ایک اجنبی عورت مسلمان کا دوست نہیں ہوسکتی ہے،دوستی اور محبت اسلام میں ایک ایسی عبادت کا نام ہے جس کے کرنے سے خدا کی محبت دونوں کے لئے واجب ہوجایا کرتی ہے،موطا شریف کی روایت ہے:ابوادریس خولانی فرماتے ہیں کہ:میں دمشق کی جامع مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک صاحب ہیں جنکے دندان مبارک چمکتے ہوئے ہیں،اور لوگوں کا ایک بڑا مجمع ان کے اردگرد ہے،سبھی ان سے مراجعت کررہے ہیں،میں نے ان کے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ جلیل القدر صحابی رسول حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں،پھر آئندہ کل میں جلدی مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ مجھ سے قبل وہاں موجود ہیں اور نماز میں مشغول ہیں،میں نے انتظار کیا،حضرت نے نماز مکمل کی،میں سامنے سے جاکر سلام کیااور یہ کہا:بخدا مجھے آنجباب سے محبت ہے،حضرت نے استفسار کیا کہ اللہ کے لئے ہے؟میں نے کہا کہ اللہ کے لئے ہے،پھر حضرت نے دوبارہ پوچھا کہ اللہ کے لئے ہے؟میں نے کہا کہ اللہ کے لئے ہے،حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر سے مجھے اپنی جانب کھینچ لیا اور کہا کہ بشارت ہو،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے،باری تعالی کا ارشاد ہے،میری محبت ان دونوں لوگوں کے لئے واجب ہوجاتی ہے جو میرے لئے دوستی کرتے ہیں،ہم نشینی کرتے ہیں،ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے ہیں،اور باہم شیر وشکر ہوتے ہیں ۔
آئیے ہم سب بھی ایسی محبت اور دوستی کے لئے خود کو تیار کرلیتے ہیں،جو خدا ورسول کی محبت کی ضمانت ہے،اور ایسی ہر دوستی سے توبہ کرتے ہیں جو دنیا وآخرت کی تباہی وایمان کی بربادی کا ذریعہ ہے۔