ہندوستان میں رہنے والے ہر ایک شہری کا یہ خواب ہے کہ ہمارا ملک ہندوستان ایک ایسا ملک ہو جس میں ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہو ۔یہاں کے رہنے والو ں کی زندگی ایک میعاری زندگی ہو،تعلیم کا بول بالا ہو ۔غربت اور افلاس کا خاتمہ ہو،بچے کو میعاری غذا ملے تاکہ وہ ایک صحت مند زندگی کے ساتھ پلے بڑ ھیں اور ملک کے فروغ میں اپنا اہم کردار نبھا سکیں ،مذہبی روا داری ہو ،سماجی انصاف ہو، تاکہ سب کو آگے بڑھنے اور عزت کے ساتھ جینے کے موا قعے فرا ہم ہو سکے۔ کیوں کہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس ملک کی عوام ہوتی ہے ۔اور ملک کی ترقی عوام کی ترقی پر منحصر ہے ۔عوام بیدار ہونگے ،صحت مند اور تعلیم یافتہ ہونگے تبھی وہ ملک کی خدمت بہتر ڈھنگ سے کر پائیں گے ۔عوام کے اندر افلاس و غربت ہوگی انکی میعار زندگی بہتر نہیں ہونگی اور زندگیوں میں چین و سکون نہیں ہوگا تو وہ ایک اچھے شہری کا کردار نہیں نبھا سکتے ہیں اور ملک کی ترقی میں حصّہ نہیں لے سکتے۔

 

ابھی جو ملک کے حالات ہیں یقینی طور پر ہمارے ملک کے سامنے کئی چیلنجیز ہیں ۔ایک طرف تو کرونا جیسی عالمی وبا کا سامنا ہے تو دوسری طرف ہمارے پڑوسی ممالک کا طرز عمل ہے جو ہمیں مزید نقصان کی طرف ڈھکیلنا چاہتا ہے ۔عالمی معیشت کا بھی برا حال ہو رہا ہے جس کے اثرات یقینی طور پر ہمارے ملک پر پڑ رہے ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ہمارے ملک کے حالات دنیا کے کئی ممالک سے بہت بہتر ہیں ۔جس کی سب سے بڑی وجہ یہاں کے عوام کی مشترکہ کوشش ہے ۔لیکن مستقل بڑھتے مصا ئب عوام کو دھیرے دھیرے کمزور کر دیتے ہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے ۔

کچھ عرصہ پہلے تک کی یہ بات تھی کہ جب گھر سے باہر نکلنا ہوتا خاص کر بڑے شہروں میں تو کچھ عجیب سی خوشی کا احساس ہوتا دل و دماغ یہ سوچ کر مسرور ہوتا تھا کہ دنیا کی ترقی کے ساتھ ہمارا ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔خوش لباس لوگ ،چہرے پر شگفتگی کے آثار سب کے سب اپنی زندگی کی جدوجہد میں مصروف نوجوانوں کے اندر اپنے مستقبل کو سنوار نے کا جنون اور ساتھ ساتھ زندگی کے بارے میں ایک ترقی پسند سوچ یہ سب دیکھ کر ایک امید سی دل میں ہوتی تھی کہ چلو آنے والی نسل اپنے آپ کو سنوار نے میں لگی ہے اور ایک نہ ایک دن ہمارا ملک بھی دنیا کی ترقی میں ایک اہم رول ادا کرے گا ۔

لیکن پچھلے کچھ دنوں سے کرونا کی وجہ کر جس تیزی سے دنیا کے حالات جسکی وجہ کر بدلے ہیں کچھ عجیب سی تفکر نے جنم لیا ہے جو دل و دماغ کو پریشان کئے دیتا ہے۔جسے شاید ہماری ترقی کو کس کی نظر لگ گئی کل تک جو ترقی کا موسم تھا آچا نک ایک افسردگی کے ماحول میں تبدیل ہوتا نظر آتا ہے اور غیر یقینی کے ماحول نے جنم لے لیا ہے جس کے کئی وجوہات ہیں ۔

لیکن پھر بھی ہمیں نا امید نہیں ہونا ہے اور امید کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہنا ہے اور سبھو ں کو اپنے طور پر کوشش جاری رکھنی چاہئے ۔ویسے تو سبھی میدان اہم ہیں مگر ان سب میں جو سب سے اہم ہے وہ تعلیم کا میدان ہے عوام کے ساتھ ساتھ حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ جلد سے جلد تعلیمی نظام پھر سے بحال ہو ۔حکومت بھی اس میدان میں خاص دلچسپی رکھتی ہے اس لئے مرکزی حکومت نے ملک کے لئے ایک نئی تعلیمی پالیسی کا بھی اعلان کیا ہے۔ جس کے تحت تعلیم کے میدان میں کئی اہم تبدیلیوں کو لایا گیا ہے۔وقت اور حالات کے ساتھ یہ ضروری بھی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہو جس کے ذریعہ ہمارے طلبا کا مستقبل روشن ہو اور وہ دنیا کے بدلتے ہوئے نظام کے ساتھ ساتھ خود کو بھی اس کے لئے تیار کر سکیں ۔

آج مقابلہ زیادہ بڑا ہے اس لئے طلبا و طالبات کو سخت محنت اور صحیح گائیڈ لائن کی ضرورت ہے ۔

ابھی چند دن پہلے سی بی ایس سی سرودے اسکول کیمپس کی چھبسو یں قومی سالانہ کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز ی وزیر تعلیم ڈاکٹر رمیش پوکھر یال نشنک نے کہا ہے کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی ہندوستان کے ہر طبقے ،ہر علاقے ،ہر طالب علموں اور ہر کونے کو یکساں اور جامعے، تعلیم فراہم’ کرنے کے مقصد کے ساتھ وجود میں آئ ہے ۔بےشک یہ ایک اچھا عمل ہے اس کی قدر ہونی چاہئے لیکن تعلیم کے ساتھ ساتھ تمدن بھی معاشرے کے لئے بہت اہم ہے ہمارے ملک کا ایک کلچر ہے اور وہ ہے محبّت اور بھائی چارگی اس کی طرف بھی خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔

دوسرا اہم میدان معاشیات کا ہے اس دور کے بارے میں ہم عام طور سے یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ معاشیات کا دور ہے اور یہ ایک حد تک صحیح بھی ہے کہ آج کا انسان بنیاد ی طور پر معاشی انسان بن کر رہ گیا ہے ۔اجتما عیات انسانی میں بھی یقیناً معاشیات اور اقتصادیا ت کو بنیاد ی اہمیت حاصل ہے۔ابھی کے جو حالات ہیں اس میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ معیشت کا بنیادی ڈھانچہ بھی اس وبا کی وجہ کر متاثر ہوا ہے ۔اور ہر کوئی معاشی مسائل کا حل ڈھونڈ نے میں لگا ہوا ہے ۔ملک کی ایک بہت بڑی آبادی اس کے زد میں ہے ۔جس کے اثرات نمایا ں ہیں ۔اگر بر وقت اس کا حل نہیں نکلتا ہے تو خطرہ یہ ہوا ہے کہ ایک بڑی آبادی بالکل حیوانوں کی سطح پر زندگی بسر کرنا شرو ع کر دیتا ہے ۔جس کے لئے کسی اعلی سوچ ،فکر یا خیال کا امکان ہی باقی نہیں رہتا اور اکثر یت اس کے لئے مجبور ہو جاتی ہے کہ وہ دو وقت کی روٹی کے لئے جان گسل محنت میں صبح سے شام تک مصروف رہے ۔اسے پھر اتنی فرصت کہاں ہوتی ہے کہ زندگی کے اعلی مقاصد کی طرف متو جہ ہو اور انسانیت کے مقصد کو پورا کرے ۔

اس لئے اگر ہمیں خود کفیل بننا ہے تو سب سے پہلے ان دونوں میدانوں میں سخت محنت کرنی پڑے گی جس کی کامیابی بہت حد تک اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ ہمارے پاس جو وسا ئل ہیں اس کا صحیح صحیح استعمال ہوخاص کر جو بنیاد ی وسائل ہیں ۔اس کا بیجا استعمال نہ ہو ۔ہر شہری کو اس بات کا خاص خیال رکھنا پڑیگا ۔جیسے اگر پانی ہے تو پانی کا استعمال ضرورت کے مطابق ہونا چاہئے اکثر دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ مناسب رکھ رکھاؤ نہیں رہنے کی وجہ کر پینے کا صاف پانی یونہی برباد ہوتا رہتا ہے ،سینکڑوں ٹن آناج گدا موں میں سڑ گل کر برباد ہو جاتے ہیں ۔کوئی پارٹی ہوتی ہے تو وہاں بھی کھانے کی برباد ی کا نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔کہنے کو تو یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں مگر یہی انسانی عادت ،سماجی عادت پر گہرے نقوش چھوڑتی ہیں اور ہر کوئی دھیرے دھیرے فضول خرچی میں مبتلا ہو جاتا ہے جو ایک بہت بڑی سماجی بیماری ہے جو دھیرے دھیرے انسان کو حرام خوری اور بے ایمانی کے دلدل میں پھنسا دیتا ہے ۔اور سماج میں کرپشن جیسی وبا عام ہو جاتی ہے جو ملک اور سماج کے لئے ایک بہت بڑی بیماری ہے ۔اس لئے اگر ہمیں ترقی کرنی ہے اور ملک کو خود کفیل بنانا ہے تو ان سب چھوٹی چھوٹی باتوں پر خاص خیال رکھنا ہوگا اور سماج تبدیلی کی ایک تحریک چلانی پڑے گی ۔عام لوگوں کو اس بات کے لئے ذہنی تربیت کرنی پڑے گی کہ وہ فضول خرچی سے بچیں کیونکہ آج کل کے حالات میں ہر کوئی کا مقصد حیات صرف کمانا اور خرچ کرنا بن کر رہ گیا ہے ۔اس جد و جہد میں انہیں اس سے آگے نہ تو سوچنے کی فرصت ہے اور نہ ذہن میں کوئی خیال ۔بس وہ اپنی زندگی میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ۔سماج اور ملک کے بارے میں انہیں سوچنے کی فرصت کہاں؟